30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر بندہ اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّکے اَوصاف و اَخلاق کا ہی شُکْر ادا کرے تو وہی اس کے لیے کافی ہے کیونکہ اس کے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کے اَخلاقِ حمیدہ ایسے ہیں کہ اس کے جُود و کَرَم کی کوئی اِنتِہا ہے نہ اس کے حِلْم و فضل کی کوئی حَد۔پس جو پروردگار عَزَّ وَجَلَّان عُمدہ اَخلاق اور صِفاتِ حُسنیٰ سے مُتَّصِف ہو تو بندوں پر ویسے ہی یہ لازِم ہو جاتا ہے کہ وہ اس کا شُکْر صِرف اس کی ذات کی وجہ سے ادا کریں اور اس کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے اور اس کے اَفعال کی وجہ سے اس کا شُکْر ادا نہ کریں کہ یہ محبین کا ذِکْر ہے۔
عارِفین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جن صِفات اور اَخلاقِ حَمیدہ کی مَعْرِفَت حاصِل ہے اگر یہ نہ ہوتی تب بھی ضَروری تھا کہ بندے جو کام بھی کرتے ہر حال میں اسی کی حَمد بجا لاتے اور اسی کا شُکْر ادا کرتے جیسا کہ وہ اپنی ذات کی وجہ سے اس حَمد کا اَہْل اور مُسْتَحِق ہے۔ہونا بھی یہی چاہئے کہ اس کی حَمد اس کی ذات کی وجہ سے ایسے ہی کی جائے جیسا کہ اس کے کَرَم کی وجہ سے کی جاتی ہے۔کیونکہ وہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے جیسا اب ہے اور وہ اپنی تمام صِفاتِ کامِلہ و اَخلاقِ حمیدہ اور اَسْمائے حُسنیٰ کے اِعْتِبَار سے ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔
اس بات کی مَعْرِفَت عارِفین کا شُکْر اور اس کا مُشاہَدہ مُقرّبین کا مَقام ہے۔ ان لوگوں کا شُکْر بجالانا ذاتِ باری تعالیٰ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کی پُکار تحمید و تقدیس (یعنی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور سُبْحٰنَ اللہ)پر مُشْتَمِل ہوتی ہے تو یہ نیک اَعمال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عَظَمت و بُزرگی کی وجہ سے سر اَنْجَام دیتے ہیں اور یہ بس صِفات کی تجلّی اور ذاتِ باری کے مَعانی کے مُشاہَدہ کی دولت مانگتے ہیں۔ ان اَوصاف کو کَمَا حَقُّہٗ بیان کیا جا سکتا ہے نہ ان کی کوئی عقلی توضیح و تشریح مُمکِن ہے،بلکہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان کے مُشاہَدے میں داخِل ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے کلام کے راز کا مُشاہَدہ پانے والے شخص سے کچھ یوں اِرشَاد فرمایا:
لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌۚ- (پ ۲۵، الشورٰی:۱۱) ترجمۂ کنز الایمان:اس جیسا کوئی نہیں۔
قربِ خداوندی پر اظہارِمُوسَوِی
اسی مُشاہَدے کی وجہ سے حضرت سَیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو رَبُوبِیَّت پر رشک ہوا اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام قُرْب کے مُشْتَاق ہوئے، جب قُرْب ملا تو بلا تکلّف عَرْض کرنے لگے:اے میرے پروردگار! میرے پاس جو کچھ ہے وہ تیرے پاس نہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دَرْیَافْت فرمایا: اور وہ کیا ہے؟ عَرْض کی:میرے لیے تَو اے میرے پروردگار تیرے جیسا مالِک ہے مگر تیرے پاس تیرے جیسا کوئی اور نہیں۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا:تو نے سچ کہا۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی اس قول کی وَضَاحَت میں فرماتے ہیں) یہاں حضرت سَیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی مُراد یہ تھی کہ اے میرے پروردگار! میرے پاس تُو ہے کہ جس کے اَوصاف طَلَب کرنے والوں کی غایَت ہیں اور رَغْبَت رکھنے والوں کے لیے ان سے بڑھ کر اور کچھ نہیں مگر تیرے پاس تیرے جیسا کوئی نہیں کیونکہ تیری مِثْل کوئی ہے نہ تیرے سوا کوئی معبود ہے۔
خیر کا حُصُول اور شر سے دوری نعمت ہیں
نعمتوں میں غور و فِکْر کرنے سے مَعْلُوم ہو گا کہ اُن صُورتوں میں بھی شُکْر کرنا لازِم ہے جن سے آپ کو دُور کر دیا گیا اور دنیا کی فُضُولیات سے بچا لیا گیا کیونکہ اس حالَت میں بَہُت کم دنیا کی مشغولیت ہوتی ہے اوراس کے اِہتِمام کی بھی بَہُت کم حاجَت پیش آتی ہے جس کی وجہ سے روزِ قِیامَت حِساب بھی آسان ہو گا۔ اس لیے کہ جس شخص کو دنیا (یا اس کی مَحبَّت)میں مبتلا کیا گیا وہ اس میں کھو کر باقی ہر شے سے کٹ گیا۔ چنانچہ دنیا کا تم سے دُور ہونا اور دوسروں کا اس میں مبتلا ہونا دو۲نعمتیں ہیں جس پر دو۲شُکْر لازِم ہیں۔ اسی طرح جب آپ کسی ایسے شخص کو دیکھیں جو دین کے مُعامَلے میں مُنافقین کی صِفات سے آزمایا گیا ہو یا اس کے نَفْس کو مُتَکَبِّرین کے اَخلاق سے آزمایا گیا ہو یا وہ مذکورہ دونوں قسم کے اَشخاص کے اَوصاف کا حامِل ہو اور فاسِقین کے اَعمال میں مبتلا ہو تو ان میں سے ہر ایک کو خود پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نِعْمَت شُمار کرو کہ اس نے تمہیں ایسا نہیں بنایاکیونکہ تم بھی ایسے ہی ہوتے اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فَضْل و کَرَم تم پر نہ ہوتا۔
ہر وہ شَر جس کا رُخ کسی دوسرے کی جانِب ہو یا اسے نیکی سے روک دیا گیا ہو تواسے خود پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا اِنْعَام سمجھو کہ اس نے تمہیں نیکی کی توفیق عطا فرمائی اور اس شَر سے محفوظ رکھا۔ کیونکہ تمام نُفُوس بُرائی کا حکْم دینے میں ایک نَفْس کی طرح ہیں۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تم پر رحم فرمایا اور تمہیں بُرائی سے محفوظ رکھا کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا تم پر فَضْل ہے اور اس کی مَعْرِفَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شُکْر ادا کرنا ہے۔
مخلوق کی اکثر سزائیں ان کے نعمتوں پر کم شُکْر ادا کرنے کی وجہ سے ہیں اور شُکْر کی اس کمی کی اَصْل نِعْمَت سے نَاوَاقِفِیَّت ہے اور نِعْمَت سے نَاوَاقِفِیَّت کے اَسباب یہ ہیں:
٭…مَعْرِفَتِ باری تعالیٰ کی کمی ٭…مُنْعمِ حقیقی سے طویل غَفْلَت٭…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں میں عَدَمِ تَفَکُّر اور ٭…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے انعامات و احسانات کا عَدَمِ تَذْکِرَہ ۔حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس بات کا حکْم بھی کچھ یوں اِرشَاد فرمایا ہے:
فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۶۹)(پ ۸، الاعراف:۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو کہ کہیں تمہارا بھلا ہو۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر دوسری جگہ یوں فرمائی:
وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-(پ ۲، البقره:۲۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور وہ جو تم پر کِتاب و حِکْمَت اُتاری تمہیں نصیحت دینے کو۔
اسی مَفہوم میں ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۱۸۵) (پ ۲، البقره:۱۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہِدَایَت کی اور کہیں تم حَق گزار ہو۔
مُراد یہ ہے کہ ہِدَایَت کی نِعْمَت اور طَاعَت کی توفیق پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شُکْر بجا لاؤ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع