دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

شکر پر انعام کی زِیادَتی

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے شُکْر پر مزید اِنعام کا قطعی وعدہ فرمایا ہے اور اس میں کسی قِسْم کا کوئی اِسْتِثْنَا نہیں فرمایا، البتہ! پانچ۵چیزیں شُکْر پر زِیادَتی سے مستثنیٰ ہیں یعنی غِنا، دُعا کی قبولِیَّت، رِزْق، مَغْفِرَت  اور توبہ۔ چنانچہ ان پانچوں کے مُتَعَلّق قرآنِ کریم میں مختلف مَقامات پر کچھ یوں اِرشَاد ہوتا ہے:

(1) فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَؕ-(پ ۱۰، التوبه:۲۸)

ترجمۂ کنز الایمان:تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے۔

 (2) فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ(پ ۷، الانعام:۴۱)

ترجمۂ کنز الایمان:تو وہ اگر چاہے جس پر اسے پکارتے ہو اسے اٹھا لے۔

(3) یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ (پ ۲، البقره:۲۱۲)           ترجمۂ کنز الایمان:جسے چاہے دے۔

(4) وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ- (پ ۶، المائده:۴۰)        ترجمۂ کنز الایمان:اور بخشتا ہے جسے چاہے۔

(5) ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُؕ- (پ ۱۰، التوبه:۲۷)    

ترجمۂ کنز الایمان:پھر اس کے بعد اللہجسے چاہے گا توبہ دے گا۔ 

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے شُکْر کے وَقْت بغیر کسی اِسْتِثْنا کے زِیادَتی کی مُہر لگا دی۔ چنانچہ اِرشَادفرمایا:

لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ(پ ۱۳، ابراھیم:۷)       ترجمۂ کنز الایمان:اگر اِحسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا۔

شاکِر پراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مزید اِحسانات  کی بارِش ہوتی ہے مگر شُکُور (یعنی بَہُت زیادہ شُکْر ادا کرنے والا)پر اس کَرَم نوازی کی کوئی حَد نہیں ہوتی کیونکہ وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی نِعْمَت پر بھی کثیر شُکْر ادا کرتا ہے اور ایک ہی نِعْمَت کے حُصُول پر بار بار اپنے پروردگار عَزَّ  وَجَلَّکی حَمد و ثَنا کے ساتھ ساتھ شُکْر بھی بجا لاتا ہے ۔

نعمت کی زِیادَتی سے مُراد

شُکْر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اَخلاقِ کریمانہ میں سے ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اسے اپنے اَسمائے حُسنیٰ میں سے ایک اِسْم قرار دیا ہے۔ نِعْمَت کی زِیادَتی مُنْعِم پر ہے کہ جسے چاہے عطا فرمائے۔ چنانچہ سب سے اَفضل نعمت کی زِیادَتی حُسْنِ یقین اور اَوصافِ باری تعالیٰ کا مُشاہَدہ ہے۔ نِعْمَت کی اس زِیادَتی کا آغاز اس مُشاہَدہ سے ہوتا ہے کہ یہ نِعْمَت مُنْعمِ حقیقی کی طرف سے ہے اور اس کے کَرَم کے بغیر اس کے حُصُول کی کوئی طَاقَت تھی نہ کوئی قوّت۔ نِعْمَت کی اَوسْط زِیادَتی حال کا دائمی ہونا اور مسلسل عِبَادَت کرنا ہے۔ کبھی تو یہ زِیادَتی اَخلاق میں ہوتی ہے اورکبھی عُلُوم میں، کبھی آخِرَت کے مُعامَلات میں ہوتی ہے اور کبھی دنیا کے فِراق میں ثابِت قَدَم رہنے میں۔

جنتیوں کا پہلا اور آخری کلام

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے شُکْر کو جنتیوں کے کلام کا آغاز اور ان کی خواہشات کا اِخْتِتام قرار دیا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا کہ ان کا پہلا کلام یہ ہو گا: (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ (پ ۲۴، الزمر:۷۴) ترجمۂ کنز الایمان:

سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچّا کیا۔)اور آخری کلام کے مُتَعَلّق اِرشَاد فرمایا: (وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۰)(پ ۱۱، یونس:۱۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کی دُعا کا خاتِمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں سراہا (خوبیوں والا) اللہ جو رب ہے سارے جہان کا۔)اگر شُکْر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا پسندیدہ عَمَل نہ ہوتا تو وہ کبھی اسے  ان پر باقی نہ رکھتا۔

حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کی مُناجات میں سے ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں وحی کے ذریعے صابِرین کے اَوصاف سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:ان کا ٹھکانا دارُ السلام یعنی جنّت ہے، جب وہ اس میں داخِل ہوں گے میں ان کے دلوں میں شُکْر اِلْہام کروں گا جو کہ بہترین کلام ہے اور جب وہ شُکْر ادا کریں گے تو میں ان پر نعمتوں کی زِیادَتی فرماؤں گا اور جب وہ میرے دِیدار کی دولت پائیں گے تو میں ان کی نعمتوں میں اور اِضافہ کر دوں گا۔ (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فضل و کَرَم کی اِنتِہا ہے۔

سب سے پہلا شکر

سب سے پہلا شُکْر نِعْمَت کی پہچان ہے اس طرح کہ یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک ہے نہ کوئی مَدَدگار۔ کیونکہ اس بات کی نفی خود اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنی لاریب کِتاب میں فرمائی ہے کہ ہر شے سے پہلے وُہی تھا ، اس کے کسی فعل میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہ تھا اور نہ کسی شے کی تخلیق میں کوئی اس کا مددگارتھا۔کیونکہ ہر قسم کی تنگی و خوشی اس کی جانِب سے نازِل ہوتی ہے اور اسی کا ہر حکْم بندوں پر جاری ہوتا ہے۔ چنانچہ کسی شریک و مددگار کی نفی کے مُتَعَلّق اِرشَادفرمایا:

وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ(۲۲) (پ ۲۲، سبا:۲۲)       

ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ حصّہ اور نہ اللہ کا ان میں سے کوئی مددگار۔

کسی نعمت یا تکلیف کے پہنچنے کے مُتَعَلّق اِرشَادفرمایا:

(1) وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْــٴَـرُوْنَۚ(۵۳)(پ ۱۴، النحل:۵۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہارے پاس جو نِعْمَت ہے سب اللہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف پناہ لے جاتے ہو۔

(2) وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَؕ-وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۱۷) (پ ۸، الانعام:۱۷)                        

ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر تجھے اللہ کوئی بُرائی پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔

تمام نعمتوں کی اِضَافَت (یعنی نِسْبَت)اپنی جانِب کرنے کے بعد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے قرآنِ کریم میں مُـخْتَلِف مَقامات پر اِرشَاد فرمایا ہے:

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن