30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باری تعالیٰ میں ہے:
(1) وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)(پ ۱۴، النحل: ۱۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر تم سزا دو تو ویسی ہی سزا دو جیسی تکلیف تمہیں پہنچائی تھی اور اگر تم صَبْر کرو تو بے شک صَبْر والوں کو صَبْر سب سے اچھّا۔
(2) وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ(۴۱) (پ ۲۵، الشورٰی: ۴۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک جس نے اپنی مظلومی پر بدلہ لیا ان پر کچھ مُوَاخَذہ کی راہ نہیں۔
(3) وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)(پ ۲۵، الشورٰی: ۴۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک جس نے صَبْر کیا اور بخش دیا تو یہ ضَرور ہمّت کے کام ہیں۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)مذکورہ آیات میں دو۲باتیں مذکور ہیں۔ پہلی یہ کہ بدلہ لینا اور حَق کی مَدَد کرنا عَدْل ہے اور عَدْل ایک اچھّا کام ہے جبکہ دوسری بات یہ ہے کہ بدلہ لینے کے بجائے مُعاف کر دیا جائے اور صَبْر کیا جائے کہ یہ فضیلت کا باعِث ہے اور اِحسان میں شُمار ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اَلَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۱۸)(پ ۲۳، الزمر:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:(تو خوشی سناؤمیرے)ان بندوں کو جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں یہ ہیں جن کو اللہ نے ہِدَایَت فرمائی اور یہ ہیں جن کو عَقْل ہے۔
بات کا تَوَجُّہ سے سننا عَدْل ہے اور عَدْل اچھّی چیز ہے ، نیز مُعاف کرنا بَہُت بہترہے، اس آیتِ مُبارَکہ میں ہِدَایَت اور عَقْل کے اَوصاف بیان کیے گئے ہیں جو کہ مُـخْبِتِیْن (یعنی عجزو انکسار کے پیکر لوگوں) کا مَقام ہے۔
منقول ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں جو کسی پر ظُلْم نہیں کرتے اور اگر ان پر ظُلْم کیا جائے تو بدلہ نہیں لیتے۔
پس اس وَصْف سے مُتَّصِف لوگ تواضُع کے مَقامِ رَفیع پر فائز ہیں اور یہی وہ مَقام ہے جہاں بندہ خوفِ خدا کا پیکر بن جاتا ہے اور آخِرَت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے مِلنے والی بہترین جزا پر مطمئن ہوتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ بَہُت جَلْد دنیا فَنا ہونے والی ہے اور اسے عنقریب بارگاہِ خداوندی میں حاضِر ہونا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ(۸۵) (پ ۱۴، الحجر: ۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک قِیامَت آنے والی ہے تو تم اچھّی طرح درگزر کرو۔
صَبْر اور تقویٰ دو۲ایسی چیزیں ہیں جن میں سے ہر ایک دوسری پر مَوقُوف ہے یعنی کوئی بھی دوسری کے بغیر کامِل نہیں۔ لہٰذا جس کا مَقام تقویٰ ہو صَبْر اس کا حال ہوتا ہے۔ اس اِعْتِبَار سے صَبْر تمام اَحْوَال سے اَفضل ہے کیونکہ تقویٰ کا مَقام تمام مَقامات سے اَفضل ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ سب سے زیادہ پرہیزگار شخص ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں سب سے زیادہ عزّت والا ہے اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں مکرّم ہو وہی سب سے اَفضل ہو گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے صَبْر کو یہ شَرَف عَطا فرمایا کہ صَبْر کا حکْم دینے کے بعد اس کی نِسْبَت اپنی جانِب فرمائی۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ(پ ۱۴، النحل:۱۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اے محبوب تم صَبْر کرو اور تمہارا صَبْر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔
اسی طرح اِرشَاد فرمایا:
وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ(۷)(پ ۲۹، المدثر:۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے رب کے لیے صَبْر کیے رہو۔
ہر شے اور ہر نیک عَمَل اگرچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لیے ہے مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی بندے کی اس وَقْت تک تعریف نہیں فرماتا جب تک کہ اسے آزمائش میں مبتلا نہ کر دے، اگر وہ صَبْر کرے اور اس آزمائش سے صحیح سالِم نکل آئے تو اس کی تعریف و توصیف فرماتا ہے ورنہ اس کے جھوٹ اور دعوے کی قَلْعِی کھول دیتا ہے۔
جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے عَرْض کی گئی:سب سے اَفضل عَمَل کون سا ہے؟ اِرشَاد فرمایا:آزمائش کے وَقْت صَبْر کرنا۔
کسی عالِم کا فرمان ہے کہ صَبْر سے بڑھ کر اَفضل کون سی شے ہو سکتی ہے؟ جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے 90سے زائد مرتبہ قرآنِ کریم میں مختلف مَقامات پر اس کا تذکرہ فرمایا ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ صبر کے عِلاوہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کسی دوسرے شے کا اتنی کثیر تعداد میں ذِکْر فرمایا ہو۔ لہٰذا ہر گز کسی شخص کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے تعریف و توصیف کی طَمَع نہیں کرنی چاہئےجب تک کہ وہ مصیبت کا شِکار ہو کر اس پر صَبْر نہ کر لے، اسی طرح اسے حقیقتِ ایمان اور حُسْنِ یقین کی طَمَع بھی ہر گز نہیں رکھنی چاہئےجب تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانِب سے اسے تعریف و توصیف کی سَنَد نہیں مل جاتی۔ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کے ظاہِری اَعْضَا پر تمام نیک اَعمال ظاہِر فرما دے مگر اچھّے وَصْف سے مُتَّصِف ہونے اور ہر قسم کی خیر و بھلائی پانے کے باوُجُود اسے تعریف و توصیف کی کوئی سَنَد نہ ملے تو ایسے شخص کو بُرے خاتِمہ سے بے خوف نہیں ہونا چاہئے۔ اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَخلاق میں سے ہے کہ جب وہ کسی بندے کو پسند فرماتا ہے اور اس کے عَمَل سے راضی ہوتا ہے تو اس کی تعریف وتوصیف فرماتا ہے۔ لہٰذا جسے وہ کسی ناپسندیدہ مُعامَلے، سختی یا نفسانی خواہش و شہوت میں مبتلا کرے تو اسے چاہئے کہ مُطْلَق صَبْر کرے خواہ اس کا یہ صَبْر خالِص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہو یا نہ ہو۔ (اگر اس نے ایسا کیا تو) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اپنے جُود و کَرَم کے عِلاوہ تعریف و توصیف کی سَنَد بھی عطا فرمائے گا اور یوں اس کا نام بھی ان لوگوں کی صَف میں شامِل ہو جائے گا جن کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تعریف و توصیف فرمائی ہے۔ اس وَقْت اس کے قَدَم لَغْزِش سے محفوظ ہو جائیں گے اور اس کی تقدیر میں بھی نیک اَعمال لکھ دئیے جائیں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع