30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَقْت جان لینے کی بنا پر ان سے نیک اَعمال میں اِضافے کا شدید مُطالَبہ ہوتا اور ان کا عِلْم ہی ان کے خِلاف حُجّت بن جاتا۔ لہٰذا ان سے اس بات کو مَـخْفِی رکھا گیا تا کہ وہ نہ جاننے کا عُذر پیش کر سکیں اور وہ اس بات کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خاص لُطْف و کَرَم سمجھیں کہ اس نہ جاننے کی وجہ سےان کا حِساب نہ ہو گا۔
صالحین کا عام لوگوں سے مخفی ہونانعمت ہے
ایک نِعْمَت یہ بھی ہے کہ جہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندوں سے پوشیدہ ہے وہیں بعض بندے بھی بعض سے حِجاب میں ہیں بلکہ بعض تو عُلَما و صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین سے بھی پوشیدہ ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کبھی ان پوشیدہ بندوں کی طرف مُتَوجّہ نہ ہوتے۔ اس کے علاوہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بعض اَوْلِیاو صُلَحا کا بھی عام لوگوں سے پوشیدہ ہونا ایک نِعْمَت ہے، اس لیے کہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ عام بندوں پر ایسی نِشانیاں ظاہِرفرما دیتا جس کے سَبَب اس کے خاص بندے پہچانے جاتےیہاں تک کہ جاہِل لوگ بھی یقین کر لیتے کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے وَلی اور اس کے مُقرَّب ہیں تو ان پر اِحسان کرنے والوں کا ثواب خَتْم ہو جاتا اور وہ ان کے اِحسان کو قبول کرنے سے بھی مَحْرُوم ہو جاتے، یوں ان کا بُرا چاہنے والوں کے اَعمال بھی برباد ہو جاتے اور اس پوشیدگی اور حِجاب کی صُورت میں ان کے لیے خیر و شر کا عَمَل کرنے والے رِجا اور حُسْنِ ظَن بِالْغَیب یعنی یقین کے حِجاب میں ہونے کی بنا پر کچھ نہ جان پاتے۔ چنانچہ انہیں تکلیف پہنچانے والوں کی سزاؤں کو مؤخر کر دیا گیا کیونکہ ان پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مُقرّبین کی یہ شان مَـخْفِی ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں کس مرتبہ کے حامِل ہیں۔
نیز یہ پوشیدگی صالحین کے لیے بھی ایک بَہُت بڑی نِعْمَت ہے کہ اس میں ان کے دین کی سلامتی اور فتنوں میں کمی ہے۔اس کے علاوہ ان کی حُرْمَت کو پامال کرنے والوں اورر شَعَائِرُ الله کو حقیر سمجھنے والوں کے اِعْتِبَار سے بھی یہ پوشیدگی ایک بَہُت بڑی نِعْمَت ہے۔ کیونکہ انہوں نے ان کے حِجاب میں ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ بُرا سلوک کیا اور یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا پوشیدہ لُطْف و کَرَم ہے۔
حُضُور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِرشَاد فرماتا ہے:جس نے میرے کسی ولی کو اَذِیَّت دی گویا اس نے مجھے جنگ کی دعوت دی، پھر میں اپنے ولی کا بدلہ لوں گا اور اس کی نُصْرَت کسی دوسرے کے حوالے نہ کروں گا۔[1]
حضرت سَیِّدُناجعفر صادِق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالرَّازِق اور دیگر بٌزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین سے ان نعمتوں کے مُتَعَلّق مروی ہے جن کے مَـخْفِی ہونے کی وجہ سے ہم پر شُکْر لازِم ہے۔ فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تین۳چیزوں کو تین۳میں پوشیدہ فرمایا ہے:
(1)۔۔۔۔۔اپنی رَضا کو اپنی فرمانبرداری میں ۔ لہٰذا اس کی فرمانبرداری والے کاموں میں سے کسی کو بھی حقیر نہ جانو، ہو سکتا ہے کہ اس کی رَضا اسی میں مَـخْفِی ہو۔
(2)۔۔۔۔۔اپنے غَضَب کو اپنی نافرمانی میں۔ لہٰذا اس کی نافرمانی والے کسی کام کو ہلکا نہ سمجھو، ہو سکتا ہے کہ اس کا غَضَب اسی کام میں مَـخْفِی ہو۔
(3)۔۔۔۔۔اپنی وِلایَت کو اپنے مومِن بندوں میں۔ لہٰذا کسی کی بھی توہین نہ کرو، ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ولی ہو۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) یہ ایسے ہی ہے کہ کسی نے لاعلمی میں کسی نبی کو تکلیف پہنچائی اس سے پہلے کہ اسے معلوم ہوتا یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں اور اللہ نے انہیں مرتبۂ نبوت پر فائز فرمایا ہے، لہٰذا اس شخص کا گناہ اس شخص کے گناہ کے برابر نہیں ہو سکتا جس نے کسی نبی کی حُرْمَت کو پامال کیایہ جان کر بھی کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی ہیں۔
شاکِرین کے دو۲طریقے
شاکِرین کے دو۲طریقے ہیں جن میں سے ایک دوسرے سے افضل ہے۔
پہلا طریقہ اہلِ رِجا کا شُکْر ہے اور اس سے مُراد ظاہِری نعمتوں کی اُمِّید کی بنا پر بہترین عِبادَت کرنا ہے۔ اہلِ رِجا نے کامِل نعمتوں کی اُمِّید میں نیک اعمال کیے تو ان کا حال نیک اَعمال شُروع کرنے کی وجہ سے شُکْر کے طور پر ان نیکی کے کاموں کو جلدی جلدی پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہو گیا اور اس مُعامَلے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بھی انہیں اپنی باقی مَخلوق سے خاص فرما دیا۔
دوسرا طریقہ اہلِ خوف کا شُکْر ہے،یہ پہلے طریقے سے اَفضل ہے اور اس سے مُراد بُرے خاتِمہ کا
خوف اور تقدیر میں لکھی ہوئی بدبختی پانے سے ڈرنا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اس سے پناہ عَطا فرمائے۔
ان کا خوف ان کے نِعْمَتِ اِیمان پر رشک کی دلیل ہے اور ان کا رشک اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے دلوں میں اِسلام عظیم قَدْر و مَنْزِلَت اور عُمدہ مرتبے والا ہے، لہٰذا اس طرح ان پر نِعْمَت بھی عظیم ہو جاتی ہےجس کی مَعْرِفَت ہی ان کا شُکْر بجا لانا ہے، اس لیے خوف اور ڈر ان کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شُکْر اداکرنے کا طریقہ ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے ایک نِعْمَت قرار دیا ہے اور ہر نِعْمَت شُکْر کا تقاضا کرتی ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا (پ ۶، المائدة:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:دو۲مرد کہ اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے اللہ نے انہیں نوازا۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)مفسرین اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں خوف کی نِعْمَت سے نوازا۔ یہ اس کلام کی ایک تفسیر ہے۔
[1]………نوادر الاصول ، الاصل الثلاثون والمائتان ، ۲/ ۸۶۷ ، حدیث: ۱۱۶۲ ، بتغیر قلیل
بخاری ، كتاب الرقاق ، باب التواضع ، ۴/ ۲۴۸ ، حدیث: ۶۵۰۲ ، بتغیر ومختصراً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع