دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

٭٭٭٭٭٭

مَقاماتِ یقین میں سے دوسرا مَقام

مَقام صَبْر کی شرح اور صابِرین کے اوصاف

متقین کے امام

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے صَبْر کرنے والوں کو مُتَّقِیْن کا اِمام بنایااور ان پر اپنا بہترین وعدہ پورا کیا۔ چنانچہ اِرشَادفرمایا:

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ- (پ ۲۱، السجدة:۲۴)                                       

ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے ان میں سے کچھ اِمام بنائے کہ ہمارے حکْم سے بتاتے جب کہ انہوں نے صَبْر کیا۔

ایک مَقام پر اِرشَادفرمایا:

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ﳔ بِمَا صَبَرُوْاؕ-(پ ۹، الاعراف:۱۳۷)      

ترجمۂ کنز الایمان:اور تیرے رب کا اچھّا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا بدلہ ان کے صَبْر کا۔

صَبْر کے فضائل

ناپسندیدہ بات پر صبر کرنا

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صَبْر کے مُتَعَلِّق اِرشَادفرمایا:تمہارے ناپسندیدہ بات پر صَبْر کرنے میں خیر کثیر ہے۔[1] حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا فرمان ہے:تم ناپسندیدہ اشیا پر صَبْر کیے بغیر اپنی پسندیدہ اشیا نہیں پا سکتے ۔[2]

صبر میں شفا ہے

کسی صحابی کا فرمان ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے پرہیزگاری اور صَبْر میں شِفا اور فضیلت رکھی ہے۔[3]

صبر نصف ایمان ہے

حضرت سَیِّدُنا ابن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا فرمان ہے کہ صَبْر نِصْف اِیمان ہے۔ [4]

صبر کا ایمان سے تعلق

امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے صَبْر کو اِیمان کا ایک رُکن قرار دیا  اور اسے جِہاد، عَدْل اور یقین کے ساتھ ذِکْر کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:اِسلام کی بنیاد چار۴سُتُونوں پر ہے: یقین، صَبْر، جِہاد اور عَدْل پر۔[5] نیز آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے یہ بھی مَنْقُول ہے کہ صَبْر کا اِیمان سے وہی تعلّق ہے جو سَر کا باقی جسم کے ساتھ ہے کیونکہ جس کا سَر نہ ہو اس کا جسم بھی نہیں ہوتا اور جس کے پاس صَبْر نہیں اس کا اِیمان نہیں۔ [6]

صبر و یقین کا باہمی تعلّق

دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صبر کو بُلَندی اور فضیلت میں مَقامِ یقین تک رِفْعَت عطا فرمائی اور یقین کے ساتھ صَبْر کا بھی ذِکْر فرمایا۔ اسی طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بھی صَبْر و یقین کو قرآنِ کریم میں اِکَٹّھا یوں ذِکْر فرمایا:

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ-وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ(۲۴)(پ ۲۱، السجدة:۲۴)

ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے ان میں سے کچھ اِمام بنائے کہ ہمارے حکْم سے بتاتے جب کہ انہوں نے صَبْر کیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:جس کو ان دونوں (یعنی صَبْر و

یقین ) سے حِصّہ ملے وہ ان (اَشیا و مُعامَلات) کے مُتعلّق سُوال نہیں کرتا جوفوت ہو گئے ہوں۔

ایک رِوایَت میں ہےکہ دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: عَمَل و اَجَر کا کمال صَبْر سے حاصِل ہوتا ہے۔

حضرت سَیِّدُنا اَبو اُمَامہ باہَلی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اِرشَاد فرمایا:تمہیں یقین و صَبْر کی عَزِیمَت میں سے بَہُت کم حصّہ دیا گیا ہے اور جسے ان دونوں میں سے کچھ حصّہ عطا ہوا اس نے کبھی قِیامِ لیل و صیامِ نَہار کی پروا نہیں کی، تم جس حالَت پر ہو اس کی مِثل حالَت پر صَبْر کیا کرو، کیونکہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ تم میں سے ہر شخص تمام لوگوں کے عَمَل کی مِثل نیک اَعمال کا ذخیرہ لے کر مجھے ملے، البتہ! مجھے خدشہ ہے کہ میرے بعد تم پر دنیا کُشادہ ہو جائے گی اور تم ایک دوسرے کو پہچاننے سے اِنکار کر دو گے، اس وَقْت آسمان والے بھی تمہیں پہچاننے سے اِنکار کر دیں گے۔ لہٰذا جس نے (اپنی حالَت پر) صَبْر کیا اور ثواب کی اُمِّید رکھی وہی کامِل ثواب پانے میں کامیاب ہو گا۔ اس کے بعد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیَتِ مُبارَکہ تِلاوَت فرمائی:

 



[1]………مسند احمد ،  مسند عبد اللہ  بن العباس بن عبد المطلب ،  ۱/ ۶۵۹ ، حدیث:  ۲۸۰۴

[2]………عیون الاخبار  ، کتاب الزھد ،  ۲/ ۲۹۳

[3]………السنن الکبرٰی للبیھقی ،  کتاب الضحایا ،  باب ادویة النبی سوی ما مضی فی الباب قبله ، ۹/ ۵۸۲ ، حدیث:  ۱۹۵۷۸ ، بتغیر

                      الاصابة فی تمییز الصحابة لابن حجر العسقلانی ، ۵/ ۴۰۱ ، الرقم:  ۷۳۱۱:  قیس بن رافع القیسی ، بتغیر قلیل

[4]………معجم کبیر ،  ۹/ ۱۰۴ ، حدیث:  ۸۵۴۴

شعب الایمان للبیھقی ،  باب فی الصبر علی المصائب ، ۷/ ۱۲۳ ، حدیث:  ۹۷۱۶

[5]………حلیة الاولیاء ، علی بن ابی طالب ، ۱/ ۱۱۵ ،  حدیث:  ۲۳۰

[6]………حلیة الاولیاء ، علی بن ابی طالب ، ۱/ ۱۱۷ ،  حدیث:  ۲۳۴ ، دون:  لا جسد لمن لا رأس له

                             العقد الفريد لابن عبد ربه الاندلسی ، کتاب الواسطه فی الخطب ، خطب علی بن ابی طالب ، ۴/ ۱۷۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن