30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سرکش نُفُوس پر قابو پانے)کایہ سب سے بڑا دروازہ ہے اور اس میں ان بتکلّف صبر کرنے والوں میں سے قَوِی لوگوں کے لیے فضیلت ہے جن کے نُفُوس صبر اور نَماز پر لَـبَّیْک کہتے ہیں نہ بھوک اور پیاس سے مُطِیع و فرمانبردار ہوتے ہیں۔
البتہ! تیسرے طبقہ کے کمزور لوگ جو پہلے دو۲طبقوں یعنی صَوم و صَلاۃ کے پابند لوگوں میں سے ہیں نہ ان مذکورہ نفس کو قابو کرنے والے لوگوں میں سے،بلکہ یہ لوگ جس طرح اپنے نُفُوس کو شہوت سے روکنے پر صَبْر نہیں کر سکتےاسی طرح نفس کو اس کی حاجَت پوری کرنے سے روکنے کی کوشِش پر بھی صبر نہیں کر سکتے۔ان لوگوں کی اپنے نُفُوس کے لیے رِیَاضَت یہ ہے کہ یہ انہیں حَلال کے ذریعے ہر قسم کی حَرام شے سے اور مُعْتَدِل خواہش کے ذریعے ہر مُہْلِک خواہش سے روک دیں تاکہ ان کے نُفُوس حَرام اشیا سے رُک جائیں اور ان کی مُہْلِک خواہشات خَتْم ہو جائیں کہ اسی طریقہ سے ان کمزور لوگوں کے نُفُوس مطمئن ہو سکتے ہیں ۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس بات میں اِخْتِلاف ہے کہ صَبْر و شُکْر میں سے اَفضل کون ہے؟ اس لیے کہ ان دونوں مَقامات میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا ممکن نہیں۔ کیونکہ ہر مَقام میں مختلف طبقات ہیں۔ چنانچہ مُحَقِّق اَہْلِ مَعْرِفَت فرماتے ہیں:دو۲بندے ایک ہی مَقام میں ہم پَلّہ نہیں ہو سکتے بلکہ ان میں سے کسی ایک کا عِلْم،عَمَل، وِجْدان یا مُشاہَدے میں دوسرے سے بَرْتَر ہونا ضَروری ہے اگرچہ نِیّت، اِرادہ اور اَصْل ایک ہی ہو۔ اس تَفاوُت میں اَفضل وہ ہے جسے مُشاہَدۂ ذات کی دولت نصیب ہو۔ چنانچہ اس سلسلے میں درج ذیل فرامینِ باری تعالیٰ پڑھئے، کیونکہ(وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠(۸۷)(پ ۵، النسآء:۸۷)) (پ ۵، النسآء:۸۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچّی۔)
(1) وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا(پ ۲، البقرة:۱۴۸) ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر ایک کے لیے تَوَجُّہ کی ایک سَمْت ہے کہ وہ اسی کی طرف منہ کرتا ہے ۔
(2) قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖؕ-فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠(۸۴)(پ ۱۵، بنی اسرائیل:۸۴)
ترجمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ سب اپنے كَیْنڈے (انداز) پر كام كرتے ہیں تو تمہارا رب خوب جانتا ہے کون زیادہ راہ پر ہے۔
مَنْقُول ہے کہ یہاں درمیانہ و زیادہ قریب کا راستہ مُراد ہے۔
کِتاب و سنّت کا ظاہِر صَبْر کی فضیلت پر دَلَالَت کرتا ہے۔چنانچہ کِتابُ الله میں صَبْر کی فضیلت پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان دلیل ہے:
یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا(پ ۲۰، القصص: ۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:ان کو ان کا اَجَر دوبالا دیا جائے گا بدلہ ان کے صَبْر کا۔
پس شُکْرگزار کو ایک مرتبہ اَجَر دیا جائے گا گویا کہ مَقامِ صَبْر مَقامِ خوف کے مُشابہ ہے اور مَقامِ شُکْر مَقامِ رِجا کے ۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶)(پ ۲۷، الرحمٰن:۴۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اپنے رب کے حُضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو۲جنتیں ہیں۔
اَہْلِ مَعْرِفَت کا اس بات پر اِتّفاق ہے کہ خوف رِجا سے اَفضل ہے، جیسا کہ ان کا عِلْم کے عَمَل سے اَفضل ہونے پر اِتّفاق ہے، لہٰذا صبر مَقامِ خوف کا حال ہے اور صابِر کا حال فضیلت میں اس کے مَقام کے قریب ہے جبکہ شکر مَقامِ رِجا کا حال ہے اور شاکِر کا حال اس کے مَقام کے قریب ہے۔
سنّت میں صَبْر کی فضیلت پر وہ حدیثِ پاک دلیل ہے جو ہم نے پہلے بھی ذِکْر کی ہے یعنی: تمہیں یقین اور صَبْر کی عَزِیمَت میں سے بَہُت کم حصّہ دیا گیا ہے اور جسے ان دونوں میں سے کچھ حصّہ عَطا ہوا اس نے پھر کبھی فوت شدہ مُعامَلات کی پروا نہیں کی۔[1]
اس حدیثِ پاک میں صَبْر کا تذکرہ یقین کے ساتھ ہوا ہے کہ جس سے بڑھ کر کوئی شے معزّز ہے نہ بڑی۔ اَعمال کی بُلَندی ہو یا یقین کی رِفْعَت اسی کی وجہ سے ہے۔ چنانچہ،
حضرت سَیِّدُنااَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کی مُناجات میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں وحی فرمائی:اے اَیُّوب! میں نے خود پر قسم یاد فرما رکھی ہے کہ میں صابِرین پر دیوانِ توبیخ نہ کھولوں گا، وہ پل صِراط کی حد کو دیکھیں گے نہ میزان کی کمی انہیں گھبراہٹ میں مبتلا کرے گی، بلکہ ان کا گھر تو دَارُ السَّلَام (یعنی جنّت)ہے۔
صَبْر اِبْتِلا و آزمائش کا حال ہے اور شُکْر نِعْمَت کا حال ہے، آزمائش ان دونوں میں اَفضل ہے کیونکہ یہ نَفْس پر گراں ہوتی ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) (پ ۲۳، الزمر: ۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:صابِروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی۔
پس شُکْر کرنے والے کو اس کا اَجَر اس کے حِساب سے دیا جائے گا کیونکہ” اِنَّمَا “وَصْف کی تحقیق اور باقی سب کی نَفِی کے لیے آتا ہے۔
صبر کے چار۴ستون
امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے صَبْر کی تعریف چار۴مَقاماتِ یقین سے كی ہے اور ان چاروں مَقامات کو صَبْر کے ایسے سُتُون قرار دیا ہے جن سے وہ ظاہِر ہوتا ہے، چنانچہ ایک طویل رِوایَت میں اِیمان کے مختلف شعبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشَاد فرمایا:صبر کے چار۴سُتُون ہیں: (1)…شوق(2)… ڈراورخوف(3)…زُہْداور (4) … تَرَقُّب(یعنی اِنتِظار)۔ پس جو آگ سے ڈرا حَرام کاموں کے اِرْتِکاب سے باز رہا اور جسے جنّت کا شوق ہوا وہ خواہشاتِ نفسانیہ کو بھول گیا۔ جس نے دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کیا اس پر مصیبتیں آسان ہو گئیں اور جو ہر لمحہ موت کے اِنتِظار میں رہا اس نے نیکیاں کمانے میں جَلْدی کی ۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ان چاروں مَقامات کو صَبْر کے اَرکان
[1]………جامع بیان العلم وفضله لابن عبد البر ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم ، ص۱۷۰ ، حدیث: ۵۶۳ ، مختصراً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع