30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آروں سے چیرا گیا، یہ 70 انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ہیں اور ایک قول کے مُطابِق یہ صِرف حضرت سَیِّدُنا ابراہیم، حضرت سَیِّدُنا اسحاق اور حضرت سَیِّدُنا یعقوب عَلَیْہِمُ السَّلَام ہیں۔[1]یہ سب بَہُت سے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے آباؤ اَجْدَاد ہیں۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ۬ؕ-(پ ۱۶، مریم:۴۱) ترجمۂ کنز الایمان:اور کِتاب میں ابراہیم کو یاد کرو۔
نیز اِرشَاد فرمایا:
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ(۴۵) (پ ۲۳، ص:۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اوراسحاق اور یعقوب قدرت اور عِلْم والوں کو۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہاں (اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ) سے مُراد وہ لوگ ہیں جو صَاحِبِ قُدْرَت اور اَہْلِ بصیرت و یقین ہیں۔پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کو بھی ان اُوْلُو الْعَزم انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے مَقام تک رِفْعَت عَطا فرمائی اور انہیں ان کے ساتھ شامِل کرتے ہوئے اپنے محبوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تسلی کا ذریعہ بنایا۔
پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ان کے تذکرے سے نصیحت فرمائی اور ان کا مَصَائِب پر صَبْر کرنا یاد دلایا۔چنانچہ(وَ اذْكُرْ) کے بعد اِرشَاد فرمایا: (عَبْدَنَا) یعنی آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنا خاص اور مُقرّب بندہ قرار دیا۔ اس طرح اپنی نِسْبَت عطا فرما کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کو دیگر اہلِ اِبْتِلا انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے گروہ میں شامِل فرما دیا کہ جن کے مُتعلّق یوں اِرشَاد فرمایا:
وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ (پ ۲۳، ص:۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو۔
یہ تینوں انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ایسے ہیں جن کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دیگر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام پر فخر فرمایا اور ان کی اَولاد میں سے بَہُت سے اَصْفِیَا پیدا فرمائے۔ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان قابِلِ فخر انبیائے کِرام کے ساتھ (وَ اذْكُرْ) کا لَـفْظ ذِکْر فرما کر تعریف میں حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کو بھی شامِل فرما دیا۔پھر ایک مَقام پر ان کے مُتعلّق اِرشَاد فرمایا:
اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ (پ ۱۷، الانبیآء:۸۳) ترجمۂ کنز الایمان:(یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا۔
مُراد یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُناایوب عَلَیْہِ السَّلَام صِرف اپنے رب کی رَضا کے حُصُول کے لیے اس کی بارگاہ میں کچھ یوں عَرْض گزار ہوئے:
اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ(۸۳)(پ ۱۷، الانبیآء:۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان:کہ مجھے تکلیف پہنچی اور تو سب مِہر والوں سے بڑھ کر مِہر والا ہے۔
یہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُناایوب عَلَیْہِ السَّلَام کی مُناجات کا تذکرہ فرمایا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر اپنی رحمت کے اَوصاف کو ظاہِر فرمایا تھا اس لیے آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس صِفَتِ باری تعالیٰ سے راحَت پائی اور اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّکو اسی صِفَت سے پکارتے ہوئے مَدَد طَلَب فرمائی۔چنانچہ اس صُورَت میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا مَقام حضرت سَیِّدُناموسیٰ اور حضرت سَیِّدُنا یُونُس عَلَیْہِمَا السَّلَام کے مَقام کے مُشابِہ ہے ، کیونکہ حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ خُداوندی میں عَرْض کی تھی:
سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ (پ ۹، الاعراف:۱۴۳) ترجمۂ کنز الایمان:پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رُجُوع لایا۔
حضرت سَیِّدُنایُونُس عَلَیْہِ السَّلَام کی پکار کو کچھ یوں ذِکْر فرمایا:
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)(پ ۱۷، الانبیآء:۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان:کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بے شک مجھ سے بے جا ہوا۔
اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کا یہ وَصْف ذِکْر فرمایا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی دُعا قبول ہوئی اور آخر کار آپ کی تمام تکالیف دُور ہو گئیں۔ اس طرح آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی یہ دُعا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قُدْرَت کے نَفاذکا سَبَب ، اس کی حِکْمَت کے جارِی ہونے کا مَکان اور دُعاؤں کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بنی۔
پھر اس کے بعدآپ عَلَیْہِ السَّلَام کے مُتعلِّق اِرشَاد فرمایا:
وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ(پ ۲۳، ص :۴۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے اسے اس کے گھر والے عَطا فرما دئیے۔
یعنی یہاں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی ایسی صِفَت ذِکْر فرمائی جو حضرت سَیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کے اَوصَاف سے زائد تھی۔ کیونکہ جسے اَہْلِ عَطا فرمائے جائیں اور جو خود اہل میں سے ہو دونوں کی تعریف میں فَرْق ہے۔ اس لیے کہ حضرت سَیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کے مُتعلِّق کچھ اس طرح اِرشَاد فرمایا:
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَؕ- (پ ۲۳، ص :۳۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے داود کو سلیمان عَطا فرمایا۔
اس مُعامَلے میں حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کی حضرت سَیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام پر فضیلت ایسے ہی ہے جو حضرت سَیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو حضرت سَیِّدُناہارون عَلَیْہِ السَّلَام پر تھی۔ کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تعریف بھی مذکورہ اَلفاظ میں فرمائی اور انہیں حضرت سَیِّدُنا ہارون عَلَیْہِ السَّلَام پر فضیلتدی۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا(۵۳)(پ ۱۶، مریم:۵۳)
[1]………دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1253صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت(جلداول)صَفْحَہ 54پر حاشیہ نمبر 3میں تفسیرِ طبری اور دُرّ مَنْثُور کے حوالے سے ہے کہ اُولُو الْعَزم انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام پانچ۵ہیں یعنی حضرت سَیِّدُنانوح ، حضرت سَیِّدُنا ابراہیم ، حضرت سَیِّدُنا موسیٰ ، حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِمُ السَّلَام اور ہمارے پیارے نبی حضرت سَیِّدُنامحمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع