30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
توبہ کرنے والوں کی چار۴قسمیں ہیں۔ ہر قسم میں ایک گروہ ہے اور ہر گروہ کا ایک خاص مَقام ہے۔
بعض توبہ کرنے والے جس گناہ سے توبہ کرتے ہیں اس پر قائم بھی رہتے ہیں،زِنْدَگی بھر اس گناہ کی جانِب لوٹنے کا خَیال تک کبھی ان کے دل میں پیدا نہیں ہوتا۔ (ہر دم) اپنے بُرے اَعمال کو نیک اَعمال سے بدلتے رہتے ہیں،نیک اَعمال کی بجاآوری میں سَبْقَت لے جاتے ہیں اور یہی توبۂ نُصُوح ہے، ان کے نَفْس، نَـفْسِ مُطْمَئِـنّہ و مَرْضِیَّہ کے مَقام پر فائز ہوتے ہیں۔ چنانچہ،
انہی لوگوں کے مُتعلِّق ایک رِوایَت میں ہے کہ (نیکی کے کاموں کی طرف) بڑھتے چلے جاؤ!مُفْرِدُون سب سے آگے بڑھ گئے ہیں، وہ ذِکْرِ اِلٰہی کے شَیدا ہیں،ذِکْر نے ان کے (گناہوں کے) بَوجھ کو دور کر دیا ہے اب وہ قِیامَت کے دن ہلکے پھلکے ہو کر (بارگاہِ خداوندی میں) حاضِر ہوں گے۔[1]
بعض لوگ قُرب میں پہلی قسم کے لوگوں کے قریب ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے پختہ توبہ کی اور ان کی نِیَّت میں بھی اِسْتِقامَت تھی، انہوں نے کبھی کسی گناہ کی کوشش کی نہ کبھی اس کا قَصْد کیا،کبھی اس کی جانِب مائل ہوئے نہ کبھی گناہ کا خَیال آیا۔ البتہ! بسا اَوقات یہ لوگ بِغَیر اِرادے و قَصْد کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور (اس طرح)انہیں فِکْر و خَیال (کی پختگی )میں آزمایا جاتا ہے۔ یہ مومنین کی صِفات ہیں جن پر اِسْتِقامَت کی اُمِّید کی جاتی ہے کیونکہ یہ توبہ کے ہی راستے ہیں۔ چنانچہ،
ان لوگوں کے مُتَعَلِّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا:
اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَؕ-اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِؕ-(پ ۲۷، النجم:۳۲(
ترجمۂ کنز الایمان:وہ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے بے شک تمہارے رب کی مَغْفِرَت وسیع ہے۔
یہ لوگ ان متقی لوگوں کی صِفات میں داخِل ہیں جن کے مُتَعَلِّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا:
وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵)(پ ۴، ال عمران:۱۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ کہ جب کوئی بے حَیائی یا اپنی جانوں پر ظُلم کریں اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی مُعافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہ لوگ نَفْسِ لَوَّامَہ کے مالِک ہیں جس کی قسم اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یاد فرمائی ہے، ایسے لوگ میانہ رَو ہوتے ہیں۔
انسانی نُفُوس سے ان گناہوں کے صُدور کی چند وُجُوہات ہیں۔ مثلاً ٭… نفسانی صِفات کے مَفاہیم ٭… فِطری و جِبِلّی صِفات٭…زمین سے ان کے نَسْبُوں کا آغاز٭…یکے بعد دیگرے رِحْموں میں ان کا مختلف اَطوار کی صُورَت اِخْتِیار کرنا اور ٭… نُطْفوں کا ایک دوسرے کے ساتھ بَاہَمی اِخْتِلاط۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سورہ نجم کی مذکورہ آیَتِ مُبارَکہ کے بعد والے حصّے میں اِرشَاد فرمایا:
هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْۚ- (پ ۲۷، النجم:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ تمہیں خوب جانتا ہے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں حمل تھے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نَفْس کی کجی کی وجہ سے اس کی پاکدامنی بیان کرنے سے مَنْع فرمایا ہے کیونکہ یہ مِٹّی سے بنا ہے اور نطفوں کے باہَمی اِخْتِلاط سے رِحْم میں ترکیب دیا گیا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-(پ ۲۷، النجم:۳۲) ترجمۂ کنز الایمان:تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ۔
یعنی جس نَفْس کی پیدائش کی اِبْتِدَا ایسی ہو (اس کی پاکدامنی بیان نہ کرو)۔اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نَفْس کی پیدائش کے مُتَعَلِّق اِرشَاد فرمایا کہ اس کی اِبْتِدَا ہی اِبْتِلا و آزمائش سے ہوئی ہے۔چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ﳓ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۲)(پ ۲۹، الدھر: ۲)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے آدمی کو پیدا کیا مِلی ہوئی مَنی سے کہ اسے جانچیں تو اُسے سنتا دیکھتا کر دیا۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس مَوْضُوْع کی شَرْح طویل ہو جائے گی اور بات نُفُوس کی ترکیبات کے عِلْم اور اس کی جبلّی فِطرَت بیان کرنے کی جانِب نکل جائے گی۔
(لہٰذا اس مَوْضُوْع کو یہیں خَتْم کرتے ہیں البتہ!) ہم نے اس عِلْم کے بنیادی اُصُول اس کِتاب (یعنی قوت القلوب) کے مختلف اَبواب میں ذِکْر کر دئیے ہیں۔
البتہ!مذکورہ شخص کی مِثل کے مُتعلّق ایک رِوایَت میں کچھ یوں مَفہوم مَذکور ہے کہ مومن آزمائش میں مبتلا ہونے والا اور بَہُت توبہ کرنے والا ہے۔[2] ایک رِوایَت میں ہے کہ مومن (ہوا میں لہراتے)خوشے کی طرح ہے کبھی سیدھا ہو جاتا ہے اور کبھی جھک جاتا ہے۔[3]
[1]………ترمذی ، کتاب الدعوات ، باب فی العفو والعافیة ، ۵/ ۳۴۲ ، حدیث: ۳۶۰۷ ، بتغیر قلیل ، نوادر الاصول ، الاصل التاسع والستون والمائتان ، ۲/ ۱۱۵۷ ، حديث: ۱۴۵۷
[2]………مسند احمد ، مسند علی بن ابی طالب ، ۱/ ۱۷۴ ، حدیث: ۶۰۵ ، بتغیر
[3]………مسند ابی یعلی ، مسند انس بن مالك ، ۳/ ۱۲۵ ، حدیث: ۳۰۶۸
التاریخ الکبیر للبخاری ، باب العین ، باب میم ، ۵/ ۲۸۹ ، رقم: ۷۵۶۳/ ۱۴۹۲ ، عبید بن مسلم بیاع السابری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع