دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

اِظْہَار۔

حضرت سَیِّدُنا ابن عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَرْوِی ہے :قرآنِ کریم میں صَبْر کی تین۳صورتیں مذکور ہیں:

(1) ۔۔۔۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرائض کی ادائیگی پر صَبْر ۔

(2) ۔۔۔۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حَرام کردہ چیزوں پر صَبْر ۔

(3) ۔۔۔۔ مصیبت میں پہلے صَدْمَہ کے وَقْت صَبْر۔

 جس نے فرائض کی ادائیگی پر صَبْر کیا اس کے لیے 300 دَرَجات ہیں اور جس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حَرام کردہ اشیا پر صَبْر کیا (یعنی ان سے بچا)اس کے لیے 600 دَرَجات ہیں اور جس نے مصیبت میں پہلے صَدْمَہ کے وَقْت صَبْر کا دامَن ہاتھ سے نہ چھوڑا اس کے لیے 900 دَرَجات ہیں۔[1]

مصیبت کے وقت صبر کے افضل ہونے کی وجہ

یہ بات قَابِلِ وَضَاحَت ہے کہ  حضرت سَیِّدُنا ابن عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے مصیبت کے وَقْت صَبْر کواس لیے اَفضل قرار نہیں دیا کہ یہ مَحارِم سے بچنے اور فرائض کی بجاآوری سے اَفضل ہے بلکہ اس لیے اسے اَفضل قرار دیا ہے کہ یہ دونوں چیزیں تو مسلمانوں کے اَحْوَال میں سے ہیں مگر مصیبت پر صَبْر کرنا مَقاماتِ یقین میں سے ہے اور بے شک مَقامِ  یقین مَقامِ اِسلام سے اَفضل ہے۔ اسی لیے حُضورنبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ دُعا مروی ہے: اَسْئَلُكَ مِنَ الْيَقِيْنِ مَا تُـهَوِّنُ بِهٖ عَلَـیَّ مَصَآئِبَ الدُّنْيَا۔ یعنی اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  میں تجھ سے ایسا یقین مانگتا ہوں جو مجھ پر دنیا کی مصیبتیں آسان کر دے۔[2]

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)مَصَائِب کے وَقْت سب سے زیادہ صَبْر کرنے والا شخص وہ ہوتا ہے جس کا یقین سب سے زیادہ ہو اور مَصَائِب کے وَقْت سب سے زیادہ جَزَع فَزَع کرنے والا شخص وہ ہوتا ہے جس کا یقین سب سے کم ہو۔

جنّت میں گھر بنا دیا جاتا ہے

حضرت سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:جو شخص جھگڑا نہ کرے حالانکہ وہ حَق پر ہو تو اس کے لیے اعلیٰ جنّت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے اور جس شخص نے جھگڑا نہ کیا جبکہ وہ باطِل پر ہو تو اس کے لیے وسطِ جنّت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے اور جس نے جھوٹ تَرْک کر دیا اس کے لیے جنّت کے کنارے پر ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔[3]

معلوم ہوا کہ جھوٹ اور جھگڑے کو تَرْک کرنا باطِل پر ہونے کے باوُجُود لازِم اور ضَروری ہے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ دونوں اَفضل ہوں مطلب یہ ہے کہ باطِل کی وجہ سے جھگڑے اور جھوٹ کو تو عام مسلمان بھی چھوڑ دیتے ہیں لیکن حَق پر رہتے ہوئے کوئی بندہ اپنا حَق وُصُول کرنے کے لیے جھگڑا نہ کرے بلکہ خاموشی و سلامتی چاہتے اور ظاہِری نام و نَمود سے بچتے ہوئے نہ جھگڑے،(تو اس شخص کا حَق پر ہوتے ہوئے جھگڑے کو ترک کرنا اَفضل ہے کیونکہ)ان مُعامَلات میں صَبْر کا دامَن صِرف اہلِ یقین ہی تھام سکتے ہیں اور یہی خواص مومنین ہیں۔ نیز یقین، زُہْد اور کلام و نفسانی خواہش پر خاموشی و گم نامی کو ترجیح دینے میں ایسے شخص کا مَقام اَفضل ہے۔ یہ مَقام چونکہ یقین سے حاصِل ہوتا ہے لہٰذا ایسا شخص اپنے مَقام کی وجہ سے جھوٹ اور جھگڑا نہ کرنے والے عام مومنین سے اَفضل ہو جاتا ہے حالانکہ یہ دونوں کام بھی لازِم و ضَروری ہیں۔ 

نیکیوں کو چھپانا

(20)نیک اَعمال کو چھپانا۔    (21)نَفْس کو نیک اَعمال کے ذِکْر سے لُطْف اندوز ہونے سے روکنا ۔

(22)صدقات و خیرات کو چھپانا بھی صبر ہے۔اس لیے کہ نیکی کے اِعلان میں سلامتی کے بَاوُجُود اسے چھپانا اَدَب ہے۔ اگرچہ نیکی کا اِظْہَار رِوایات میں مَرْوِی ہے مگر اسے چھپانا اَفضل و زیادہ بہتر ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو بھی محبوب ہے۔ یہ نیکی کے خزانے ہیں یعنی تکالیف، مَصَائِب اور صَدَقَہ تین۳چیزیں ایسی ہیں جن کا چھپانا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک عُمدہ ذَخَائِر میں سے ہے۔

فقر کو بچانا

(23)فَقْر کا بچانا اور اسے چھپانا۔

(24)فاقوں کی نَوبَت آجانے کی صُورَت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اس آزمائش پر ثابِت قَدَم رہنا (بھی صبر کی صورتیں ہیں)۔یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا پر راضِی رہنے والے زاہِدین کا حال ہے۔  

صبر محض خدا کے لیے ہو

(25)سب سے اَفضل صبر یہ ہے کہ بندے کو بارگاہِ خداوندی میں حاضِری کا شَرَف حاصِل ہو تو وہ صَبْر کا مُظاہَرہ کرے اور کلامِ خداوندی کو تَوجُّہ سے سنے،دل میں کسی دوسرے خَیال کو نہ آنے دے اور وِجدانی قوّت پر صبر سے کام لے کہ یہ مُقرّبین میں سے خواص لوگوں کا مَقام ہے۔

(26)صبر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے حَیا کی بنا پر ہو۔                        (27)یا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی مَحبَّت میں ہو۔

(28)یا اس کے اَحْکام و رَضا کے سامنے سر جھکا کرہو۔

(29)یا خود کو مُکَمَّل طور پر اس کے حوالے کر کےہو۔ مُراد یہ ہے کہ خود کو قَضا و قَدَر کے حوالے کر کے پُرسُکُون ہو جائے اور اِنْعَامَاتِ باری تعالیٰ کا مُشاہَدہ کرے، سوال اور اس کی حکمتوں کے مُشاہَدےمیں مختلف اَقسام کی حُسْنِ تدبیر کو دیکھے اور آزمائش کے وَقْت دُرُسْت راستے پر رہے کہ یہ تمام باتیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دَرْج ذیل فرامین سے ماخوذ ہیں:

(1) وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ(۷) (پ ۲۹، المدثر:۷)                                   ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے رب کے لیے صَبْر کیے رہو۔

 



[1]………موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب الصبر ،  ۴/ ۲۵ ، حدیث:  ۲۴ ، بتغیر

[2]………ترمذی ،  کتاب الدعوات ،  باب رقم:  ۷۹ ،  ۵/ ۳۰۱ ، حدیث:  ۳۵۱۳ ، بتغیر قلیل

                          مستدرك ،  کتاب الدعاء …الخ ،  باب الدعاء الجامع الذی یختم به المجلس ، ۲/ ۲۱۴ ، حدیث:  ۱۹۷۷ ، بتغیر قلیل

[3]………ترمذی ، كتاب البر والصلة ، باب ما جاءفی الـمِراء ، ۳/ ۴۰۰ ، حديث:  ۲۰۰۰ ، بتغير

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن