30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4) ۔۔۔۔اس کی مِثل کوئی دوسرا گناہ کرنے سے توبہ کرے۔
(5) ۔۔۔۔گناہ کی طرف دیکھنے سے توبہ کرے۔
(6) ۔۔۔۔گناہ کے مُتعلّق باتیں کرنے والے لوگوں کی باتیں سننے سے توبہ کرے۔
(7) ۔۔۔۔گناہ کے مُتعلّق سوچنے سے توبہ کرے۔
(8) ۔۔۔۔توبہ کے حق میں کوتاہی برتنے سے توبہ کرے۔
(9) ۔۔۔۔وہ تمام گناہ جنہیں اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے چھوڑا ان میں خالِص رضائے خداوندی کا حُصُول مُراد نہ ہونے سے توبہ کرے۔
(10) ۔۔۔۔اپنی توبہ کی جانِب دیکھنے، اس سے راحت پانے اور اس پر ناز کرنے سے توبہ کرے۔
ان شرائط کی مَوجُودَگی میں توبہ کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حُقوق بجا لانے سے اپنی کوتاہی کا مُشاہَدہ کرے گا کیونکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ان مزید اِنعامات کے مُشاہَدے کی عَظَمَتْ جان لے گا جو اسے توحید یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عَظِیمُ الشَّان بُزرگی و کِبْرِیَائی سے آگاہ ہونے سے حاصِل ہوں گے۔اب اس کی توبہ مُشاہَدے کی حقیقت پر عَمَل کرنے سے قاصِر ہونے کی بنا پر ہو گی اور اس کا اِسْتِغفار کرنا مَرتبہ کی بُلَندی اور دائمی اِنْعَامات کا مُشاہَدہ کرنا کوتاہ ہِمَّتی اورضُعْفِ قَلْب کا شِکار ہونے کی وجہ سے ہوگا۔
عارِف کی توبہ کی کوئی انتہا ہے نہ اس کے اِخْتِیار کردہ اَوصافِ حَمِیدہ کی کوئی حَد، نہ کوئی ایسا وَصْف ہے جو اس کے آزمائش میں مبتلا ہونے کی باریکیوں کو بیان کرنے کا مُتَحَمِّل ہو۔ الغرض نبی ہو یا غیر نبی کوئی بھی توبہ سے مستثنیٰ نہیں، ہر مَقام کی ایک توبہ ہے اور ہر مَقام کے حال کی بھی ایک توبہ ہے۔اسی طرح ہر مُشاہَدے و مُکاشَفے کی بھی ایک توبہ ہے۔یہ اس توبہ کرنے اور رُجُوع اِلَی الله کرنے والے کا حال ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں مُقَرّب شُمار ہوتا ہے اور اس کا حبیب ہے۔یہ بَہُت زیادہ توبہ کرنے والے اور آزمائش میں مبتلا لوگوں کا مَقام ہے یعنی یہ ان لوگوں کا مَقام ہے جن کا اَشیا کے ذریعے اِمْتِحَان لیا جاتا ہے اور وہ ان اَشیا کے ذریعے (مختلف مَصَائِب سے)آزمائے جاتے ہیں پھر بھی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں بَہُت زیادہ توبہ کرتے رہتے ہیں کیونکہ ان کا پروردگار عَزَّ وَجَلَّ یہ مُلاحَظہ فرمانا چاہتا ہے کہ
٭… ان لوگوں کا دل (آزمائشوں کا شِکار ہونے کے باوُجُود) یادِ اِلٰہی میں مگن رہتا ہے یا اَسباب کی جانِب متوجّہ ہو جاتا ہے؟
٭…ان کی سوچوں کا مَحْوَر ذاتِ خداوندی رہتی ہے یا یہ اشیا؟
٭… وہ ان آزمائشوں میں مبتلا ہو کر اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت پر مطمئن رہتے ہیں یا ان سے چھٹکارے کی فِکْر میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟
٭… وہ ان اشیا سے جان چھڑا کر اپنے مالک و مولیٰ عَزَّ وَجَلَّکو اپنا مطلوب بناتے ہیں یا انہی اشیا کی طَلَب میں کھو جاتے ہیں؟
پس اس مَقام پر فائز اَفراد کا غَیْرُ اللہ کی جانِب دیکھنا بھی گناہ شُمار ہوتا ہے اور ان پر غَیْرُ اللہ سے راحَت پانے پر عِتاب لازِم آتا ہے۔جس طرح کہ ایسے اَفراد کو ہر مُشَاہَدے میں ایک نئے عِلْم کی دولت سے نوازا جاتا ہے اور کائنات کے (سربستہ رازوں میں سے کسی راز کے) اِظْہَار میں ایک حکْم سے شناسائی ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کے گناہوں کا جس طرح کوئی شُمار نہیں اسی طرح بارگاہِ خداوندی میں ان کی توبہ کا بھی کوئی شُمار نہیں۔
یہ توبۂ نصوح کی حقیقت ہے اور ایسی توبہ کرنے والا رَضائے خداوندی کے حُصُول کے لیے اپنا سرِ تسلیم خَم کرنے والا، اپنے نَفْس سے بھلائی کرنے والا اور مطمئن ہوتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں اس کا دین صحیح اور اس کا مَقام و حال دُرُسْت رہتا ہے۔ چنانچہ،
فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آزمائش میں مبتلا اور توبہ کرنے والے کو پسند فرماتا ہے۔[1]
گناہوں کی سات۷اَقسام
گناہوں کی سات۷اَقسام ہیں جن میں سے بعض بعض سے بڑے ہیں، ان میں سے ہر قسم کے الگ الگ مَراتِب ہیں اور ہر مرتبے میں گناہ گاروں کا ایک الگ طبقہ ہے۔چنانچہ وہ سات۷اَقسام یہ ہیں:
بعض گناہ ایسے ہیں جن میں بندہ صِفاتِ رَبُوبِیَّت اپنانے کی وجہ سے مبتلا ہوتا ہے۔ مِثال کے طور پر کِبْر، فَخْر، جَبْر، اپنی مَدْح وثَنا کو پسند کرنا، عزّت و غِنا کے اَوصاف سے مُتَّصِف ہونا۔ یہ تمام گناہ مُہلِکات میں سے ہیں اور ان میں دنیا داروں کے بَہُت سے طبقات مبتلا ہیں۔
بعض گناہوں کا تعلّق شیطانی اَخلاق سے ہوتا ہے جیسے حَسَد، سرکشی و بَغَاوَت، مَکْر و فریب اور فَساد کا حکْم دینا۔ یہ سب گناہ بھی ہَلاکَت خیز ہیں اور ان میں بھی دنیاداروں کے بَہُت سے طبقات مبتلا ہیں۔
بعض گناہ وہ ہیں جو سنّت کی خِلاف ورزی کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی وہ گناہ جو سنّت کی مُخالَفَت کر کے بِدْعَت اپنانے اور دین میں نئی نئی باتیں اِیجاد کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، یہ سب کبیرہ گناہ ہیں اور ان میں سے بعض گناہوں پر عَمَل کی وجہ سے اِیمان خَتْم اور نِفاق پیدا ہوتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع