دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

قاسِم بن مُـخَیْمِرَہ کے پاس عربیت (عربی زبان میں ماہِر ہونے) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اِرشَاد فرمایا:اس کا آغاز فخر و غُرور اور اَنْجام بَغَاوَت و سرکشی ہے۔

ایک بزرگ کا قول ہے کہ عِلْمِ نَحْو دِل سے خُشوع نکال دیتا ہے۔ جبکہ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ جو شخص خود کو تمام لوگوں سے برتر دیکھنا چاہے اسے عربی زبان میں مَہارَت حاصِل کرنا چاہئے۔

سلف صالحین کے برعکس بعد والوں کا شدت اختیار کرنا

(سَلَف  صالحین کے برعکس)بعد والوں نے جن مُعامَلات میں شدّت سے کام لیا ان میں سے چند ایک یہ ہیں:

٭۔۔۔۔پانی کے ساتھ ہی طَہارَت حاصِل کرتے۔  ٭۔۔۔۔کپڑوں کو خوب پاک صاف رکھتے۔

٭۔۔۔۔ جُنُبی کا پسینہ لگ جاتا یا حیض والی عورت کا لِباس چھو لیتے تو اکثر و بیشتر غسل کرتے۔

٭۔۔۔۔ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کے بَول و بَراز (یعنی گوبراور پیشاب)کے مُعامَلے میں بھی سختی برتتے(یعنی بدن یا لباس پر تھوڑی سی مقدار بھی لگ جانے کی صورت میں اسے ناپاک جانتے اور غسل کرتے)۔

٭۔۔۔۔ خُون کی تھوڑی سی مِقْدار بھی دھو ڈالتے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین ان تمام مُعامَلات میں رُخْصَت پر عَمَل کرتےتھے۔

سلف صالحین کے برعکس بعد والوں کا نرمی اختیار کرنا

جن مُعامَلات میں سَلَف صالحین سختی سے کام لیتے اور بعد کے لوگ نرمی سے،ان میں سے چند یہ ہیں:

٭۔۔۔۔اَسْلاف کا طریقہ یہ تھا کہ وہ رِزْقِ حَلال کماتے مگر ہر دَم اسی کام میں مَصروف نہ رہتے۔

٭۔۔۔۔ فضول باتوں سے بچتے۔٭۔۔۔۔باطِل باتوں سے دُور رہتے۔٭۔۔۔۔غیبت اور چُغْلی کرتے نہ سنتے۔

٭۔۔۔۔مُبالَغہ آمیزی و بد گمانی سے پرہیز کرتے،کیونکہ بدگمانی غیبت و چُغْلی میں شِرکَت کا باعِث بنتی ہےتو مُبالَغہ آمیزی کمی بیشی کا سَبَب بنتی ہے، یعنی مُعامَلہ بُرا ہو تو اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور اچھّا ہو تو اس میں کمی کر دی جاتی ہے۔

 ٭۔۔۔۔نیز سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین جھوٹ، لَہْوْ و لَعْب، باطِل لوگوں کی صحبت، لالَچ و تَعَصُّب کی راہ پر چلنے اور دنیا کی شدید حرص میں مُبْتَلا ہونے سے بچنے میں شِدّت اِخْتِیار کرتے مگر بعد کے لوگ ان تمام مُعامَلات میں آسانی سے کام لیتے۔

حمام میں چادر کے بغیر جانا

بعد کے لوگوں میں جو بدعتیں پیدا ہوئیں ان میں عورتوں کا بلاضَرورت حَمّام میں جانا بھی ہے اور مردوں کا بغیر چادَر باندھے (بَرْہنہ) حَمّام میں جانا بھی بعد کی پیداوار ہے جو کہ فِسْق ہے۔ چنانچہ،

حضرت سَیِّدُنا  ابراہیم حربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے نبیذ پینے والے ایسے شخص کے مُتَعَلّق پوچھا گیا جسے نشہ نہ ہوتا ہو کہ کیا اس کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں! پڑھ لی جائے۔ مگر جب یہ عَرْض کی گئی کہ جو شخص حَمَّام میں چادَر باندھے بغیر داخِل ہو تو کیا اس کے پیچھے بھی پڑھ لی جائے؟ تو فرمایا:نہیں! ایسے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔ (صاحبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی اس قول کی وَضَاحَت میں فرماتے ہیں)نبیذ پینے سے اگر نشہ نہ ہو تو اس کی حُرمَت میں اِخْتِلاف پایا جاتا ہے مگر چادَر کے بِغَیر حَمّام میں داخِل ہونا بِالْاِجْمَاع حَرام ہے۔ بلکہ ایک عالِم صاحِب یہاں تک فرمایا کرتے کہ حَمَّام میں داخِل ہونے والے شخص کو دو۲چادَروں کی ضَرورت ہوتی ہے، ایک چادَر چہرہ چھپانے کے لیے اور دوسری شَرْم گاہ چھپانے کے لیے۔ اگر چادَریں نہ ہوں تو حَمَّام میں داخِل ہوکر گناہوں سے محفوظ نہیں رہا جا سکتا۔

حضرت سَیِّدُنا  ابنِ عُمَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرمایا کرتے تھے کہ حَمَّام ان آسائشوں میں سے ایک ہے جو بعد کے لوگوں نے ایجاد کیں۔[1] حَمَّام میں ایک ناپسندیدہ بات یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو ایک مسلمان شخص کی شَرْم گاہ پر نَورہ (بال صَفا پاؤڈر) لگانے کی ذِمّہ داری سِپُرْد کی جائے۔

 

عُلَمائے سَلَف کا وَعظ میں بیٹھنے کا طریقہ

عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام  کا وعظ و نصیحت کی مجلس میں بیٹھنے کا طریقہ یہ ہوتا کہ بعض گھٹنے کھڑے کر لیتے اور بعض قدموں پر بیٹھ کر کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لیتے۔صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے زمانے سے عِلْمِ تَصَوُّف کی باتیں کرنے والے ہر شخص کا یہی طریقہ رہا ہے، حضرت سَیِّدُناامام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کا بھی یہی طریقہ رہا اور انہوں نے ہی سب سے پہلے اس عِلْم کے مُتَعَلّق اِظْہارِ خَیال کیا۔ اس طرح کُرسی و مِنْبَر کے وُجُود سے پہلے حضرت سَیِّدُناامام حَسَن بَصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے زمانے سے لے کر حضرت سَیِّدُنا  جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی کے زمانے تک عُلَمائے کِرام کا طریقہ یہی رہا۔ جیسا کہ مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھٹنے کھڑے کر کے تشریف فرما ہوتے اور اپنے دَسْتِ مُبارَک گھٹنوں پر لپیٹ کر حلقہ بنا لیتے۔[2] ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  قدموں پر تشریف فرما ہو کر کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لیتے۔

مشائخ میں سب سے پہلے کرسی پر بیٹھ کر کس نے بیان کیا؟

صُوفی بُزرگوں میں سب سے پہلے کرسی پر بیٹھ کر جنہوں نے بیان کیا وہ مِصر میں حضرت سَیِّدُنا یحییٰ بن مُعَاذ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ہیں۔ بَغْداد میں حضرت سَیِّدُنا  ابو حمزہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کی پیروی کی مگر باقی تمام مَشائخ نے ان کے اس فِعْل کو معیوب سمجھا کیونکہ یہ مَعْرِفَت اور یقین کی باتیں کرنے والے عارِفین کا طریقہ نہ تھا بلکہ چار۴زَانو (پھیل کر) بیٹھنا نَحْو ولُغَت کے عُلَما



[1]………مصنف ابنِ ابی شیبة ،  کتاب الطھارة ،  باب من کان لا یدکل الحمام ویکرهه ، ۱/  ۱۳۲ ،  حدیث:  ۲

[2]………بخاری ،  کتاب الاستئذان ،  باب الاحتباء بالید ، ۴/  ۱۸۰ ، حدیث:  ۶۲۷۲

                      ابو داود ،  کتاب الادب ،  باب فی جلوس الادب ، ۴/  ۳۴۴ ، حدیث:  ۴۸۴۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن