30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے اس کا بِدْعَتی ہونا ظاہِر کر دیا ہے۔[1]
اَذَان میں لَحْن[2] بھی ایک بِدْعَت ہے اور اَذان میں ایسا کرنا حد سے تجاوُز کرنا ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ایک مُؤذِّن نے عَرْض کی:میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے آپ سے مَحبَّت رکھتا ہوں۔ تو آپ نے اِرشَاد فرمایا: مگر میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے تمہیں پسند نہیں کرتا۔ عَرْض کی:اے ابو عبدالرحمٰن! وہ کیوں؟ اِرشَاد فرمایا:اس لیے کہ تو اَذان میں (لحن کرتے ہوئے) حَد سے تَجاوُز کرتا ہے اور اس پر اُجْرَت [3] (بھی)لیتا ہے۔[4]
(صاحبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے استاذِ محترم)حضرت سَیِّدُنا ابو بکر آجری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے کہ میں بغداد سے اس حال میں نکلا کہ وہاں میرے لیے کوئی مُناسِب جگہ نہ رہی، کیونکہ لوگ ہر شے میں بِدعتیں اپنانے لگے تھے یہاں تک کہ قرآنِ کریم اور اذان بھی بِدعَتوں سے محفوظ نہ رہے۔ (حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی اپنے استاذِ محترم کے قول کی وَضَاحَت میں فرماتے ہیں کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی اہلِ بغداد کے)بِدْعَتوں کے اپنانے سے مُراد یہ ہے کہ قرآنِ کریم کو چند اَفراد مل کرچھینا جھپٹی کے انداز میں پڑھتے اور اَذان میں لحن کرتے۔ (مزید اپنے استاذِ محترم کے مُتَعَلِّق فرماتے ہیں کہ)آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ۳۰۰ ھ میں مکہ مکرمہ زَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً تشریف لائے تھے۔
مِنْ جُمْلہ بعد والوں نے جن بِدْعَتوں کو اپنایا ان میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے طریقوں کی مُخالَفَت کیا کرتے، یعنی جن باتوں میں بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین نے آسانی سے کام لیا یہ ان میں سختی کرتے اور جن باتوں میں سختی کی یہ آسانی سے کام لیتے۔
اس مُعامَلے میں یہ لوگ خَوارِج کی مِثْل ہیں جنہوں نے صغیرہ گناہوں میں شدّت اپنائی اور آثار و سُنَن اور ترکِ مذہب میں آسانی و رُخْصَت پر عَمَل کیا یہاں تک کہ سب سے جدا ہو کر رہ گئے۔ نیز جن باتوں میں سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین نے آسانی سے کام لیا اور بعد والوں نے سختی برتی ان میں سے چند یہ ہیں:
(1) ۔۔۔۔اَحادِیثِ مُبارَکہ کے مختلف طُرُق لکھنا۔
(2) ۔۔۔۔اَحادِیثِ مُبارَکہ کے طُرُق و اَسانِید کا تَعاقُب کرنا۔
(3) ۔۔۔۔اَحادِیثِ مُبارَکہ کے اَلفاظ میں خوب چھان بین کرنا۔ [5]
حضرت سَیِّدُنا ابن عَون رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نے تین۳اشخاص یعنی حضرت سَیِّدُنا ابراہیم، حضرت سَیِّدُنا اِمام شعبی اور حضرت سَیِّدُنا اِمام حسن بصری رَحِمَہُمُ اللہ ُ تَعَالٰی کو دیکھا کہ وہ مَعانی میں رُخْصَت سے کام لیتے تھے۔جبکہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کی ایک کثیر تعداد اَحادیثِ مُبارَکہ کے مَعانی و مَفاہیم میں وُسْعَت سے کام لیتی اگرچہ اَلفاظ وہ مَفہوم اَدا نہ بھی کرتے۔ چنانچہ اس اعتبار سے جن اُمُور میں سختی سے کام لیا گیا ان میں یہ دو۲اُمُور بھی شامِل ہیں:حُروف کو نِکھار نِکھار کر الگ الگ پڑھنا اور پڑھنے والے کا اپنی مَرضی سے ایک مَفْہوم مُراد لے لینا گویا کہ یہ اس پر فرض ہو۔
علومِ عربیہ و علم نحو اَسلاف کی نظر میں
قِیاس اور نظر و فِکر کی گہرائی اور عُلُومِ عَرَبِیّہ و نَحْو میں مَہارَت حاصِل کرنا بھی بعد کے زمانے کی پیداوار ہے۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَکرَم کا فرمان ہے:ہم نے کلام میں اس قدر فَصَاحَت سے کام لیا کہ کوئی غَلَطی نہ کی مگر اَعمال میں غَلَطِیاں کرتے رہے۔اے کاش! ہم کلام میں غَلَطِیاں کرتے اور اَعمال میں فَصاحَت سے کام لیتے۔ حضرت سَیِّدُنا
[1]………معلوم ہوا جب ایک بدعت کے اپنانے کی وجہ سے کسی کے پاس بیٹھنا منع ہے تو جس کے عقائد میں ہی بگاڑ ہو یعنی بدمذہبوں کے پاس بیٹھنے کے متعلق حکم کیا ہو گا؟چنانچہ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت کے صفحہ نمبر 277 پر ہے کہ جب اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت سے یہ عرض کی گئی کہ اکثر لوگ بد مذہبوں کے پاس جان بوجھ کربیٹھتے ہیں ، ان کے لیے کیا حکم ہے؟تو ارشاد فرمایا: حَرام ہے اور بد مذہب ہوجانے کا اندیشہ کامِل اور دوستا نہ ہو تو دین کے لیے زہرِ قاتِل۔ رسولاللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں : اِیَّاکُمْ وَاِیَّاھُمْ لَایُضِلُّوْنَـکُمْ وَلَایَفْتِنُوْنَـکُمْ۔انہیں اپنے سے دور کرو اور ان سے دور بھاگو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈالیں ۔(مسلم ، مقدمه ، باب النھی عن الروایة عن الضعفاء …الخ ، ص۹ ، حدیث: ۷)اور اپنے نفس پر اعتماد کرنے والا بڑے کذّاب پر اعتماد کرتا ہے ، اِنَّھَا اَکْذَبُ شَیْءٍ اِذَا حَلَفَتْ فَکَیْفَ اِذَا وَعَدَتْ (نفس اگر کوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑھ کر جھوٹا ہے نہ کہ جب خالی وعدہ کرے ۔)صحیح حدیث میں فرمایا : جب دجّال نکلے گا ، کچھ اسے تماشے کے طور پر دیکھنے جائیں گے کہ ہم تو اپنے دین پر مستقیم(یعنی قائم) ہیں ، ہمیں اس سے کیا نقصان ہوگا؟ وہاں جاکر ویسے ہی ہوجائیں گے ۔ (ابو داود ، کتاب الملاحم ، باب ذکر خروج الدجال ، ۴/ ۱۵۷ ، حدیث: ۴۳۱۹ ملخصاً)حدیث میں ہے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : میں حلف سے کہتا ہوں جو جس قوم سے دوستی رکھتا ہے اس کا حشر اسی کے ساتھ ہو گا ۔(مستدرك ، کتاب الھجرة ، ذکر اسماء اھل الصفة ، ۳/ ۵۵۶ ، حدیث: ۴۳۵۰ ملتقطاً)سیدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہمارا ایمان اور پھر حضور کاحَلف (یعنی قسم)سے فرمانا۔ دوسری حدیث ہے: جوکافروں سےمَحبَّترکھےگاوہانہیں میں سےہے۔ امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ شرحُ الصّدور میں نقل فرماتے ہیں : ایک شخص روافض کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔ جب اس کی نزع کا
وقت آیا ، لوگوں نے حسبِ معمول اسے کلمہ طیبہ کی تلقین کی۔ کہا : نہیں کہا جاتا ۔ پوچھا کیوں ؟ کہا : یہ دو۲شخص کھڑے کہہ رہے ہیں تُو ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا جو ا بوبکر وعمر (رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا )کو برا کہتے تھے ، اب یہ چاہتا ہے کہ کلمہ پڑھ کر اُٹھے ، ہر گز نہ پڑھنے دیں گے۔(شرح الصدور ، باب ما یقول الانسان … الخ ، ص۳۸)
[2]………کلماتِ اَذان میں لحن حرام ہے ، مثلاً اللہيا اکبر کے ہمزے کو مد کے ساتھ آللہیا آکبر پڑھنا ، یوہیں اکبر میں بے کے بعد الف بڑھانا حرام ہے۔ یوہیں کلمات اَذان کو قَوَاعِدِ موسیقی پر گانا بھی لحن و ناجائز ہے۔(بہارِ شریعت ، اذان کا بیان ، حصہ سوم ، ۱/ ۴۶۸)اگر اَذان غلط کہی گئی مثلاً لحن کے ساتھ تو اس کا جواب نہیں بلکہ ایسی اَذان سُنے بھی نہیں ۔(المرجع السابق ، ص۴۷۴)
[3]………بہارِ شریعت ، جلد اول صفحہ 475پر ہے: متقدمین نے اَذان پر اجرت لینے کو حرام بتایا ، مگر متأخرین نے جب لوگوں میں سستی دیکھی ، تو اجازت دی اور اب اسی پر فتویٰ ہے ، مگر اَذان کہنے پر احادیث میں جو ثواب ارشاد ہوئے ، وہ انہیں کے ليے ہیں جو اجرت نہیں لیتے۔ خالصاً للہعَزَّ وَجَلَّاس خدمت کو انجام دیتے ہیں ، ہاں اگر لوگ بطورِ خود مؤذِّن کو صاحبِ حاجَت سمجھ کر دے دیں تو یہ بالاتفاق جائز بلکہ بہتر ہے اور یہ اُجرت نہیں ۔
[4]………معجم کبیر ، ۱۲/ ۲۰۵ ، حدیث: ۱۳۰۵۹
مصنف عبدالرزاق ، کتاب الصلاة ، باب البغی فی الاذان الاجر علیه ، ۱/ ۳۵۸ ، حدیث: ۱۸۵۶
مصنف ابنِ ابی شیبه ، کتاب الاذان والاقامة ، باب من کرہ للمؤذن…الخ ، ۱/ ۲۵۸ ، حدیث: ۴
[5]………یہ تینوں کام کرنے میں اگر تفاخر اور دِکھاوا و دنیا کا حُصُول مقصود ہو تو منع ہیں اور اگر مقصود احادیث کی خِدْمَت ہو اور نیک نیتی سے کئے جائیں تو ان میں کوئی حرج نہیں ، یہ مُحَدِّثِینِ کِرام کا طریقہ کار رہا ہے۔ (دار الافتاء اہلسنت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع