دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

حد سے بڑھنے سے بچو۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے:

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ(۵۵)(پ ۸، الاعراف:۵۵)                           

ترجمۂ کنز الایمان:اپنے رب سے دُعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ بے شک حد سے بڑھنے والے اُسے پسند نہیں۔

ایک قول کے مُطابِق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  دُعا میں حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا اور دُعا میں حد سے بڑھنا یہ ہے کہ بندہ حد درجہ دعا میں ڈوب جائے مگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کی مَغْفِرَت ، رحمت  اور توبہ پر مشتمل جن دعاؤں کی خبر دی ہے ان مشہور و معروف دعاؤں کو چھوڑ دے۔

منقول ہے کہ اَبدال اور عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام  میں سے کوئی بھی سات۷سے زیادہ کلمات سے دعا نہیں کرتے۔ (صاحبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)میں نے بُزرگانِ دین کے اس قول کی تصدیق قرآنِ کریم میں اس طرح پائی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے قرآنِ کریم میں اپنے بندوں کی جن دعاؤں کا ذکر کیا ہے ان میں کہیں بھی کسی ایک ہی مَقام پر سات۷سے زائد کلمات ذکر نہیں فرمائے اور وہ سات۷کلمات بھی صِرف سورۂ بقرہ کے آخر میں ہیں۔[1] ورنہ قرآنِ کریم میں متفرق مقامات پر صرف دو۲، تین۳، چار۴اور پانچ۵کلمات پر مشتمل دعائیں ہی مذکور ہیں۔ چنانچہ،

ایک بزرگ کسی قصّہ گو کے پاس سے گزرے جو خوب ڈوب کر خوبصورت و ہم قافیہ اَلفاظ سے دعا کر رہا تھا تو آپ نے اسے جھڑکتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:تو ہلاک و برباد ہو! بارگاہِ خداوندی میں مُبالَغہ کر رہا ہے!میں گواہی دیتا ہے کہ میں نے حضرت سَیِّدُنا حبیب عجمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کو دعا مانگتے دیکھا اور انہوں نے ان کلمات سے زیادہ دعا نہ مانگی: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا جَیِّدِیْنَ،اَللّٰھُمَّ لَا تُفْضِحْنَا یَوْمَ الْقِیَامَةِ،اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنَا لِلْخَیْرِ۔یعنی یااللہ!ہمیں عمدہ بنا، اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ !ہمیں قِیامَت کے دن رُسوا و ذلیل نہ کرنا، اے اللہ! ہمیں بھلائی کی توفیق عطا فرما۔(ان کی یہ دعا سن کر) ہر طرف لوگ رونے لگتے جبکہ ہم سب ان کی دعا کی قبولیت و برکت کو خوب جانتے تھے۔ [2]

 

حاجت و عاجزی کی زبان سے مانگو

حضرت سَیِّدُنا بایزید بسطامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی فرمایا کرتے تھے کہ ”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے زبانِ حاجت سے مانگو نہ کہ زبانِ حِکْمَت  سے“اور حضرت سَیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرمایا کرتے تھے کہ ”محتاجی اور عاجزی کی زبان سے دعا مانگو نہ کہ فصاحت و چرب زبانی سے۔“

تلاوتِ قرآن میں مُتَفَرِّق بدعتیں

تلاوتِ قرآن میں چھینا جھپٹی کرنا

چند اَفراد کا اس طرح مِل کر قرآنِ کریم کی تِلاوَت کرنا گویا کہ وہ ایک دوسرے سے جھگڑا کر رہے ہوں(بِدْعَت ہے)۔یعنی ایک شخص تِلاوَت کر رہا ہو اور دوسرا اس سے اگلی آیَت فوراً اس طرح پڑھنے لگے کہ پہلا ابھی خَتْم بھی نہ کر پایا ہو، یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی (کے منہ)سے کوئی چیز چھین لینا۔ کیونکہ اس طرح تِلاوَتِ قرآن میں خُشوع وخُضوع اور ہیبت(وعَظَمَتِ الٰہی) کا لحاظ نہیں رکھا جا سکتا۔ حالانکہ تِلاوَتِ قرآن حُزن و سُکون اور خُشُوع و خُضُوع کا تقاضا کرتی ہے۔

دو۲قرأتوں کے مطابق تلاوت کرنا

قاری کا دو۲ قاریوں کی قرأت کے مُطابِق  تِلاوَت کرنا بھی بِدْعَت ہے ۔کاش! دل کی غفلت کی بنا پر وہ ایک ہی قاری کی قرأت کے مُطابِق تِلاوَت کرتا تو زیادہ بہتر تھا جیسا کہ حضرت سَیِّدُناابراہیم حربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کی خِدْمَت میں جب یہ عَرْض کی گئی کہ فلاں دو۲قاریوں کی قرأت کے مُطابِق تِلاوَت کرتا ہے تو آپ نے اِرشَادفرمایا:آہ!ضَرورت تو اس بات کی ہے کہ دو۲قاری ایک ہی قرأت کے مُطابِق تِلاوَت کریں۔ 

تلاوت میں لَحْن

تِلاوَتِ قرآنِ کریم میں ایک بِدْعَت یہ بھی پیدا ہو گئی ہے کہ تِلاوَت میں اس طرح لَحْن کیا جاتا ہے کہ تِلاوَت کی سمجھ آتی ہے نہ اِعراب کا لحاظ رکھا جاتا ہے یعنی چھوٹی مد کی جگہ بڑی اور بڑی مد کی جگہ چھوٹی مد پڑھی جاتی ہے، اِظہار[3]  کی جگہ اِدْغَام[4] اور اِدْغَام کی جگہ اِظہار کیا جاتا ہے۔ ایسا لَحْن کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے اور لفظوں کے بگاڑ اور ان کی حقیقت کے بَدَل جانے کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ پس یہ ایک بِدْعَت ہے اور ایسی تِلاوَت سننا بھی مکروہ[5] ہے۔ چنانچہ،

حضرت سَیِّدُنا بِشْر بِن حارِث عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَارِثْ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سَیِّدُنا  ابن داود حربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے عَرْض کی: میں تِلاوَت میں مصروف ایک شخص کے پاس سے گزروں تو کیا اس کے پاس بیٹھ جاؤں؟ تو انہوں نے پوچھا:کیا وہ لحن میں تِلاوَت کرتا ہے؟ میں نے عَرْض کی: جی ہاں!تو فرمایا: ایسے شخص کے پاس مَت بیٹھو کہ اس طرح تِلاوَت کرنے



[1]………سورۂ بقرہ کی وہ آیتِ مُبارَکہ یہ ہے:   رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠(۲۸۶) (پ۳ ،  البقرۃ:  ۲۸۶)ترجمۂ کنزالایمان:   اے رب ہمارے ہمیں  نہ پکڑ اگر ہم بھولیں  یا چوکیں  اے رب ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں  پر رکھا تھا اے رب ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں  سہار (طاقت)نہ ہو اور ہمیں  مُعاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہمارا مولیٰ ہے تو کافروں  پر ہمیں  مدد دے۔

[2]………فضائل دعا صفحہ 83 پر ہے:   دعا جامع ،  قَلِیْلُ اللَّفظ وکَثِیرُ المَعنیہو ، تطویلِ بے جا سے احتراز کرے۔یعنی دعا میں  کلام کو بلا ضرورت طویل کرنے سے پرہیز کرے اور ایسے الفاظ استعمال کرے جن  کے مفہوم میں وُسْعَت ہو ، مثلاً:   رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً(پ۲ ،  البقرۃ:  ۲۰۱)کہ اس مختصر سے کلام میں  دونوں  جہاں  کی بھلائیاں  مانگ لی گئیں اور زہے نصیب !یہی پرہیز عام گفتگو میں  بھی ہو کہ فُضُول گفتگو سے آدمی کا وَقار خَتْم ہو جاتا ہے ۔ اس پر مزیدیہ کہ محشر میں  ہر ہر لفظ کو پڑھ کر سنانا پڑے گا۔ والعیاذبالله۔

[3]………اِظْہَار سے مُراد یہ ہے کہ نون ساکن یا تنوین کے بعد حروفِ حلقی میں  سے کوئی حرف آجائے تو اظہار ہو گا یعنی نون ساکن اور تنوین میں  غنہ نہیں  کریں  گے۔ حروفِ حلقی چھ۶ہیں  اور وہ یہ ہیں :   ء ،  ھ ،  ع ،  ح ،  غ اور خ۔ (مدنی قاعدہ ،  ص۲۱)

[4]………نون ساکن یا تنوین کے بعد حروفِ یرملون میں  سے کوئی حرف آجائے تو ادغام ہو گا۔ را اور لام میں  بغیر غنہ کے اور باقی چار۴حروف میں  غنہ کے ساتھ۔ حروفِ یرملون چھ۶ہیں  اور وہ یہ ہیں :   ی ،  ر ،  م  ،  ل  ، و اور ن۔  (مدنی قاعدہ ،  ص۲۶)

[5]………لَحْن کے ساتھ قرآن پڑھنا حَرام ہے اورسُننا بھی حرام۔     (بہارِ شریعت ،  قراء ت میں  غلطی ہو جانے کا بیان ،  حصہ سوم ،  ۱/ ۵۷)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن