30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭۔۔۔۔یاد رکھئے! صَبْر کرنے والے جن لمحات میں مَصَائِب کا شِکار ہوتے ہیں ان میں ان کا اَجَر ان نعمتوں کے اَوقات سے بَہُت زیادہ ہوتا ہے جن میں وہ مَصَائِب سے محفوظ رہتے ہیں۔[1]
صابِرین کے لیے بے حِساب اجر و ثواب
رِوایات میں ہے کہ ہر شخص کو اس کا اَجَر ایک مخصوص حِساب اور حَد کے مُطابِق دیا جائے گا مگر صَبْر کرنے والوں کو ان کا اَجَر بغیر کسی حِساب اور حَد کے دیا جائے گا۔
ایک رِوایَت میں ہے کہ جنّت کے تمام دروازوں کے دو۲کِواڑ ہیں، ان پر بَہُت سے لوگ (جنّت میں داخِل ہونے کے لیے) آئیں گے مگر صَبْر کے دروازے کا ایک ہی کِواڑ ہے اور اس میں سے صِرف دنیا میں مصیبتوں پر صَبْر کرنے والے ہی ایک ایک کر کے داخِل ہوں گے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مخلصین کی جزا کے مُتَعَلِّق اِرشَاد فرمایا:( اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ(۴۱)(پ ۲۳، الصّٰفّٰت:۴۱)) ترجمۂ کنز الایمان:ان کے لیے وہ روزی ہے جو ہمارے عِلْم میں ہے۔) اور صابِرین کی جزا کے متعلِّق اِرشَاد فرمایا:( اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)(پ ۲۳، الزمر:۱۰)) ترجمۂ کنز الایمان: صابِروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی۔) اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں مَنْقُول ہے کہ صَبْر کرنے والوں کو چُلّو بھر بھر کے اَجَر دیا جائے گا۔ اس لیے کہ٭… صَبْر نَفْس پر سب سے زیادہ مُشکِل اور ناگوار ہوتا ہے۔
٭… یہ طبیعت پر گراں اور دُشْوَار ہوتا ہے۔
٭… اس میں ذِلّت کے وَقْت غصّے کو ضَبْط اور بُرْدباری کے مَوْقَع پردَرْد و اَلَم بَرْدَاشْت کرنا پڑتا ہے۔
٭… صَبْر سے عِجز و اِنکساری اور خاموشی ایسے اَوصَاف پیدا ہوتے ہیں۔
٭… صَبْر سے اَدَب اور حُسْنِ خُلْق پیدا ہوتا ہے۔
٭… صَبْر کے ذریعے ہی مخلوق سے تکلیف پا کر اسے برداشت کرنے اور مخلوق کو تکلیف پہنچانے سے باز رہنے کی قوّت پیدا ہوتی ہے۔
یہ وہ لازِمی اُمُور ہیں جن پر عَمَل کی بنا پر اکثر اَوقات سینوں میں گھٹن پیدا ہو جاتی ہے، نُفُوس انہیں پسند نہیں کرتے بلکہ انہیں تکلیف اور سختی کو برداشت کرنے پر مجبور کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ مَرْوِی ہے کہ سب سے اَفضل اَعمال وہ ہیں جو نَفْس پر گراں ہوں۔[2]
یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مُتَّقِیْن اور صَادِقین پر مَصَائِب و تکالیف میں صَبْر کرنا شَرْط ٹھہرایا ہے ۔ صَبْر کے ذریعے ہی صَادِقین کا صِدْق اور مُتَّقِیْن کا تقویٰ ثابِت ہوتا ہے، نیز صَبْر کے ذریعے ہی ان کے اَوصَاف اور نیک اَعمال کامِل ہوں گے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ
هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۱۷۷) (پ ۲، البقرة: ۱۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جِہاد کے وَقْت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچّی کی اور یہی پرہیز گار ہیں۔
صَبْر یہ ہے:
٭… نَفْس کو اس کی خواہشات کی تکمیل میں کوشِش کرنے سے روکنا اور رَضائے خداوندی کے حُصُول کے لیے اسے مُجاہَدے کا پابند بنانا کہ جس قدر بندہ مصیبت کا شِکار ہو گا اسی کی مِثل مُجاہَدہ اس پر لازِم ہو گا کیونکہ مُجاہَدہ آزمائش و مصیبت کے اعتبار سے ہی ہوتا ہے۔
٭… نَفْس کو شَر کی جانِب بڑھنے سے روکنا اور اسے ہمیشہ نیکی پر عَمَل پیرا ہونے کا پابند بنانا۔
٭… نَفْس کو اس کے اُن فِطْرِی اَوصَاف میں شِدّت اَپنانے سے باز رکھنا جن کا اِظہار بارگاہِ خداوندی میں بے اَدَبی شُمار ہوتا ہے اور اسے مُعامَلات میں حُسْنِ اَدَب کا پابند بنانا۔
صَبْر کی دَرْج ذیل صُورَتیں بھی ہیں:
(1) مُـخْتَلِف نفسانی خواہشات پر (ان کے اِعْتِبَار سے) صَبْر کیا جائے۔
(2) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طَاعَت میں ثابِت قَدَمی پرقائم رہنے میں صَبْر کا مُظاہَرہ کیا جائے۔
(3) جن صورتوں میں مُجاہَدہ لازِم ہو ان میں خُوب ہِمَّت صَرف کی جائے اور دل کو نفسانی خواہشات، شیطانی وسوسوں اور آرائشِ دنیا سے پاک رکھا جائے۔
(4) بعض آفات میں صَبْر کرنا اس لیے لازِم ہوتا ہے کہ ظاہِری جسمانی اَعْضَا ان (سے بچاؤ) سے قاصِر ہوتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں تو دِل کو بھی ان آفات میں مشغول ہونے سے روکا جاتا ہے۔
(5) نَفْس کو حَق بات کا پابند بنا کر اسے زبان، دِل اور مُکَمَّل جِسْم کے ساتھ حَق بات سے وَابَسْتہ کر دیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نیک اَعمال بجا لانے والے مومنین کی یہ صِفَت بیان کی ہے کہ وہ صَبْر کرنے والے ہوتے ہیں، نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے اَعمال کی دُرُسْتی کے لیے صَبْر کو شَرْط ٹھہرایا ہے اور خَبَر دی ہے کہ حَق اور صَبْر والوں کے عِلاوہ باقی تمام لوگ خَسارے میں ہیں ۔ چنانچہ (سورۂ عَصْر میں) صَبْر کی عَظَمَت یوں بیان کی کہ اس کی الگ سے وَصِیَّت فرمائی۔
(6) نَفْس کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادَت کا پابند بنایا جائے اور اسے قَناعَت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا (یعنی اس نے جو رِزْق اس کے مُقَدَّر میں لکھا ہے اس)پر راضی رہنے کا عَادِی بنایا جائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع