30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قرار دیا کیونکہ یہ اسی سے پائے جاتے ہیں اور تمام اَحْوَال میں اسی کے محتاج ہیں، نیز آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے زُہْد کو بھی صَبْر کا ہی ایک رُکْن قراردیا ہے۔
صبر وتقویٰ کا باہمی تعلق
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے صَبْر کو تقویٰ کا حال قرار دیا اور مُتَّقِیْن کے دَرَجات بُلَند فرمائے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
(1) اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ (پ ۱۳، یوسف:۹۰) ترجمۂ کنز الایمان:بے شک جو پرہیزگاری اور صَبْر کرے۔
(2) اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ- (پ ۲۶، الحجرات:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزّت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہاں اَکْرَماور اَتْـقٰی کے اَلفاظ کا اِسْتِعمال زیادہ بہتر ہے کیونکہ اِسْمِ تفضیل دَرَجات میں فَرْق پر دَلالَت کرتا ہے، لہٰذا جو زیادہ پرہیزگار ہو گا
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں زیادہ عزّت والا ہو گا اور جو اس شے پر زیادہ صَبْر کرنے والا ہو گا جو تقویٰ کا باعِث بنتی ہے وہ زیادہ متقی ہو گا۔
دُخولِ جنّت اور نَجاتِ جہنّم کا سَبَب
صَبْر دُخولِ جنّت اورنَجاتِ جہنّم کا سَبَب ہے، کیونکہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے:جنّت کو ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جہنّم کو نفسانی خواہشات سے۔[1] لہٰذا مومِن کو ناپسندیدہ اُمُور پر صَبْر کی حاجَت ہے تاکہ جنّت میں داخِل ہو سکے اور نفسانی خواہشات سے بچنے کے لیےبھی اسے صَبْر کی ضَرورت ہے تاکہ نارِ جہنّم سے نَجات پا سکے۔
صبر کے شکر سے افضل ہونے کی وُجوہات
صَبْر کے شُکْر سے اَفضل ہونے کی تین۳وُجوہات ہیں:
مَقامات دَرَجات کے اِعْتِبَار سے اَحْوَال سے اعلیٰ ہوتے ہیں اور صَبْر و شُکْر بسا اَوقات اَحْوَال ہوتے ہیں اور بسا اَوقات مَقامات۔ لہٰذا جس کا مَقام صَبْر ہو اس کا حال شُکْر ہوتا ہے جو کہ اَفضل ہے کیونکہ ایسا شخص صَاحِبِ مَقام ہے اور جس کا مَقام شُکْر ہو اس کا حال صَبْر ہوتا ہے جو شاکِر کے مَقام میں مزید ترقی کا باعِث بنتا ہے، لہٰذا صَبْر شاکِر کے مَقام میں ترقی کا سَبَب ہے۔
مُقرّبین دَرَجات میں اَصحابِ یمین سے اعلیٰ ہوتے ہیں، لہٰذا صَبْر کرنے والے مُقرّبین شکر کرنے والے اَصحابِ یمین سے اور شُکْر کرنے والے مُقرّبین صبر کرنے والے اَصحابِ یمین سے اَفضل ہیں۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ شاکِر و صابِر دونوں مُقرّبین میں سے ہوں تو ان میں سے اَفضل کون ہو گا؟ تو اس کا جو جواب دیا گیا ہے وہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ دونوں شخص کسی بھی صُورَت میں ایک ہی مَقام میں جَمْع نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ دونوں لَطائفِ باری تعالیٰ کے مَفاہیم پانے کے اِعْتِبَار سے یَکْسَاں نہیں ہو سکتے، جیساکہ صِفات کی مُشابَہَت کے باوُجُود صَنْعَتِ باری تعالیٰ کی لَطَافَت کی بنا پر مُـخْتَلِف اشیا کی صُورَتیں یَکْسَاں نہیں۔ لہٰذا ان دونوں میں سے اَفضل وہی ہو گا جو دولَتِ عِرفانِ خُداوندی سے زیادہ مالا مال ہو گا کیونکہ ایسا شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے زیادہ مَحبَّت رکھنے والا اور اس کے زیادہ قریب ہو گا، نیز اس کا یقین بھی زیادہ قَوِی ہو گاکیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نازِل کردہ تمام اشیا میں یقین سب سے زیادہ معزّز ہے۔
جو صَبْر شُکْر کا باعِث بنے اس سے صَبْر کرنا اور جو شُکْر صَبْر کا باعِث بنے اس پر شُکْر کرنا اَفضل ہے۔اَحْوَال کے مُـخْتَلِف ہونے کی وجہ سے اس کی صُورَت بھی بدلتی رہتی ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس کی وَضَاحَت یہ ہے کہ نفسانی لذّت، عَیْش پَرَسْتی اور آسُودَگی و شادمانی سے صَبْر کرنا اَفضل ہے بشرطیکہ بندے کا حال نِعْمَت والا ہو کیونکہ نِعْمَت اور تَوَنگَرِی سے صَبْر مَعْرِفَت کا ایک مَقام ہے اور یہ اَفضل ہے اس لیے کہ اس میں زُہْد ہے جس کی فضیلت پر اِجماع ہے۔ مگر (حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) ہمارے نزدیک فَقْر اور آزمائش و مَصَائِب سے زیادہ اَفضل شُکْر ہے بشرطیکہ بندے کا حال مُجاہَدہ و اِبْتِلا ہوکہ اس صُورَت میں شُکْر مَعْرِفَت کا ایک مَقام ہے جو کہ اَفضل ہے کیونکہ اس میں رَضا ہے جس کی فضیلت پر سب کا اِتّفاق ہے۔
صابِر کی فضیلت پر استدلال کی چند مزید صورتیں
صَبْر کرنے والا عارِف شُکْر کرنے والے عارِف سے اَفضل ہے کیونکہ صَبْر فَقْر کا اور شُکْر تَوَنگَرِی کا حال ہے، لہٰذا جس نے شُکْر کو معنیٰ کے اِعْتِبَار سے صَبْر پر فضیلت دی گویا اس نے تَوَنگَرِی کو فَقْر پر فضیلت دی حالانکہ مُتَقَدِّمِیْن رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین میں سے کسی کا بھی یہ مذہب نہیں بلکہ یہ عُلَمائے دنیا کا طریقہ ہے جنہوں نے اپنے نُفُوس (کو راحَت پہنچانے)کے لیے اور مخلوق کو اپنے نفسوں کی جانِب مائِل کرنے کے لیے یہ راستہ اِخْتِیار کیا کیونکہ جو شخص تَوَنگَرِی کو فَقْر پر فضیلت دے بیشک وہ رَغْبَت کو زُہْد پر،عزّت کو ذِلّت پر اور تکبُّر کو تَواضُع پر فضیلت دے گا،اس صُورَت میں دنیا میں رَغْبَت رکھنے والے اور غنی لوگ اَہْلِ زُہْد و فَقْر سے اَفضل ہو جائیں
گے اور یہ بات دنیاداروں کواہلِ آخِرَت پر فضیلت دینے کا باعِث بنے گی(جو دُرُسْت نہیں)۔ چنانچہ،
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہمارے نزدیک ہر اِعْتِبَار سے صَبْر شُکْر سے اَفضل ہے کیونکہ صَبْر اس شخص کا حال ہے جس کا مَقام اِبْتِلا وآزمائش ہے اور اہلِ اِبْتِلا دَرَجَہ بَدَرَجَہ انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے مُشابہ ہوتے ہیں، کیونکہ صبر نفسانی خواہشات سے بَہُت دُور، تنگی و تکلیف کے زیادہ قریب،نفس کی ناپسندیدہ باتوں میں بَہُت سخت، فِطْرِی طبیعت کے بَہُت زیادہ مُخالِف اور مِزاج سے حَد دَرَجَہ جُدا ہوتا ہے۔ پس جب نفس صَبْر کے ساتھ سُکون پائیں اور وہ ان کے ہاں پایا جانے لگے تو گویا وہ اپنے وَصْف کو چھوڑنے والا اور سُکون میں زیادہ تعجب خیز ہے لہٰذا اس سُکُون اور اطمینان کی وجہ سے ان کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے اور وہ باہم ایک دوسرے سے راضی ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع