دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

(16)عافیت کی حالَت میں صَبْر کرے یعنی کسی نافرمانی کا مُرْتکِب نہ ہو۔

(17)مال و دولت کی فراوانی میں بھی صَبْر کرے یعنی دولت نفسانی خواہشات کی تکمیل میں خرچ نہ کرے۔

(18) کسی نِعْمَت سے سرفراز ہونے پر بھی صَبْر کرے یعنی اس نِعْمَت کی مَدَد سے کسی مَعْصِیَّت میں مبتلا نہ ہو۔

 (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ان تمام باتوں میں مومِن کو صَبْر کی ضَرورت رہتی ہےاور اس سے ان مُعامَلات میں صَبْر کا مُطالَبہ اسی طرح کیا جاتا ہے جیسا کہ فَقْر، تنگدَسْتی اور مَصَائِب و مشکلات میں صَبْر کی حاجَت ہوتی ہے اور بندے سے صَبْر کا مُطالَبہ کیا جاتا ہے۔

مَنْقُول ہے کہ تنگ دستی اور فَقْر کی حَالَت میں ہر مومِن صَبْر کر لیتا ہےمگر عافیت کی حالَت میں صِرف صدیق ہی صَبْر کا دامَن پکڑے رہتا ہے۔ حضرت سَیِّدُنا سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:عافیت کی حَالَت میں صَبْر کرنا مصیبت کے وَقْت صَبْر کرنے سے زیادہ سَخْت ہے۔

خوش حالی اور صبر

مَرْوِی ہے کہ جب دنیا صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے لیے کھول دی گئی اور انہوں نے فَرَاخِی و وُسْعَت پائی تو وہ فرمایا کرتے: ہمیں تنگ دستی سے آزمایا گیا  مگر ہم نے صبر سے کام لیا لیکن جب ہمیں کُشَادَگی و فَرَاخِی سے آزمایا گیا ہے تو صَبْر کا دامَن ہاتھ سے چھُوٹا جا رہا ہے۔[1]

صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے گویا کہ خوش حالی کے ساتھ آزمائش کو بَہُت بڑا خَیال کیا ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کی شان میں اِرشَاد فرمایا:

اَلَّذِیْنَ  یُنْفِقُوْنَ  فِی  السَّرَّآءِ  وَ  الضَّرَّآءِ (پ ۴، اٰل عمران: ۱۳۴)

ترجمۂ کنز الایمان:وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں۔

پس اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس آیتِ مُبارَکہ میں صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے حُسْنِ یقین، سَخاوَتِ نَفْس اور حقیقتِ زُہْد کی وجہ سے ان کی دو۲حالتوں میں ایک ہی وَصْف کے ساتھ تعریف فرمائی ہے۔

مال و اولاد اور صبر

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ-(پ ۲۸، المنافقون: ۹)      

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذِکْر سے غافِل نہ کرے۔

اس لیے کہ ان دونوں صورتوں میں بندہ خوش ہوتاہے اور خوشی میں ذِکْرُ الله سے غافِل ہو جاتا ہے۔  چنانچہ ایک دوسرے مَقام پر اِرشَاد فرمایا:

اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْۚ-(پ ۲۸، التغابن: ۱۴)                  

ترجمۂ کنز الایمان:تمہاری کچھ بیبیاں اور بچے تمہارے دشمن ہیں تو ان سے اِحْتِیاط رکھو۔

ایسا اس لیے فرمایا کہ اَزْوَاج و اَولاد میں ایسی خوشی پائی جاتی ہے جو نفسانی خواہش کے مُوافق ہوتی ہے اور جب یہ دونوں باتیں پائی جائیں تو اَحْکامِ باری تعالیٰ کی مُخالَفَت کا سامان پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا اَنْجَام کے اعتبار سے ان دونوں کو دشمن قرار دیا گیا۔

اسی سلسلے میں مَرْوِی ہے کہ جب محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُناامام حَسَن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی قمیص میں اُلَجھ کر گِرتے دیکھا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فوراً مِنْبَر اقدس سے نیچے تشریف لائے اور انہیں گود میں اٹھا کر اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے سچ فرمایا ہے:

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌؕ-(پ ۲۸، التغابن: ۱۵)

ترجمۂ کنز الایمان:تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں۔[2]

یعنی مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جب میں نے اپنے بچے کو اس حالَت میں دیکھا تو میں اسے اٹھانے کے لیے خود پر قابو نہ رکھ پایا۔

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ دو۲جہاں کے تاجْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان میں)عَقْل مندوں کے لیے  عِبْرَت  کا سامان ہے۔ چنانچہ ایک حدیثِ پاک میں ہے کہ اولاد غم، بُخْل اور بُزدِلی کا باعِث ہے۔[3] معلوم ہوا اولاد غم، بُخْل اور بُزدِلی کا مَصْدَر ہے یعنی اولاد اور مال کی مَحبَّت ان چیزوں پر اُبھارْتی ہے۔

اَلْغَرَضْ جس نے خوش حالی یعنی عافیت، غِنا اور اولاد وغیرہ کی مَوجُودَگی میں صَبْر کیا اور اشیا کو ان کے حَق کے مُطابِق لیا اور حَق کے مُطابِق  ہی ان کو دُرُسْت جگہ رکھا تو وہ صابِرین و شاکِرین میں شُمار ہو گا کہ فَقْر و اِبْتِلا میں مبتلا لوگ رَضا  و شُکْر کی حقیقت کے علاوہ کسی شے سے تَجاوُز نہیں کرتے، جبکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بھی انہیں خوش حالی و تنگ دستی کی حالَتوں کے درمیان جَمْع فرمایا اور ان دونوں کو مُتَّقِیْن کی صِفَت قرار دیا اور اِحسان کے ساتھ ان کی تعریف فرمائی۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:

اُعِدَّتْ  لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۱۳۳)الَّذِیْنَ  یُنْفِقُوْنَ  فِی  السَّرَّآءِ  وَ  الضَّرَّآءِ  وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ ۴، اٰل عمران:۱۳۳،۱۳۴)

ترجمۂ کنز الایمان:پرہیزگاروں کے لیے تیار رکھی ہے وہ جو اللہ کی راہ میں خَرْچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصّہ پینے والے اور لوگوں سے دَرْگُزَر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔

صبر جمیل

(19)مَصَائِب و تکالیف کو چھپانا اور ان کی شِکایَت نہ کر کے راحَت پانا بھی صَبْر ہی ہے،بلکہ یہ صَبْرِ جَـمِیل ہے۔ مَنْقُول ہے کہ صَبْرِ جَـمِیل ہوتا ہی وہ ہے جس میں کوئی شِکایَت ہو نہ کوئی



[1]………ترمذی ،  کتاب الزھد ،  باب رقم۳۰ ،  ۴/ ۲۱۱ ، حدیث:  ۲۴۷۲ ، بتغیر قلیل

                      اعتلال القلوب للخرائطی ،  باب التخطیالى ذوات المحارم ،  ذكر من فتنة النسآء…الخ ، ۱/ ۱۰۹ ، حديث:  ۲۱۹ ، بتغیر قلیل

[2]………ترمذی ، کتاب المناقب ،  باب مناقب ابی محمد الحسن…الخ ،  ۵/ ۴۲۹ ، حدیث:  ۳۷۹۹

                             ابو داود ،  کتاب الصلاة ، باب الامام يقطع الخطبة لامر يحدث ، ۱/ ۴۱۰ ، حديث:  ۱۱٠۹

[3]………ابن ماجه ،  كتاب الادب ،  باب بر الوالد والإحسان إلى البنات ، ۱/ ۱۸۷ ، حدیث:  $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن