30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُؕ- (پ ۲۵، الجاثیة:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں اپنے حکْم سے۔
(2) وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ-(پ ۲۱، لقمان:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہِر اور چھپی۔ [1]
نِعْمَت میں مُنعِم(یعنی نعمت عطا کرنے والے)کا مُشاہَدہ اور عَطا و بخشش کے وَقْت عَطا کرنے والے کے کَرَم کا ظُہُور اس وَقْت ہوتا ہے جب آپ اس بات کا یقین کر لیں کہ یہ نِعْمَت اور عَطا و بخشش اسی ذات کی جانِب سے ہےتو یہ دِل کا شُکْر ہے کیونکہ اہلِ شُکْر کے نزدیک شُکْر مَعْرِفَتِ قَلْب کا نام ہے، نیز یہ دل کی صِفَت ہے نہ کہ زبان کی۔ دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی اس کے مُتَعَلّق اِرشَادفرمایا اور حکْم دیا ہے کہ شُکْر ادا کرو اور دُنْیَاوِی اَمْوَال کے بجائے آخِرَت کا زادِ راہ تیار کرو۔چنانچہ،
حضرت سَیِّدُنا ثَوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ جب زمین میں دفن خزینوں کے مُتَعَلّق اَحْکام نازِل ہوئے تو امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عَرْض کی:ہم کونسا مال اِخْتِیار کریں؟ تو مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:تم میں سے ہر ایک کو ذِکْر کرنے والی زبان اور شُکْر ادا کرنے والا دِل اِخْتِیارکرنا چاہئے۔[2]
حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سَیِّدُناداود عَلَیْہِ السَّلَام کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے کہ آپ دونوں نے بارگاہِ خداوندی میں عَرْض کی:اے میرے رب! میں کیسے تیرا شُکْر ادا کروں؟ حالانکہ میں ہر لمحے تیرا شُکْر ادا کرتا ہوں جب تو مجھے مزید کسی نعمت سے سرفراز فرماتا ہے۔[3] ایک رِوایَت میں ہے کہ اے میرے مولا! تیرا شُکْر بجا لانا مجھ پر ایک ایسی نِعْمَت ہے جو مجھ پر تیرا شُکْر بجا لانا لازِم کرتی ہے۔تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی جانِب وَحِی فرمائی:جب تو نے یہ حقیقت جان لی تو یقیناً تو نے میرے شُکْر کا حَق بھی ادا کر دیا۔[4] ایک رِوایَت میں ہے کہ جب تو نے اس بات کی حقیقت کو جان لیا کہ ہر قسم کی نِعْمَت میری جانِب سے ہے تو میں تیرے شُکْر سے راضی ہوگیا۔[5]
زبان کے شُکْر سے مُراد ہے:
٭… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بہترین تعریف کرنا ٭… حَمد و ثنا کی کَثْرَت کرنا
٭… اس کے اِنعام و اِکرام کا اِظْہَار کرنا ٭… اس کے فضل و اِحسانات کا چرچا کرنا
٭… مالِک کی شِکایَت اس کی مخلوق سے
٭… اور بُزرگ و بَرتَر مَعْبُودِ بَرحَق کی شِکایَت اس کے کمزور بندے سے نہ کرنا
ایک رِوایَت میں ہے کہ دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص سے دَرْیَافْت فرمایا:کَیْفَ اَصْبَحْتَ؟ یعنی صُبْح کیسے کی اس نے عَرْض کی:بہتر۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سُوال دوبارہ پوچھا: کَیْفَ اَنْتَ ؟ یعنی تم کیسے ہو۔ اس نے پھر عَرْض کی: بہتر ہوں۔ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تیسری مرتبہ پھر اس سے پوچھا: کَیْفَ اَنْتَ ؟ یعنی تم کیسے ہو۔ عَرْض کی: بَہُت بہتر ہوں اور میں اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حَمد بجا لاتا ہوں اور شُکْر بھی ادا کرتا ہوں۔ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:میں یہی اَلفاظ تمہارے منہ سے سننا چاہتا تھا۔[6] یعنی حَمد وثنا اور شُکْر کا اِظْہَار۔
بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین جب بھی ایک دوسرے سے ملتے تو دوسرے کا حال اَحْوَال ضَرور دَرْیَافْت فرماتے تاکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حَمد و ثَنا کے ساتھ شُکْر بجا لائے اور یہ بھی اس مُعامَلے میں اس کے شریک بن جائیں کیونکہ وہ اس شخص کے ذِکْرِ الٰہی کرنے کا سَبَب بنے۔ (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) جس شخص کے مُتَعَلّق آپ کو معلوم ہو کہ جب آپ اس سے حال اَحْوَال پوچھیں گے تو وہ جواب میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَضا و قَدَر کا باربار ذِکْر کر کے گویا کہ شِکوہ کرے گا تو آپ اس سے حال اَحْوَال نہ پوچھیں تاکہ آپ اس کے شِکوے کا سَبَب بن کر اس کی جَہالَت میں برابر کے شریک نہ ہو جائیں۔ اس سے بڑھ کر بُرا بندہ کون ہو سکتا ہے کہ جو ایک بے اِخْتِیار بندے سے اپنے اس مولیٰ کی شِکایَت کرتا ہے جس کی مِثْل کوئی نہیں اور ہر شے کی بادشاہی اس کے دَسْتِ قُدْرَت میں ہے۔
شُکْر یہ بھی ہے کہ بندہ (ہر حال میں)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شُکْر بجا لائے خواہ اس کی نِعْمَت کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو کیونکہ حبیب کی جانِب سے ملنے والی تھوڑی سی شے بھی کثیر ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ حکیم ہے اور اگر وہ کسی کو نِعْمَت سے نہیں نوازتا تو اس میں اس کی کوئی حِکْمَت و قُدْرَت کارفرما ہوتی ہے۔ چنانچہ بندہ جب یہ جان لیتا ہے کہ باوُجُودِ قُدْرَت اسے
[1]………اس کے بعد کچھ عِبارت کا ترجمہ عوام کی سمجھ سے بالاتر ہونے کی وجہ سے نہیں دیا گیا۔ البتہ! صحابِ ذوق کی سُہُولَت کے لیے اَصْل عِبارت کِتاب کے آخر میں دیدی گئی ہے۔
[2]………ابن ماجه ، كتاب النكاح ، باب افضل النسآء ، ۲/ ۴۱۳ ، حدیث: ۱۸۵۶ ، بتقدم و تأخر
[3]………كتاب الشكر لابن ابی الدنیا ، ص۶۷ ، حدیث: ۵ ، ۶ ، بتغیر
الزھد للامام احمد ، اخبار موسی علیه السلام/ زھد داود علیه السلام ، ص۱۰۳/ ۱۰۷ ، حدیث: ۳۴۹/ ۳۷۵ ، بتغیر
[4]………المرجع السابق
[5]………الزھد للامام احمد ، زھد داود علیه السلام ، ص۱۰۷ ، حدیث: ۳۷۵
[6]………الزھد لابن مبارك ، باب ذكر رحمة اللہ ه ، ص
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع