دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

ظاہِری و باطنی نعمتوں سے مُراد

ظاہِری نعمتوں سے مُراد جسموں کا عَافِـیَّت میں ہونا اور بقدرِ ضَرورت مال کا کافی ہونا ہے جبکہ ظاہِری گناہ سے مُراد جسمانی اَعْضَا کا نَفْس کی لذّت  والے کاموں میں مبتلا ہونا  اور باطنی گناہ سے مُراد دلوں کی عَافِـیَّت اور وعدوں کی سلامتی ہے، نیز باطِنی گناہ دل کے بُرے اَعمال ہیں مثلاً گناہوں پر اِصرار، بدگمانی اور بُری نِیَّت وغیرہ۔

عافیت اور شکر

حضرت سَیِّدُنا مُطرِّف بن عبداللہرَحِمَہُ اللہ فرماتے ہیں:مجھے عَافِـیَّت عَطا فرمائی جائے اور میں اس پر شُکْر ادا کروں یہ بات مجھے مصیبت میں مبتلا ہو کر صَبْر کرنے سے زیادہ پسند  ہے،کیونکہ عَافِـیَّت کا مَقام سلامتی کے زیادہ قریب ہے، لہٰذا میں شُکْر کی حَالَت کو صَبْر پر ترجیح دیتا ہوں کیونکہ صَبْر اہلِ اِبْتِلا کا حال ہے۔

حضرت سَیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے بھی ایسا ہی قول مَرْوِی ہے کہ وہ نیکی جس میں کوئی شَر نہ ہو اس سے مُراد شُکْر کے ساتھ عَافِـیَّت اور مصیبت کے وَقْت صَبْر ہے، کتنے ہی نعمتوں سے سرفراز ہونے والے لوگ ان نعمتوں پر شُکْر ادا نہیں کرتے اور کتنے ہی مصیبت کا شِکار لوگ صَبْر کا دامَن نہیں تھامتے۔ چنانچہ سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَرْوِی ہے کہ تیرا عَافِـیَّت میں رہنا مجھے زیادہ پسند ہے۔

آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےامیر المومنین حضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو جب یہ دُعا مانگتے سنا: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ الصَّبْرَ۔ یعنی اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ میں تجھ سے صَبْر مانگتا ہوں، تو اِرشَاد فرمایا:تو نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے مصیبت و آزمائش کا سوال کیا ہے،اس سے عَافِـیَّت کا سوال بھی کرو۔[1]

نیک اعمال بھی شکرہیں

نیک اَعمال بھی شُکْر کی ایک صُورَت ہیں۔ کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اور اس کے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عَمَل  کے ذریعے شُکْر  کی تفسیر فرمائی۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًاؕ- (پ ۲۲، سبا:۱۳)                                ترجمۂ کنز الایمان:اے داود والو شُکْر کرو۔

جب رات رات بھر قِیام کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قَدَمَین شریفین مُتَوَرّم ہو گئے اور لوگوں نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس قَدْر سخت مُجاہَدے کے مُتَعَلّق عَرْض کی تو اِرشَاد فرمایا:کیا میں شُکْر گزار بندہ نہ بنوں؟[2] پس آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عَمَلی طور پر یہ بتایا کہ مُجاہَدہ و حُسْنِ مُعامَلہ عَمَل  کرنے والے کا شُکْر اور مُنْعِم کی جزا ہے۔

قلبی اورعملی شکر

کسی عالِم کا قول ہے کہ قلبی شُکْر اس بات کی مَعْرِفَت  ہے کہ نعمتیں صِرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ہیں کسی اور کی نہیں۔ عَمَلی شُکْر سے مُراد یہ ہے کہ جب بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں کسی نیک عَمَل  کی توفیق عطا فرمائے تو تم اس عَمَل  کے شُکْر کے لیے کوئی دوسرا نیکی کا کام کرو۔ اس طرح شُکْر دائمی عِبَادَت سے مل جائے گا۔

شکر کی ابتدا

شُکْر کی اِبْتِدَا عارِفین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے نزدیک یہ ہے کہ کسی نِعْمَت کے ذریعے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی نہ کی جائے، (اگر ایسا کیا توگویا)اس نِعْمَت کو نفسانی خواہش کی پَیروی میں لگایا۔ لہٰذا شاکِرین کے شُکْر کا طریقہ یہ ہے کہ ہر نِعْمَت کے ذریعے اپنے مالِک عَزَّ  وَجَلَّکی طَاعَت کی جائے اور یوں نَفْس راہِ خُدا میں مَصروف ہو جائے کہ یہی شُکْر کا انداز ہے۔

شکر کی حقیقت

شُکْر کی حقیقت تقویٰ ہے اور یہ ان تمام عِبادات کو شامِل ہے جن کے بجا لانے کا حکْم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے  اپنے بندوں کو دیا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:

ٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۲۱) (پ ۱، البقرة:۲۱) ترجمۂ کنز الایمان:اے لوگو اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا یہ اُمِّید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے قرآنِ کریم میں ایک مَقام پر شُکْر کی حقیقت کو تقویٰ سے تعبیر فرمایا اور خَبَر دی ہے کہ تقویٰ ہی شُکْر ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:

فَاتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تَشْكُرُوْنَ(۱۲۳)(پ ۴، اٰل عمران:۱۲۳)

ترجمۂ کنز الایمان:تو اللہ سے ڈرو کہ کہیں تم شکرگزار ہو۔ 

مَقاماتِ شکر

شُکْر میں مُشاہَدے کے دو۲مَقام ہیں۔

شکر کا پہلامَقام

شُکْر کے دونوں مَقامات میں سے اعلیٰ مَقام شُکُور کا ہے اور اس سے مُراد وہ شخص ہے جو ناپسندیدہ باتوں، مصیبتوں، سختیوں اور تکلیفوں پر بھی شُکْر ادا کرتا ہے اور ایسا اس وَقْت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ ان نعمتوں کا مُشاہَدہ نہ کر لے جو صِدْقِ یقین اور حَقیقتِ زُہد کی بِنا پر اس پر شُکْر کو لازِم کرتی ہیں۔ یہ رَضا کا مَقام اور مَحبَّت کا حال ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے نبی حضرت سَیِّدُنا نوح عَلَیْہِ السَّلَام کا ذِکْر قرآنِ کریم میں انہی اَوصَاف سے فرمایا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:

اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا(۳) (پ ۱۵، بنی اسرائیل:۳)                ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ بڑا شُکْر گزار بندہ تھا۔

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں مَنْقُول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا نوح عَلَیْہِ السَّلَام ہر حَالَت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شُکْر



[1]………ترمذی ،  كتاب الدعوات ،  باب رقم:  ۹۳  ، ۵/ ۳۱۲ ، حدیث:  ۳۵۳۸ ، دون:   ذكر علی بن ابی طالب

الادب المفرد للبخاری ،  باب من سأل اللہ  العافیة  ،  ص۱۸۸ ،  حدیث:  ۷۲۵ ، دون:   ذكر علی بن ابی طالب

[2]………بخاری ،  كتاب التفسیر ،  الفتح ،  باب لیغف

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن