30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ-وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۶)(پ ۱۴، النحل:۹۶)
ترجمۂ کنز الایمان:جو تمہارے پا س ہے ہو چکے گا اور جو اللہ کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا ہے اور ضَرور ہم صَبْر کرنے والوں کو ان کا وہ صِلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھّے کام کے قابِل ہو۔ [1]
حضرت سَیِّدُنا جابِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سَروَرِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اِیمان کے مُتَعَلِّق عَرْض کی گئی (کہ یہ کیا ہے؟) تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا: (اِیمان دو۲چیزوں کا نام ہے یعنی)صَبْر اور سَخاوَت ۔[2]
اَصْدَقُ الْقَائِلِین یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا(پ ۲۰، القصص:۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:ان کو ان کا اَجَر دوبالا دیا جائے گا بدلہ ان کے صَبْر کا۔
ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
اِنَّمَایُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) (پ ۲۳، الزمر: ۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:صابِروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مذکورہ پہلی آیتِ مُبارَکہ میں ہر عَمَل پر صَبْر کرنے والوں کو دوگنا اَجَر عَطا فرمایا، پھر دوسری آیَتِ مُبارَکہ میں صَبْر کی جزا کو ہر جزا سے اس قَدْر فوقیت عَطا فرمائی کہ صَبْر کی جزا کی کوئی اِنتِہا رہی نہ کوئی حَد ۔یہ اس بات پر دلیل ہے کہ صَبْر سب سے اَفضل مَقام ہے۔
صابِرین کے لیے تین۳انعام
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آخِرَت میں کامیابی پانے والے لوگوں کو بَشَارَت دیتے ہوئے تین۳انعامات کو تمام عِبَادَت گزاروں پر تقسیم فرمایا مگر صَبْر کرنے والوں کے لیے ان تینوں اِنعَامات کو یکجا کر دیا یعنی دُعا، رحمت اور ہِدَایَت۔ چنانچہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:دونوں عِدْل بَہُت عُمدہ ہیں اور صَبْر کرنے والوں کے لیے عِلاوہ بھی بَہُت خوب ہے۔[3]
عِدل سے مُراد (اونٹ کے دونوں پہلوؤں پر لادا گیا بوجھ ہے جبکہ یہاں مُراد)دُعا اور رحمت ہے جبکہ عِلاوہ سے مُراد وہ شے ہے جو اونٹ پر (طے کردہ)بوجھ لادنے کے بعد مزید اِضافہ کر دی جاتی ہے ، اس طرح گویا کہ یہ ایک تیسرا عِدل ہوا۔
بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ کریم میں خَبَر دی ہے کہ وہ صَبْر کرنے والوں کے ساتھ ہے [4]اور جس کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہو وہی غالِب ہے جیسا کہ مَنْقُول ہے:جس کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہو وہ سب سے بُلَند تَر ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶)(پ ۱۰، الانفال:۴۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور صَبْر کرو بے شک اللہ صَبْر والوں کےساتھ ہے۔
جیسا کہ یہ اِرشَاد فرمایا:
وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ﳓ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ(پ ۲۶، محمد:۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم ہی غالِب آؤ گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے۔
مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسی صُورَت میں اپنے لشکروں اور اپنی تائید کے ذریعے مَدَد فرماتا ہے جب صبر کا دامَن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ گویا کہ صَبْر حُصُولِ مَدَد و تائید کے لیے شَرْط ہے۔چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
بَلٰۤىۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُسَوِّمِیْنَ(۱۲۵)
(پ ۴، ال عمران:۱۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:ہاں کیوں نہیں اگر تم صَبْر و تقویٰ کرو اور کافِر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مَدَد کو پانچ۵ ہزار فرشتے نِشان والے بھیجے گا۔
حضرت سَیِّدُنا سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:صَبْر صِدْق کی تصدیق کا نام ہے، نیکی کی سب سے اَفضل منزل پہلے مَعْصِیَّت پر صَبْر کرنا ، پھر نیکی پر صَبْر کرنا ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْاۚ-(پ ۹، الاعراف: ۱۲۸) ترجمۂ کنز الایمان: اللہ کی مَدَد چاہو اور صبر کرو۔
مُراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَحْکام کی بجاآوری پر اس کی مَدَد طَلَب کرواور بارگاہِ خداوندی کے آداب بجا لانے پر صَبْر کرو۔مزید فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مصیبت اور شِدّت کے
[1]………جامع بیان العلم وفضله لابن عبد البر ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم ، حدیث: ۵۶۳ ، ص۱۷۰ ، مختصراً
[2]………جامع معمر بن راشد ملحق مصنف عبد الرزاق ، باب ای الاعمال افضل؟ ، ۱۰/ ۱۹۶ ، حدیث: ۲۰۴۶۵ ، بتغیر قلیل
[3]………بخاری ، کتاب الجنائز ، باب الصبر عند الصد مة الاولی ، ۱/ ۴۴۱ ، دون ذكر الصابرین
[4]………حضرت علّامہ قاضی محمد ثناء اللہ عثمانی مُجَدِّدِی پانی پتی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی تفسیر مظہری میں اللہتعالیٰ کی مَعِیَّت کے مُتَعَلِّق اپنی رائے کچھ یوں ذِکْر فرماتے ہیں کہ یہ وہ مَعِیَّت ہے جو غَیر مُتَکَیِّف ہے اور عارِفین پر واضِح ہوتی ہے ، اللہتعالیٰ کے سِوا اس کی حقیقت کا اِدْرَاک کوئی دوسرا نہیں رکھتا۔ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع