30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَقْت صَبْر کرنے والے شخص کے سوا کسی کی تعریف نہیں فرمائی ۔ پس صَبْر ہی کی وجہ سے بندہ قابِلِ تعریف بنا۔
مزید فرماتے ہیں :مومنین میں صالحین، صالحین میں صادِقین اور صادِقین میں صابِرین بَہُت کم ہیں۔ (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) حضرت سَیِّدُناسَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی نے صبر کو صِدْق کی خاصیَّت اور صابِرین کو صادِقین کے خواص قرار دیاہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵)(پ ۲۲، الاحزاب:۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمانبردار اور فرمانبرداریں اور سچے اور سچیاں اور صَبْر والے اور صَبْر والیاں اور عاجِزی کرنے والے اور عاجِزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نِگاہ رکھنے والے اور نِگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بَہُت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ اس آیتِ مُبارَکہ میں) اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ترتیبِ مَقامات کے لِـحَاظ سے صَابِرین کو صَادِقین سے بُلَند قرار دیااور صَبْر کو صِدْق کا ہی ایک مَقام ٹھہرایا۔ اگر اس آیتِ مُبارَکہ میں مذکور تمام اَوصاف کو مسلمانوں کی ایک ہی صِفَت مان لیا جائے تو ان تمام اَوصَاف کے درمیان واؤ مَدْح کے لیے ہو گی لیکن اگر ان تمام اَوصاف کو مختلف مَقامات مانا جائے تو اس صُورَت میں واؤ ترتیب کے لیے ہو گی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صابِرین صَادِقین سے بلندتر ہیں۔
حضرت سَیِّدُنا ابن عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَرْوِی ہے کہ (ایک بار) جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَنصار کے پاس تشریف لائے تو فرمایا:کیا تم سب مومِن ہو؟ سب خاموش رہے تو امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعمر فاروقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عَرْض کی:جی ہاں! یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!(ہم مومِن ہیں)۔ دَرْیَافْت فرمایا:تمہارے اِیمان کی عَلامَت کیا ہے؟عَرْض کی:ہم خوشحالی و فراخی میں اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّکا شُکْر بجا لاتے ہیں، مصیبت کے نُزول پر صَبْر کرتے ہیں اور قَضائے اِلٰہی پر راضِی رہتے ہیں۔تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: رَبِّ کعبہ کی قَسَم! (تم واقعی) مومِن ہو۔[1]
عَمَل کے اعتبار سے صبر کی اقسام
عَمَل کے اِعْتِبَار سے صَبْر کی دو۲قسمیں ہیں۔ پہلی قِسْم کے بغیر دین کی اِصلاح نہیں ہو سکتی جبکہ دوسری قِسْم دین میں فَساد پیدا کرنے کی اَصْل ہے۔ اس کے علاوہ بھی صَبْر کی دیگر کئی صُورَتیں ہیں۔ لہٰذا جن اُمُور میں دین کی اِصلاح ہو ان پر صَبْر سے مُراد یہ ہے کہ ثابِت قَدَم رہے تا کہ اس کا اِیمان کامِل ہو اور جن اُمُور میں فسادِ دین کا اندیشہ ہوان میں صَبْر یہ ہے کہ ان سے دُور رہے تاکہ اس کا یقین بہتر ہو۔
اس مَفہوم پر دَلالَت کرنے والی ایک رِوایَت امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعلی المرتضٰی شیر خدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مَرْوِی ہے۔ چنانچہ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بصرہ تشریف لائے اور وہاں کے ضَروری اُمُور کی اَنْجام دَہی سے فارِغ ہوئے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے شہر کی جامِع مَسْجِد میں جا کر قصّے کہانیاں سُنانے والوں کو مَسْجِد سے باہَر نِکال دیا اور اِرشَاد فرمایا:قصّہ گوئی بِدْعَت ہے۔ مگر جب ایک نوجوان کے پاس پہنچے جو لوگوں کے جھرمٹ میں بیٹھا انہیں وعظ و نصیحت کر رہا تھا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس کے پاس کچھ دیر کے لیے ٹھہر گئے،آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اس کی باتیں اچھّی لگیں اور اِرشَادفرمایا:اے نوجوان!میں تم سے دو۲ باتیں پوچھوں گا اگر تم نے ان کا دُرُسْت جواب دیا تو ہی تمہیں ان لوگوں کو وَعظ و نصیحت کرنے کی اِجازَت
دوں گا ورنہ تمہیں بھی دوسرے لوگوں کی طرح مَسْجِد سے نِکال دوں گا۔ اس نوجوان نے (بَصَد اِحْتِرام) عَرْض کی:اے امیر المومنین پوچھئے؟ چنانچہ آپ نے دَرْیَافْت فرمایا: یہ بتاؤ دین کی اِصلاح اور فَساد کِن اشیا میں ہے؟ عَرْض کی:دین کی اِصلاح وَرَع و تقویٰ میں اور فساد طَمَع و لالَچ میں ہے۔ (یہ جواب سن کر) اِرشَادفرمایا: تو نے سچ کہا ہے،تو لوگوں کو وَعظ کر سکتا ہے کہ تیرے جیسے لوگ ہی لوگوں کو وَعظ کرنے کے اَہْل ہیں۔ مَنْقُول ہے کہ یہ نوجوان عِلْمِ مَعْرِفَت کے اِمام یعنی اِمامُ الائمہ اِمام حَسَن بِن یَسار بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی تھے۔
حضرت سَیِّدُنامیمون بن مِہران عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:اِیمان، تصدیق، مَعْرِفَت اور صَبْر ایک ہی شے ہیں۔ حضرت سَیِّدُناابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: اِیمان کی بُلَندی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکْم پر صَبْر کرنا اور تقدیر پر راضِی رہنا ہے۔[2]
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)وَرع زُہْد کی اِبْتِدَا ہے جو اَبوابِ آخِرَت کا پہلا دروازہ ہے جبکہ طَمَع رَغْبَت کی اِبْتِدَا ہے جو اَبوابِ دُنیا کا ایک بَہُت بڑا دروازہ ہے۔ طَمَع کا پیدا ہونا حُبِّ دنیا کی عَلامَت اور حُبِّ دنیا ہر بُرائی کی جڑ ہے۔
سب سے پہلی اجتہادی خطا
مَنْقُول ہے کہ سب سے پہلی اِجتہادی خَطا جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حکْم عُدُولی ہوئی وہ طَمَع (یعنی حِرْص، اِنتہائی خواہش) ہے۔ مُراد یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے طَمَع کی (یعنی آپ کے دل میں ہمیشہ رہنے کی خواہش نے شِدّت پکڑی) تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے شجرِ ممنوعہ سے کھا لیا اور اُدھر اِبلیس لَعین نے طَمَع کی کہ وہ کسی طرح آپ کو جنّت سے نکال دے۔ چنانچہ اس نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع