30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(7) مخلوق کو تکلیف پہنچانے سے باز رہاجائے کہ یہ عَدْل کرنے والوں کا مَقام ہے، نیز مخلوق سے تکلیف پاکر اسے برداشت کیاجائے کہ یہ مُـحْسِنِیْن کا مَقام ہے۔ یہ دونوں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کے تحت داخِل ہیں: (اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ(پ ۱۴، النحل: ۹۰)) ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ حکْم فرماتا ہے اِنصاف اور نیکی (کا)۔)
(8) راہِ خُدا میں خرچ کیا جائے اور حَق داروں کو دَرَجہ بَدَرَجہ ان کے حُقوق ادا کیے جائیں کہ یہ راہِ خدا میں خرچ کرنے والوں کا مَقام ہے۔چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:(وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ-یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۹۰)(پ ۱۴، النحل: ۹۰)) ترجمۂ کنز الایمان: اور (بے شک اللہ حکْم فرماتا ہے)رشتہ داروں کے دینے کا اور مَنْع فرماتا ہے بے حَیائی اور بُری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔)
(9) بے حَیائی یعنی عِلْم اور اِیمان کے اُمُور میں فُحْش کاموں سے بچنا بھی صَبْر ہے۔
(10) بُری باتوں سے بچنا بھی صَبْر ہے یعنی جن باتوں کو عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام بُرا جانتے ہیں۔
(11) بَغَاوَت و سرکشی یعنی ظُلْم و زِیادَتی سے دُور رہنا بھی صَبْر ہے۔
(12) اُمُورِ دنیا میں فُضُول خَرچی کرنے،تکبُّر کے ذریعے حُدُودِ باری تعالیٰ سے تَجاوُز کرنے اور (اُمُورِ دینیہ میں) غُلُو سے بچنا بھی صَبْر ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) سورہ نَحل کی مذکورہ آیَت (نمبر 90) صَبْر کے مَفہوم پر دَلالَت کرنے والی ایک جامِع آیَت ہے جو قرآنِ کریم کے قُطب کی حَیْثِیَّت رکھتی ہے۔ اس میں تین۳باتوں یعنی اِنصاف، نیکی اور راہِ خُدا میں خَرْچ کرنے کا حکْم دیا گیا ہے اور تین۳باتوں سے یعنی بے حَیائی و بُری باتوں اور سرکشی سے مَنْع کیا گیا ہے۔
حضرت سَیِّدُنا عبداللہبن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:اَمْرٌۢ بِالْـمَعْرُوْف وَنَـھْیٌ عَنِ الْـمُنْکَر کے اِعْتِبَار سے قرآنِ کریم کی سب سے جامِع آیَتِ مُبارَکہ یہی ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ(۵۸) الَّذِیْنَ صَبَرُوْا(پ ۲۱، العنکبوت:۵۸، ۵۹)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا ہی اچھّا اجر کام والوں کا وہ جنہوں نے صَبْر کیا۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ان کے اَجَر کی عُمدگی کو اسی وَقْت بیان فرمایا جب ان کے صَبْر سے مُتَّصِف ہونے کا ذِکْر فرمایا اور اسی طرح ان کے رِزْق اور اَوصَاف کے بہترین ہونے کو بھی اسی وَقْت ذِکْر فرمایا جب صَبْر کے ساتھ ان کی تعریف فرمائی۔
صَبْر کی ضَرورت عَمَل سے پہلےبھی ہوتی ہے، اس کے ساتھ اور بعد میں بھی۔
عَمَل کے آغاز میں صبر کی ضَرورت
عَمَل کے آغاز میں صَبْر کی ضَرورت کی صُورت کچھ یوں پیش آتی ہے کہ بندے کی نیّت دُرُسْت ہو، اِرادہ پختہ ہو اور وہ وعدے کو بھی پورا کرے تاکہ اس کے اَعمال دُرُسْت ہوں۔ اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: اَعمال کا دار ومَدار نیّتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی وہ نِیّت کرے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﳔ(پ ۳۰، البینة: ۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ان لوگوں کو تو یہی حکْم ہوا کہ اللہ کی بَنْدَگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ۔
نِیّت کی حقیقت اِخْلَاص ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے صَبْر کو عَمَل سے پہلے ذِکْر فرمایا۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱)(پ ۱۲، ھود:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:مگر جنہوں نے صَبْر کیا اور اچھّے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔
عَمَل کے ساتھ بھی صَبْر کی ضَرورت پیش آتی ہے یہاں تک کہ عَمَل مُکَمَّل ہو جائے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ(۵۸) الَّذِیْنَ صَبَرُوْا (پ ۲۱، العنکبوت:۵۸، ۵۹)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا ہی اچھّا اَجَر کام والوں کا وہ جنہوں نے صَبْر کیا۔
عَمَل کے بعد بھی صَبْر کی ضَرورت رہتی ہے اور اس سے مُراد یہ ہے کہ عَمَل کو(جہاں تک مُمکِن ہو) چھپایا جائے اور اسے ظاہِر نہ کیا جائے بلکہ اس کی جانِب دیکھا تک نہ جائے تا کہ نام و نَمُود اور عُجب و خود پسندی سے محفوظ رہے اور اس کا ثواب مُکَمَّل ہو جیسا کہ وہ ریاکاری سے محفوظ رہا۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ(۳۳) (پ ۲۶، محمد: ۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کا حکْم مانو اور رسول کا حکْم مانو اور اپنے عَمَل باطِل نہ کرو۔
اسی کی مِثل ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-(پ ۳، البقرة: ۲۶۴)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع