30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مذکورہ روایات کے عُموم سے حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کی حضرت سَیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام پر فضیلت ظاہِر ہے کیونکہ وہ اہلِ اِبْتِلا کے سردار اور عَقْل والوں کے لیے عِبْرَت و نصیحت کا باعِث ہیں۔ نیز آپ عَلَیْہِ السَّلَام دکھ درد اور صَبْر والوں کے اِمام بھی ہیں۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہمارا مَقْصُود یہاں انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کےدرمیان فضیلت بیان کرنا نہیں، اس لیے کہ ہمیں ایسا کرنے سے مَنْع کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ نصیحت نِشان ہے:انبیا کے درمیان باہَم فضیلت قائم نہ کرو۔[1] مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چونکہ ہمیں یہ خَبَر دی ہے کہ اس نے بعض انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو بعض پر فضیلت عَطا فرمائی ہے لہٰذا ہم نے قرآنِ کریم میں مَوجُود مَـخْفِی فضیلت کو ظاہِر کر دیا۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ (پ ۱۵، بنی اسرآئیل:۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک ہم نے نبیوں میں ایک کو ایک پر بڑائی دی۔
ہم نے حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کی حضرت سَیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام پر فضیلت میں جو باطِنی اَوصاف ذِکْر کیے ہیں وہ ہمیں فَہْمِ خِطاب اور مَعانیِ کلام میں تَدَبُّر سے حاصِل ہوئے ، مگر یاد رکھئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عِلْم ہر شے سے مُقَدَّم ہے اور وہی سب سے بہتر جاننے والا اور حِکْمَت والا ہے۔
ہم نے مذکورہ اِسْتِنْبَاط سرورِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان پر عَمَل کرتے ہوئے کیا ہے۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:قرآن پڑھو اور اس کے غرائب تلاش کرو۔[2]
حضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کے علاوہ اِسْتِنْبَاط کی درج ذیل چند مزید وُجوہات بھی ہیں:
٭۔۔۔۔۔ اہلِ صبر و اِبْتِلا کی عزّت کے لیے ٭۔۔۔۔۔ ان کے دلوں کی تقویت کے لیے
٭۔۔۔۔۔ ان پر کامِل انعاماتِ باری تعالیٰ کی تعریف و توصیف بیان کرنے کے لیے
٭۔۔۔۔۔ مَـخْفِی نعمتوں کے اِظْہَار کے لیے ٭۔۔۔۔۔ کلام کی لَطافتوں سے آگاہ کرنے کے لیے
٭۔۔۔۔۔ دنیا و نَفْس کے مُعامَلے میں زُہْد اِخْتِیار کرنے کے لیے
٭۔۔۔۔۔ آخِرَت اور صَبْر کے مُعامَلے میں رَغْبَت دِلانے کے لیے
٭… دَرَجَہ بَدَرَجَہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے مُشابِہ اہل ابتلا کے طریقے کی فضیلت بیان کرنے کے لیے۔
پس مذکورہ تمام بحث سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مرضی پر سرِ تسلیم خَم کر دینے ، اس کے حکْم پر راضی رہنے اور آزمائش پر صَبْر کرنے والے کو اس شخص پر فضیلت حاصِل ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نعمتوں سے نوازا ہو اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے والابھی ہو۔ اس لیے کہ نعمتیں طبیعت کے مُناسِب اور نَفْس کے مُوافِق ہوتی ہیں ان کی وجہ سے نَفْس کو مَشَقَّت کر کے صبر نہیں کرنا پڑتا اور نہ نَفْس کو اس مَشَقَّت پر راضی کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ اِبْتِلا و آزمائش طبیعت کے مُخالِف اور اس پر گراں ہوتی ہے اور نَفْس کو اس پر راضی کرنے اور اس پر مَشَقَّت اُٹھانے کی بھی حاجَت پڑتی ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)جو چیز نَفْس کو ناپسند ہو وہ بہتر اور اَفضل ہوتی ہے مگر اس کے حُصُول کی کوئی راہ نہیں ہوتی ہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانِب سے سکینہ کی دولت نصیب ہو تو اس شے کو حاصِل کرنا ممکن ہوتا ہے اور اگر حاصِل نہ ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَدَد اور عِنایَت کے ساتھ ہی اس پر صَبْر مُمکِن ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ(پ ۱۴، النحل:۱۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اے محبوب تم صَبْر کرو اور تمہارا صَبْر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
٭…٭…٭…٭
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
٭…٭…٭…٭…٭…٭
٭…٭…٭…٭
مَقاماتِ یقین میں سے تیسرا مقام
مقامِ شُکْر کی شَرْح اور شَاکِرین کے اَوصَاف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع