30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی مَعِیَّت میں گناہ کرنے سے مُراد یہ ہے کہ بندہ گناہ کے ذریعے نفسانی خواہش کی مُوَافِقَت کرے کیونکہ توبہ میں تاخیر اور گناہ پر اِصرار مزید دو۲گناہ ہیں۔
بندہ جب اپنے گناہ سے توبہ کر لے اور اپنی توبہ پر پختہ ہو جائے تو یہ عقیدہ رکھے کہ نیکی کے کاموں پر اِسْتِقامَت اِخْتِیار کرنے اور گناہوں سے محفوظ رہنے میں وہ ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کَرَم کا مُحتَاج ہے۔پھر اپنی سوچوں اور تَمنّاؤں میں بسنے والے صغیرہ گناہوں سے توبہ کرنے میں مشغول ہو جائے یعنی مَخلوق سے خوف اور طَمَع رکھنا خواص کے نزدیک گناہ ہیں، جبکہ کسی شے سے راحَت و سُکُون پانا مُقرّبین کے نزدیک گناہ ہیں۔ (ان تمام گناہوں سےتوبہ کرے)یہاں تک کہ اس کے عِلْم کے مُطابِق کوئی گناہ باقی نہ رہے اور عِلْم بھی اس کے اِیفائے عہد (یعنی دوبارہ گناہ نہ کرنے کے عہد)کی گواہی دے تو اس صُورَت میں اس کے گناہ صِرْف عِلْمِ اِلٰہی میں باقی رہ جائیں گے۔کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے ترجیح دی یعنی اپنے عِلْمِ غیب کے مُطابِق اسے مُکاشَفہ کی دولت سے نوازا، نَفْسِ عَبُودِیَّت کا مَفہوم سمجھایا اور رَبُوبِیَّت کے اَوصاف و کِبْرِیائی کے غَلَبہ سے پیدائش کا مقصود بتایا۔ پس اس کا خوف میں مبتلا ہونا (یعنی صالحین کے نزدیک جو نیک کام ہیں ان کو گناہ سمجھنا اور بارگاہِ خُداوندی میں حاضِر ہو کر ان اُمُور سے توبہ کرنا بھی)اس کے لیے اَجَر و ثواب کا باعِث بن جائے گا۔ اس لیے کہ یہ اپنے نفسانی عِلْم سے گھبرا کر اس جانِب رُجُوع کرے گا جس کا ذِکْر کرنا ممکن ہے نہ اسکی تفصیلات بیان کی جا سکتی ہیں یعنی مُقَرّبین کے وہ گناہ جو اَصحابِ یمین کے نزدیک نیکیاں ہیں (عام لوگوں کے سامنے بیان کرنا دُرُسْت نہیں)کیونکہ عام لوگوں کو مُشاہَدے کی قُوت حاصِل ہوتی ہے نہ وہ ان (صالحین و مُقرّبین) کے مَقام و مرتبہ کی حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں۔
اَلْغَرَضْ ایسے مُقرَّب بندے کا حال یہ ہوتا ہے کہ موت تک اپنی ہر آن اور ہر سانس میں قُرْبِ خُداوندی سے دُور (یعنی محروم)ہو جانے سے ڈرتا ہے اور اسے ہر حرکت میں اِعراض و حِجاب کا خوف لاحَق رہتا ہے یہاں تک کہ وہ دنیا سے آخِرَت کی طرف کُوچ کر جاتا ہے۔
غَـیْـرُالله کی جانِب دیکھنے کی سزا
مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُنا یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کی جانِب وحی فرمائی:کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کے اور (حضرت سَیِّدُنا )یُوسُف (عَلَیْہِ السَّلَام )کے درمیان جُدائی کیوں پیدا کی؟ عَرْض کی: نہیں۔فرمایا:آپ کے ان کے بھائیوں کو یہ فرمانے کی وجہ سے کہ مجھے خوف ہے کہ بھیڑیا اسے کھا جائے گا۔ آپ کو اس پر بھیڑئیے کا خوف تو آیا مگر مجھ سے (اس کی حِفَاظَت کی) اُمِّید نہ رکھی؟آپ نے ان کے بھائیوں کی غفلت کو دیکھا مگر میری حِفَاظَت کو نہیں دیکھا؟
اسی قسم کا مَفہوم حضرت سَیِّدُنا یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کے مُتعلِّق بھی مَرْوِی ہے کہ جب آ پ عَلَیْہِ السَّلَام نے ساقی کو یہ فرمایا: (اُذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ٘-(پ ۱۲، یوسف:۴۲)) ترجمۂ کنز الایمان: اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا۔تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَادفرمایا:
فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠(۴۲)(پ ۱۲، یوسف:۴۲)
ترجمۂ کنز الایمان:تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یُوسُف کا ذِکْر کرے تو یُوسُف کئی برس اَور جیل خانہ میں رہا۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہی وہ مَقام ہے جہاں اللہ کے خاص بندوں پر اتنی سی بات کے لیے بھی عِتاب ہوتا ہے کہ انہوں نے غیر اللہ کی جانِب لمحہ بھر کے لیے کیوں دیکھا اور ان سے راحَت کیوں پائی۔
(سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کےبعد) بعض لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس مزید اِحسان سے محروم رہے اور اُنہوں نے توبہ کی حَلاوَت نہ پائی کیونکہ اُنہوں نے توبہ کی رِعَایَت میں سستی سے کام لیا اور عُمدہ طریقے سے مُراقَبہ چھوڑ کر تَسامُح کا شِکار ہو گئے۔
یہ سب توبہ کی پختگی میں کمی کی وجہ سے ہوا،اگر وہ صِرف ایک ہی گناہ سے پختہ توبہ کرتے اور اس مُعامَلے میں سچّے تائبین کی حالَت اپناتے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانِب سے مزید اِحسانات پانے سے محروم نہ ہوتے، کیونکہ یہ مُـحْسِنِیْن ہیں اور نیک عَمَل میں تجدید کرنے والے ہیں۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے مُتعلّق اِرشَاد فرمایا:
وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۸)(پ ۱، البقرة: ۵۸) ترجمۂ کنز الایمان:اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں۔
توبہ کے باوجود نیکی کی کوئی خاصیت نہ پاؤ تو
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)جب تم خود کو توبہ پر ثابِت قَدَم اور نیک عَمَل کرنے والا پاؤ مگر اپنے اندر حَلاوَت یا حُسْنِ خُلْق یا زُہْد یا نیکی کی کوئی خَاصیّت نہ پاؤ تو مُراقَبہ یا نَفْس کی کڑی نِگرانی کی جانِب لَوٹ جاؤ اور ان دونوں حالتوں پر خوب نظر رکھو، انہیں پختہ و مضبوط کرو کہ انہی دونوں حالتوں سے گزر کر تم اس مَقام خاص تک پہنچو گے۔بعض عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام فرماتے ہیں:جس نے 99گناہوں سے توبہ کر لی اور صِرف ایک گناہ سے توبہ نہ کی وہ توبہ کرنے والوں میں سے نہیں۔
نمازوں کے بعد توبہ کی تجدید اور اَحْوَال کی دیکھ بھال سے ہر گز غافِل نہ ہوں کیونکہ عامِلین اَحْوَال کی دیکھ بھال اور مُحاسَبۂ نَفْس تَرْک کرنے اور اپنے اَعمال میں تَسامُح برتنے کے سَبَب اس طرح خَسارے کا شِکار ہو جاتے ہیں کہ انہیں مَعْلُوم تک نہیں ہوتا۔
ہر گناہ سے توبہ کی حقیقت دس اَعمال ہیں، بندہ جب تک توبہ کی دس شَرائِط پوری نہ کر لے ایسا توبہ کرنے والا نہیں بن سکتا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا محبوب ہو اور نہ اس کی یہ توبہ ایسی خالِص شُمار ہو گی کہ جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے (مَغْفِرَت کے لیے)شَرْط ٹھہرایا ہے اور حدیثِ پاک میں اس کی وَضَاحَت بھی مروی ہے۔ چنانچہ،
وہ شرائط یہ ہیں:
(1) ۔۔۔۔اس گناہ کی جانِب دوبارہ نہ لوٹنے سے توبہ کرے۔
(2) ۔۔۔۔زبان سے توبہ کرے۔
(3) ۔۔۔۔گناہ کے سَبَب کے ساتھ مِلنے سے توبہ کرے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع