30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چھ کبیرہ گناہ ایسے ہیں جو مِلّت سے خارِج کر دیتے ہیں اور وہ یہ ہیں:
(1 )قَدَرِیَّه (2 )مُرْجِیَّه (3)رَافِضِیَّه (4) اِبَاضِیَّه (5) جُھَمِیَّه (6 )مُغَالَطه انگیز شَطْحِیَّات میں مبتلا لوگ؛ جو عِلمی اِسْتِعْدَاد اور قَوانِینِ شرعیہ کی مُقرّر کردہ حُدود سے تَجاوُز کرتے ہوئے کسی اَخلاقی قید کے قائل ہیں نہ کسی آئین و قانون کے اور نہ وہ کسی حکْم کو مانتے ہیں۔ یہ لوگ اس اُمَّت کے زِنْدِیْق ہیں۔
بعض گناہ مَخلوق سے تعلّق رکھتے ہیں یعنی اُمُورِ دینیہ میں ظُلْم کی راہ اپنانا اور عام لوگوں کو مومنین کے طریقے سے ہٹا کر کُفْر و اِلْحاد کے راستے پر چلانا۔ مُراد یہ ہے کہ اس گناہ کے مُرْتکِب لوگ عام لوگوں کو راہِ ہِدایَت سے بھٹکاتے، سنّتوں سے دُور کرتے، کِتابُ اللہ میں تحریف کرتے اور حدیثِ پاک کی مَن مَانی تاویل کرتے ہیں، پھر (اسی پر بَس نہیں کرتے بلکہ)اس کو پھیلاتے اور لو گوں کو اس کی دَعْوَت بھی دیتے ہیں تاکہ اس تاویل و تحریف وغیرہ کو قبول کیا جائے اور اس کی پیروی کی جائے۔ بعض عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام فرماتے ہیں: ان گناہوں کی کوئی توبہ نہیں جس طرح بعض نے قاتِل کے مُتعلِّق فرمایا ہے کہ اس کے لیے بھی کوئی توبہ نہیں کیونکہ اس کے مُتعلّق نُصوص میں وَعِید مَرْوِی ہے۔
بعض گناہوں کا تعلّق اُمُورِ دنیا میں لوگوں کے مَظَالِم سے ہے۔ مثلاً اِنسانوں کو مارنا پیٹنا، انہیں گالیاں دینا، اَموال کا چھین لینا، جھوٹ بولنا اور بہتان لگانا۔ یہ گناہ بھی ہَلاکَت خیز ہیں۔ان میں عادِل حکمران کے فیصلے سے قِصاص لینا ضَروری ہے، نیز اس کے فیصلے سے ہاتھ کاٹنے کا حکْم بھی نافِذ ہو سکتا ہے۔ ہاں! (حرام کے بجائے اگر) حَلال کی کوئی صُورَت بن جائے یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے خاص فضل و کرم سے ان گناہ گاروں کی جانِب سے مظلوموں کو کوئی بدلہ عَطا فرما دے (تو ان گناہوں کے عَذاب سے چھٹکارا مِل سکتا ہے)۔
فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے کہ نامۂ اَعمال تین۳طرح کے ہیں:ایک نامۂ عَمَل قابلِ مُعافی ، دوسرا ناقابلِ مُعافی اور تیسرا ایسا ہے جسے ایسے ہی نہیں چھوڑا جائے گا۔ چنانچہ جس نامۂ عَمَل کو مُعاف کر دیا جائے گا اس سے مُراد بندوں کے وہ گناہ ہیں جو بندوں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان ہیں۔ وہ نامۂ اَعمال کہ جس کی بخشش نہیں ہو گی اس سے مُراد شِرک ہے۔تیسرا نامۂ اَعمال کہ جسے یونہی نہیں چھوڑ دیا جائے گا اس سے مُراد وہ نامۂ عَمَل ہے جس میں بندوں پر کیے گئے مَظَالِم دَرْج ہوں گے۔[1] مُراد یہ ہے کہ ان مَظَالِم کا مُطالَبہ و مُواخَذہ نہیں چھوڑا جائے گا۔
بعض گناہ ایسے ہیں جن کا تعلّق بندے اور اس کے مولیٰ کے درمیان ہوتا ہے ، یہ نفسانی خواہشات سے مُتعلّق ہوتے ہیں اور عادت کے مُطابِق جاری ہوتے ہیں۔ یہ گناہ انتہائی خفیف اور مُعافی کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ یہ گناہ دو۲طرح کے ہیں یعنی صغیرہ و کبیرہ۔ کبیرہ سے مُراد وہ گناہ ہیں جن پر نَصّ میں وَعِید مَرْوِی ہو اور ان میں حُدُود واجِب ہوں۔ جبکہ صغیرہ سے مُراد وہ گناہ ہیں جو نظر و فِکْر میں کبیرہ سے دَرَجہ میں کم تَر ہوں۔
مذکورہ گناہوں پر توبہ نصوح کا اطلاق
مذکورہ تمام گناہوں پر توبۂ نُصُوح کا اِطْلَاق ہوتا ہےجس کے مُتعلّق فرامینِ باری تعالیٰ بھی مَوجُود ہیں۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دَرْج ذَیل فرمان میں حکْم کے عام ہونے کی وجہ سے اِرشَاد فرمایا:
فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْۚ-(پ ۲، البقرة:۱۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں مُعاف فرمایا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس فرمان میں اپنے حکْم کی خَبَر دیتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْاؕ-(پ ۱۱، التوبة:۱۱۸) ترجمۂ کنز الایمان:پھر ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان سے بھی یہی مَفہوم ظاہِرہوتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا(پ ۳۰، البروج: ۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک جنہوں نے اِیذا دی مسلمان مَردوں اور مسلمان عورتوں کو پھر توبہ نہ کی۔
نیز ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤاۙ-اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۱۰)(پ ۱۴، النحل: ۱۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر بے شک تمہارا رب ان کے لیے جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے بعد اس کے کہ ستائے گئے پھر انہوں نے جِہاد کیا اور صابِر رہے بے شک تمہارا رب اس کے بعد ضَرور بخشنے والا ہے مہربان۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہم اس بات کے قائل نہیں کہ کبیرہ گناہوں کے مُرْتکِب لوگوں پر وَعِید کا اِطْلَاق ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے بلکہ ہم ان کے مُتعلّق مَشِیَّتِ باری تعالیٰ کے قائل ہیں اور ان کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مُعافی کو جائز سمجھتے ہوئے انہیں جنّتی شُمار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان(فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا(پ ۵، النسآء:۹۳)) ترجمۂ کنز الایمان: تواس کا بدلہ جہنّم ہے کہ مدّتوں اس میں رہے۔)کی تفسیر میں مَرْوِی ہے کہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس بات کو جائز قرار دیا کہ وہ جہنّم میں ہمیشہ کے لیے رہے تو رہے گا ورنہ نہیں۔
[1]………مسند احمد ، مسند السیدة عائشة ، ۱۰/ ۸۲ ، حدیث: ۲۶۰۹۰ ، بتغیر قلیل
تنبیه الغافلین لابی اللیث السمرقندی ، باب آخر من التوبة ، ص۶۱ ، حدیث: ۱۳۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع