30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنی رحمت سے اسے اس کا بھائی ہارون عطا کیا غیب کی خبریں بتانے والا (نبی)۔
جیسا کہ حضرت سَیِّدُناداود عَلَیْہِ السَّلَام کی تعریف میں فرمایا:
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَؕ- (پ ۲۳، ص :۳۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے داود کو سلیمان عطا فرمایا۔
پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو ان کا بھائی عطا فرمایا جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام کو بیٹا عطا فرمایا۔فَخْر و مُبَاہَاۃ اور تذکرہ کے اِعْتِبَار سے یوں حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کا مَقام حضرت سَیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام کے مَقام کی مِثل ہے۔ اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حضرت سَیِّدُناداود عَلَیْہِ السَّلَام کے اَوصَاف کے مُتعلّق اِرشَاد فرمایا:
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ (پ ۲۳، ص :۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تم ان کی باتوں پر صَبْر کرو اور ہمارے بندے داود کو یاد کرو۔
اور حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کے مُتَعَلِّق اِرشَاد فرمایا:
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَۘ-اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ (پ ۲۳، ص :۴۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو ہمارے بندہ ایوب کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا۔
پس حضرت سَیِّدُناایوب عَلَیْہِ السَّلَام کو مَفہوم کے اِعْتِبَار سے حضرت سَیِّدُنا داود و موسیٰ عَلَیْہِمَا السَّلَام سے تشبیہ دی گئی اور انہیں ان جیسامَقام عطا فرمایا گیا اور چونکہ یہ دونوں پیغمبر حضرت سَیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام سے افضل ہیں لہٰذا حضرت ایوب عَلَیْہِ السَّلَام کا حال حضرت سَیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کے حال سے اعلیٰ ہو گا۔ (صاحبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) ہمارے دل میں جو بات ڈالی گئی ہم نے بیان کر دی ہے۔ اب حقیقت میں ان میں سے اَفضل کون ہے یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی بہترجانتا ہے۔
پھر اس کے بعد آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے مُتَعَلِّق مزید اِرشَاد فرمایا:
رَحْمَةً مِّنَّا(پ ۲۳، ص :۴۳) ترجمۂ کنز الایمان:اپنی رحمت کرنے کو۔
یہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی رحمت کے تذکرے کے ساتھ ساتھ اپنے بندے کی شَرَافت و عَظَمَت کا تذکرہ فرمایا اور اس کے بعد اِرشَاد فرمایا:
وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ(۴۳)(پ ۲۳، ص :۴۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور عَقْل مندوں کی نصیحت کو۔
یعنی حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کو عَقْل مندوں کا اِمام، اَہْلِ صبر و اِبْتِلا کا رہنما اور اَصْفِیا کے لیے دکھ درد میں نصیحت اور تسلی قرار دیا۔ پھر اِرشَاد فرمایا:
اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ-(پ ۲۳، ص :۴۴) ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے اسے صابِر پایا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہاں دوسری مرتبہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے لیے اپنی ذات کا ذِکْر فرمایا اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے نام کو مَحبَّت اور قُرب کی بِنا پر اپنے نام کے ساتھ ملا کر ذِکْر فرمایا۔نیز اس آیتِ مُبارَکہ میں(صَابِرًا)سے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے صَبْر کی صِفَت کے ساتھ مُتَّصِف ہونے کا ذِکْر کرتے ہوئے ان کے قَوِی مَقام و مرتبے کا اِظْہَار فرمایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَخْلَاقِ حَمیدہ سے مُزَیَّن ہیں۔
پھر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے اَوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے آخر میں اِرشَاد فرمایا:
نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴) (پ ۲۳، ص:۴۴) ترجمۂ کنز الایمان:کیا اچھّا بندہ بے شک وہ بَہُت رُجُوع لانے والا ہے۔
یہی وہ دونوں اَوصاف ہیں جن میں سے ایک سے حضرت سَیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کے اَوصاف کی اِبْتِدَا ہوئی اور دوسرے پر اِخْتِتام۔ چنانچہ یہی وہ دونوں اَوصاف ہیں جن میں حضرت سَیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کو حضرت سَیِّدُناایوب عَلَیْہِ السَّلَام کے اَوصَاف میں شریک کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ ابھی جس قَدْر اَوصَاف حضرت سَیِّدُنا ایوب عَلَیْہِ السَّلَام کے ذِکْر کیے گئے ہیں وہ ان میں فضیلت رکھتے ہیں اور ان میں سے کوئی وصف حضرت سَیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کے لیے بیان نہیں ہوا۔ چنانچہ اہلِ فہم و دانِش کے نزدیک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان(وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَۘ-)سے لے کر(نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴))تک نظر آنے والا فَرْق بَہُت واضِح ہے۔
حضرت سَیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کا پہلا وَصْف یہ ذِکْر کیا گیا کہ وہ اپنے والِدِ ماجِد حضرت سَیِّدُناداود عَلَیْہِ
السَّلَام کو عَطا فرمائے گئے اس صُورَت میں تو یہ حضرت سَیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام کا وَصْف بنا اور باقی رہا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان: (نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴))تو یہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے پہلے اور آخری وَصْف پر مُشْتَمِل ہے جبکہ یہ حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کا سب سے آخری وَصْف ذِکْر کیا گیا ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا ایوب عَلَیْہِ السَّلَام کے حضرت سَیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام سے اَفضل ہونے پر اَحادِیث بھی شاہِد ہیں۔ چنانچہ ) مَرْوِی ہے کہ حُضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:اپنی سَلْطَنَت کی وجہ سے جنّت میں داخِل ہونے والے سب سے آخری نبی سلیمان بن داود ہوں گے اور مال و دولت کی بنا پر میرے صحابہ میں سب سے آخِر میں عبد الرحمٰن بن عوف جنّت میں داخِل ہوں گے۔[1] ایک رِوایَت میں ہے کہ سلیمان بن داود تمام انبیا سے 40 سال بعد جنّت میں داخِل ہوں گے۔[2] نیز روایات میں یہ بھی ہے کہ جنّت میں سب سے پہلے اہلِ اِبْتِلا و آزمائش داخِل ہوں گےجن کے اِمام حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام ہوں گے، جنّت کے تمام دروازوں کے دو۲ دو۲کِواڑ ہیں مگر صبر کے دروازے کا ایک ہی کِواڑ ہے اور اس سے سب سے پہلے اہل اِبْتِلا ہی داخِل ہوں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع