30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بندے سے جس عَمَل پر ثواب عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے وہ اسے ضَرور پورا کرنے والا ہے اور جس عَمَل پر سزا کا وعدہ فرمایا ہے اس میں اسے اِخْتِیارہے، چاہے تو عَذاب دے،چاہے تو مُعاف فرما دے۔[1]
اسی طرح حضرت سَیِّدُنا ابن عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے تو کسی کے کبیرہ گناہ کو مُعاف فرما دے اور چاہے تو کسی کے صغیرہ گناہ پر بھی عَذاب دیدے ۔[2]
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-(پ ۵، النسآء:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کُفْر کیا جائے اور کُفْر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے مُعاف فرما دیتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے شِرک کے علاوہ ہر گناہ کو قابِلِ مُعافی قرار دیا مگر مسلمانوں کو تمام گناہوں کے ساتھ اپنی مَشِیَّت پر چھوڑ دیا۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)کوئی شخص اس حدیثِ پاک سے بِدْعَتی کی توبہ قبول نہ ہونے پر دلیل پکڑ سکتا ہے کہ جس میں دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہر بِدْعَتی سے توبہ کو روک لیا ہے۔[3] اس لیے کہ یہ بات اس شخص کےساتھ خاص ہے جو توبہ نہ کرے اور اس کے بدبخت ہونے کا فیصلہ کر دیا گیا ہو۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ یہاں یہ نہیں فرمایا گیا کہ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول نہیں فرماتا۔ بلکہ یہاں صِرف توبہ نہ کرنے والے کے مُتعلّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس حکْم کی خَبَر دی جا رہی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسے شخص سے توبہ کو حِجاب میں کر دیتا ہے۔
اسی طرح ہم قاتِل کے مُتعلّق یہ کہتے ہیں کہ جب اس کے مُقَدَّر میں بُرے خاتِمے کا فیصلہ ہو گیا تو اب اس کی موت کامِل توحید پر نہ ہو گی۔ [4]اسی طرح بِدْعَتی شخص کا نام جب جہنّمی لوگوں کی فہرست میں شامِل کر دیا گیا اور قَتْل اور بِدْعَت کو اس کا سَبَب اور عَلامَت قرار دیا گیا کہ یہ دونوں توبہ سے مانِع ہیں کہ ان دونوں کی وجہ سے توبہ کی توفیق نہیں ملتی۔ یہی حکْم ان لوگوں کے مُتعلِّق بھی ہے جن پر بُرے خاتِمے کے سَبَب عَذاب لازِم ہو گیا ہو۔ چنانچہ اب اگر بدعتی شخص 70مرتبہ بھی توبہ کرے تو اس کی توبہ اسے جہنّم سے نہیں بچا سکے گی۔ اس کی توبہ مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان سے بڑھ کر نہیں کہ جس میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا ہے:بندہ 70سال تک جنتیوں جیسے اَعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ لوگ کہنےلگتے ہیں کہ یہ جنّتی ہے اور اس کے اور جنّت کے درمیان ایک بالِشْت بھر کا فاصِلہ رہ جاتا ہے، پھر اچانک اسے بدبختی گھیر لیتی ہے۔[5] ایک رِوایَت میں ہے کہ پھر اس پر کِتاب (یعنی لوحِ محفوظ) کا فیصلہ غالِب آتا ہے اور وہ جہنّمیوں جیسے کام کرنے لگتا ہے جس کی وجہ سے وہ جہنّمی بن جاتا ہے۔[6]
پس اس کے نیک اَعمال میں بَہُت بار توبہ شامِل ہوئی مگر پھر بھی لوحِ محفوظ میں اس کے مُقَدَّر میں لکھی ہوئی بدبختی نے غالِب آکر اس کے نیک اَعمال کو برباد کر دیا۔ مگر وہ لوگ جن کے مُقَدَّر میں بُرا خاتِمہ نہیں لکھا ہوتا انہیں توبۂ نَصوح کی توفیق عطا کی جاتی ہے۔ جیسا کہ مُنافقین کے مُتعلّق اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْؕ-(پ ۱۱، التوبة: ۱۰۶)
ترجمۂ کنز الایمان:یا ان پر عَذاب کرے یا ان کی توبہ قبول کرے۔
نِفاق بِدْعَت سے کم نہیں،اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نہ تو تمام مُنافقین کی توبہ قبول فرمائی اور نہ سب کے دِلوں پر مہر لگائی۔چنانچہ اس پر دلیل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان میں عام حکْم کا پایا جانا ہے:
فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْۚ-(پ ۲، البقرة:۱۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں مُعاف فرمایا۔
اس آیتِ مُبارَکہ میں توبہ کرنے والوں کے مُتعلِّق حکْم مُـجْمَل ہے جبکہ حدیثِ پاک میں مَروی حکْم ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے توبہ نہیں کی۔ جیسا کہ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:
(1) ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْاؕ-(پ ۱۱، التوبة:۱۱۸) ترجمۂ کنز الایمان:پھر ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں۔
(2) عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۰۲)(پ ۱۱، التوبة:۱۰۲)
ترجمۂ کنز الایمان:قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
[1]………مسند ابی یعلٰی ، مسند انس بن مالك ، ۳/ ۱۸۰ ، حدیث: ۳۳۰۴ ، دون: ان شاء عذبه وان شاءعفا عنه
البعث والنشور للبیھقی ، باب قول اللہ ان اللہ لا يغفر ان يشرك به…الخ ، ص۷۷ ، حديث: ۴۵
[2]………حلية الاولیاء ، سفیان الثوری ، ۷/ ۸۲ ، حدیث: ۹۷۲۷ ، قول سفیان الثوری
[3]………السنة لابن ابی عاصم ، باب ما ذکر عن النبی انه قال: لا یقبل اللہ عمل صاحب بدعة ، ص۱۶ ، حدیث: ۳۷
[4]………یہاں صاحبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے جس بُرے خاتمے کا ذِکْر کیا ہے اس کی دو صورتیں ہیں ۔ مثلاً اگر مرتے وَقْت اس کا اِیمان ضائع ہو گیا تو پھر اس کی موت توحید پر نہ ہو گی بلکہ وہ کُفْر پر مرے گا اور اگر اِیمان پر مرا مگر توبہ نہ کی تو اب مُراد یہ ہو گی کہ وہ کامِل توحید پر نہ مَرا۔ (دار الافتا اہلسنت)
[5]………ابن ماجة ، کتاب الوصایا ، باب الحیف فی الوصیة ، ۳/ ۳۰۵ ، حدیث: ۲۷۰۴
مسند احمد ، مسند عبد اللہ بن مسعود ، ۲/ ۸۹ ، حدیث: ۳۹۳۴
[6]………بخاری ، کتاب التوحید ، باب(ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین)الصّٰفّٰت: ۱۷۱ ، ۴/ ۵۶۰ ، حدیث: ۷۴۵۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع