30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں اس پر مَوجُود حِجابات بھی اٹھا دے کہ یہ ایک مزید نِعْمَت ہے جو مَعْرِفَت و مُشاہَدۂ باری تعالیٰ کے حُصُول میں مفید ہے اور ان سب کا مَفہوم کَشْف و اِظْہَار ہی ہے۔
اَعْضَا کا شُکْر مُنْعمِ حقیقی اور فضل و کَرَم فرمانے والی ذات یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے یہ ہے کہ بندہ اس کی کسی بھی نِعْمَت کے ذریعے نافرمانی کا مُرْتکِب نہ ہو بلکہ اس کی فرمانبرداری کرنے اور نافرمانیوں سے بچنے کے لیے اس کی نِعْمَت سے مَدَد حاصِل کرے اور اگر اس نے ایسا نہ کیا تو یہ کُفْرَانِ نِعْمَت ہو گا۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا (پ ۱۳، ابراھیم:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نِعْمَت ناشکری سے بَدَل دی۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں مَنْقُول ہے کہ ان لوگوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کے ذریعے اس کی نافرمانیوں پر مَدَد چاہی۔مَخلوق اگرچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کسی نِعْمَت کو تبدیل کرنے پر قادِر نہیں مگر مُراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نِعْمَت کا شُکْر ادا کرنے کو ناشکری کے ساتھ بَدَل دیا۔
واضِح دلیل کی وجہ سے اس آیتِ مُبارَکہ کا یہ ایک پوشیدہ مَفہوم ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں نعمتوں کے ذریعے اپنی فرمانبرداری کا حکْم دیا مگر انہوں نے اس حکْم کی خِلاف ورزی کی اور نافرمانی کے مُرْتکِب ہوئے، گویا انہوں نے اس حکْم کو بَدَل دیا جو انہیں دیا گیا تھا۔ اسی کے مِثْل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان بھی ہے:
وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ(۸۲)(پ ۲۷، الواقعة:۸۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنا حصّہ یہ رکھتے ہو کہ جھٹلاتے ہو۔
یعنی تم اپنے رِزق کا شُکْر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسولوں کو جھٹلا کر ادا کرتے ہو۔ (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہاں عِبارت مَحْذُوف ہے جس کی وَضَاحَت و تفسیر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مروی ایک قرأت میں ہے۔ چنانچہ مَرْوِی ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاس آیتِ مُبارَکہ میں رِزْقَكُمْ کی جگہ شُکْرَکُمْ تِلاوَت فرمایا۔[1]
ایک مَقام پر ہے:
وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲۱۱) (پ ۲، البقرة:۲۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے تو بے شک اللہ کا عَذاب سخت ہے۔
مَطْلَب یہ ہے کہ جو کُفْرَانِ نعمت (یعنی ناشکری)کا مُرْتکِب ہو اسے سزا دی جائے گی کیونکہ اس نے نافرمانی کا اِرْتِکاب کر کے نِعْمَت کا شُکْر ادا نہیں کیا جس کا اِزَالہ اب سزا سے ہی ہو گا۔
اسی طرح ایک مَقام پر ہے:
وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ(۷)(پ ۱۳، ابراھیم:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر ناشکری کرو تو میرا عَذاب سخت ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں مَنْقُول ہے کہ اگر تم کُفْرَانِ نعمت کے مُرْتکِب ہوئے تو دنیا میں ہی اس کی سزا یہ پاؤ گے کہ تم پر نعمتوں کو عَذاب سے بَدَل دیا جائے گا اور یہ تبدیلی بطورِ ذِلّت و رُسْوائی ہو گی ۔ بسا اَوقات عَذاب مؤخر بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ(۶۵) (پ ۱۹، الفرقان:۶۵) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اسکا عَذاب گلے کا غُل (پھندا) ہے۔
مَنْقُول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان سے نعمت کے بدلے شُکْر کا مُطالَبہ کیا جوان کے پاس نہ تھا لہٰذا اس نے نِعْمَت کی ثمن (یعنی قیمت)کو ان کے گلے کا پھندا بنا کر انہیں جہنّم میں قید کر دیا۔
ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ- (پ ۲۱، لقمان:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہِر اور چھپی۔
دوسرے مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗؕ-(پ ۸، الانعام: ۱۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور چھوڑ دو کھلا اور چھپا گناہ۔
اس آیتِ مُبارَکہ میں ان عَقْل والوں کے لیے تنبیہ ہے جن تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان پہنچا۔انہیں چاہئے کہ وہ نصیحت حاصِل کریں اور ظاہِری گناہوں کو چھوڑ کر ظاہِری نعمتوں کا اور باطِنی گناہوں کو چھوڑ کر باطِنی نعمتوں کا شُکْر ادا کریں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع