30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ اس طرح یہ دونوں طَمَع کے سَبَب نام کے اِعْتِبَار سے تو اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّکا حکْم نہ ماننے پر مُتَّفِق ہو گئے مگر اپنی طَمَع والی
شے اور حکْم کے اِعْتِبَار سے دونوں میں بَہُت فَرْق تھا۔ لہٰذا یہی وجہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنا آدَم عَلَیْہِ السَّلَام کی اس لَغْزِش کی تَلافی تو ان کی حُسْنِ تقدیر کی بنا پر ہو گئی مگر اِبلیس لَعین اپنی اَزَلی بدبختی کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔
طَمَع دل میں پیدا ہونے والے خَیال کی تصدیق کرنے کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے شیطان کو اس وَصْف سے مُتَّصِف فرمایا ۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ (پ ۲۲، سبا:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک ابلیس نے انہیں اپنا گمان سچ کر دکھایا۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) گمان یقین کی ضِد ہے جو کسی بھی شے کو حَق سے مُسْتَغْنِی نہیں کر سکتا۔چنانچہ،
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مُشْرِکِین کا وَصْف بیان کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا ہے:
اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ(۳۲)(پ ۲۵، الجاثیة:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان:ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں یقین نہیں۔
جس نے مخلوق کے مُعامَلے میں صَبْر سے کام لیا تو اس کا صَبْر اسے وَرَع کی جانِب لے جائے گا اور جس نے دین میں وَرَع و تقویٰ پر صَبْر کا مُظاہَرہ کیا صبر اسے زاہِدین میں شامِل کر دے گا۔ مگر جس نے جھوٹے گمان کی تصدیق میں طَمَع کی تو طَمَع اسے حُبِّ دنیا میں داخِل کر دے گی اور جس کے دل میں دنیا کی مَحبَّت ہو وہ اسے دین کی حقیقت سے دُور کر دے گی۔
عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام فرماتے ہیں:ہم اس شخص کا اِیمان کامِل نہیں سمجھتے تھے جسے (راہِ خدا میں) کوئی تکلیف نہ پہنچی ہوکہ وہ اس تکلیف کو برداشت کرے اور اپنے ایمان (کی قوّت) کی بِنا پر اس پر صَبْر کرے۔ حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مومنین کے ساتھ بھی بطورِ اِمْتِحَان ایسا مُعامَلہ فرمایا اور اس بات کی خبر بھی دی کہ یہ مصیبت ان پر بطورِ عَذاب نہیں بلکہ یہ اس شخص کے لیے آزمائش ہے جس کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرادہ فرمایا ہے۔ نیز یہ مصیبت زدہ شخص کے لیے رحمت اور خیر و بھلائی کا باعِث ہے۔ جیسا کہ اِرشَاد فرمایا:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِؕ-(پ ۲۰، العنکبوت:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بعض آدمی کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب اللہ کی راہ میں انہیں کوئی تکلیف دی جاتی ہے تو لوگوں کے فتنہ کو اللہ کے عَذاب کے برابر سمجھتے ہیں۔
مُراد یہ ہے کہ وہ اس تکلیف کی وجہ سے لوگوں کے فتنے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عَذاب کے برابر سمجھتا ہے جبکہ یہ عَذابِ خُداوندی نہیں بلکہ اس کی جانِب سے باطِنی رحمت ہے۔ جیسا کہ اس کا فرمان ہے:
وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ ﳔ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ(۱۶) كَلَّا (پ ۳۰، الفجر:۱۶، ۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر آزمائے اور اس کا رزق اس پر تنگ کرے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے خَوار کیا یوں نہیں۔
یعنی میں نے فَقْر کے ذریعے اسے خَوار (بے عزّت)نہیں کیا جیسا کہ دوسروں کو نعمتوں سے نواز کر انہیں عزّت نہیں بخشی۔ اسی مَفہوم میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِرشَاد فرمایا کہ وہ صَبْر کریں کہ جس کا انہیں حکْم دیا گیا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ (پ ۲۳، ص: ۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تم ان کی باتوں پر صَبْر کرو اور ہمارے بندے داود کو یاد کرو۔
اس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تسلی دی اور فضیلت بخشی۔
مَرْوِی ہے کہ (بروزِ قِیامَت) اَہْلِ زمین میں سے سب سے زیادہ شُکْر گزار بندے کو (بارگاہِ خداوندی میں) حاضِر کیا جائے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے شُکْرگزار بندوں کی جزا عَطا فرمائے گا، پھر اَہْلِ زمین میں سے سب سے زیادہ صَبْر کرنے والے شخص کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا:کیا تو اس بات پرراضی ہے کہ ہم تجھے اس شُکْرگزار بندے جیسی جزا عَطا فرمائیں؟ عرض کرے گا: جی ہاں !اے میرے پروردگار ! (میں اس جزا پر راضی ہوں) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِرشَاد فرمائے گا:نہیں ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ میں نے اسے نعمتوں سے نوازا تو اس نے شُکْر کیا مگر تجھے مَصائب میں مبتلا کیا اور تو نے صَبْر کیا یقیناً تجھے میں اس سے دُگنا اَجَر عَطا فرماؤں گا۔ پس اسے شُکْرگزار بندوں سے دُگنا اَجَر دیا جائے گا۔
سیدنا اِبْنِ اَبِی نُـجَیْح کی تین۳نصیحتیں
حضرت سَیِّدُنا اِبْنِ اَبِی نُـجَیْح رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے کسی خلیفہ سے تَعْزِیَت کرتے ہوئے اپنے ایک مکتوب میں لکھا:
٭۔۔۔۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جو شے واپَس لے لی ہے اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حَق کو پہچاننے والے سے زیادہ حَق دار وہ شخص ہے جس نے اس شے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حَق کو عظیم جانا جو اس کے پاس ابھی باقی ہے۔
٭۔۔۔۔جان لیجئے !آپ سے پہلے جو کچھ گزر چکا وہ آپ کے لیے (یعنی آپ کے نامۂ اَعمال میں) باقی رہے گا اور جو کچھ آپ کے بعد باقی رہے گا اس میں آپ کو اَجَر دیا جائے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع