30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4) ۔۔۔۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حُسْنِ ظَن اور صِدْقِ یقین کے سَبَب اپنے گناہ کے کفّارے کی اُمِّید رکھے۔
یہ وہ اَعمال ہیں جن کے مُتعلّق مختلف آثار و روایات میں مَروی ہے کہ یہ گناہوں اور لَغْزِشوں کا کفّارہ ہیں۔[1] بلکہ بعض اَوقات بعض گناہوں کے کفّارہ میں یہ تمام باتیں شَرْط ہیں۔
بندے کو چاہئے کہ (گناہوں کی مُعافی کے لیے)مَسْجِد میں جا کر دو۲رَکْعَت نماز پڑھے اور بعض روایات میں ہے کہ چار۴رَکْعَت پڑھے۔[2]
مَنْقُول ہے کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو دائیں جانِب والا فرشتہ جو بائیں جانِب والے فرشتے کا نِگران بھی ہے، سے کہتا ہے :چھ۶ساعتوں تک اس بندے کا گناہ لکھنے سے قَلَم کو روکے رکھو۔ (اس دوران)اگر وہ بندہ توبہ و اِسْتِغفار کر لے تو وہ فرشتہ گناہ نہیں لکھتا اور اگر اِسْتِغفار نہ کرے تو وہ لکھ لیتا ہے۔[3]
مَنْقُول ہے کہ رات کے وَقْت دیا گیا صَدَقَہ دن کے گناہوں کا کفّارہ ہے اور چھپ کر دیا جانے والا صَدَقَہ رات کے گناہوں کا کفّارہ ہے۔ایك رِوایَت میں ہے کہ سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:جب تو کوئی گناہ کرے تو اس کے فوراً بعد نیکی بھی کر لیا کر کہ وہ نیکی گناہ کو مِٹا دے گی، پوشیدہ گناہ کے لیے پوشیدہ نیکی اور اِعلانیہ گناہ کے لیے اِعلانیہ نیکی کیا کر۔[4]
دو۲فرشتوں کی حسرت آمیز چار۴باتیں
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)مُـخْتَلِف روایات میں جو باتیں مَرْوِی تھیں ہم نے انہیں ایک ہی جگہ کچھ یوں جَمْع کر دیا ہے کہ ہر روز جب صُبْح ہوتی ہے اور ہر رات جب شَفَق غُرُوْب ہوتا ہے تو دو۲فرشتے باہَم ایک دوسرے کو یہ چار۴آوازیں دیتے ہیں:
٭… ایک دوسرے سے کہتا ہے: کاش! یہ مَخلوق پیدا نہ کی جاتی۔
٭… دوسرا کہتا ہے: کاش! جب انہیں پیدا کیا گیا تو انہیں یہ مَعْلُوم ہو جاتا کہ انہیں کیوں پیدا کیا گیا ہے؟
٭… پہلا پھر کہتا ہے: کاش! جب انہیں یہ مَعْلُوم ہوجاتا کہ انہیں کیوں پیدا کیا گیا ہے تو یہ اپنے عِلْم پر عَمَل بھی کرتے۔ ایک رِوایَت میں ہے کہ وہ کہتا ہے:کاش! یہ آپَس میں بیٹھ کر علمی مُذاکَرہ کرتے۔
٭… دوسرا کہتا ہے: کاش! جب انہوں نے اپنے عِلْم پر عَمَل نہ کیا تو اپنے بُرے اَعمال سے ہی توبہ کر لیتے۔
الله عَزَّ وَجَلَّ كےحقوق
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندے پر سب سے پہلا حَق یہ ہے کہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کے ذریعے اس کی نافرمانی نہ کرے تاکہ بندے کی مَعْصِیَّت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کی ناشکری شُمار نہ ہو۔بندے کے تمام اَعْضَائے جسمانی اور اس کے علاوہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں ہی ہیں۔اس لیے کہ انسانی زِنْدَگی کی بَقا جِسْمَانی اَعْضَا (کی سلامتی) میں،جسمانی اَعْضَا کی پختگی ان کی حَرَکَت میں اور حَرَکَت کے فوائد عافیت میں ہیں۔
جب بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کسی نِعْمَت کے ذریعے اس کی نافرمانی کا مُرْتکِب ہوتا ہے تو گویا اس نے اس نِعْمَت کو کُفْرَانِ نِعْمَت سے بَدَل دیا جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا (پ ۱۳، ابراھیم:۲۸) ترجمۂ کنز الایمان:جنہوں نے اللہ کی نِعْمَت ناشکری سے بَدَل دی۔
مَنْقُول ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نِعْمَت کے ذریعے اس کی نافرمانی کے مُرْتکِب ہوئے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس تبدیلی پر انہیں شدید عَذاب کی وَعِید سنائی۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲۱۱)(پ ۲، البقرة:۲۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اللہ کی آئی ہوئی نِعْمَت کو بَدَل دے تو بے شک اللہ کا عَذاب سخت ہے۔
عذابِ الٰہی کی مختلف صورتیں اور اسباب
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عَذاب اس کی نِعْمَت کو مَعْصِیَّت کے ساتھ تبدیل کرنے پر شِدّت اِخْتِیارکر جاتا ہے جو٭… بعض اَوقات دنیا میں فوراً واقِع ہو جاتا ہے اور٭… بعض اَوقات آخِرَت تک کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔٭… بھی تو یہ عَذاب اَسبابِ دنیا کے مُتعلِّق ہوتا ہے اور ٭… کبھی اَسبابِ آخِرَت کی محرومی کے مُتعلِّق، کیونکہ وہی اس کا اَنْجام اور ٹھکانا ہے٭… بعض اَوقات یہ عَذاب دونوں (یعنی اَسبابِ دنیا و اَسبابِ آخِرَت کی محرومی) کے مُتعلِّق ہوتا ہے٭… بعض اَوقات نِعْمَت کے ذریعے مَعْصِیَّت کا اِرْتِکاب ہی عَذاب کی شکل اِخْتِیار کر لیتا ہے۔
٭… نِعْمَت سے غفلت اور٭…اس پر شُکْر نہ کرنا٭… اسے مَعْمُولی سمجھنا اور٭… اس سے راحَت پانا ٭… غُرور کرنااور٭… فخر و بڑائی بھی عَذاب کے اَسباب ہیں۔
بندے پر فَرْض ہے کہ جب نافرمانی کا مُرْتکِب ہو تو (مَغْفِرَت کے لیے)فوراً بارگاہِ خداوندی کی طرف رُجُوع کرے یعنی نَفْس کی مَعِیَّت میں گناہ کرنے کے فوراً بعد توبہ کر لے۔ جبکہ نَفْس
[1]………ابو داود ، کتاب الوتر ، باب فی الاستغفار ، ۲/ ۱۲۲ ، حدیث: ۱۵۲۱
[2]………کتاب الدعاء للطبرانی ، باب فضل الاستغفارفی ادبار الصلوات ، ص۵۱۸ ، حدیث: ۱۸۴۸ ، دون ذكر المسجد
[3]………معجم کبیر ، ۸/ ۱۹۱ ، حدیث: ۷۷۸۷
[4]………معجم کبیر ، ۲۰/ ۱۷۵ ، حدیث: ۳۷۴ ، بتغیر قلیل
الزھد للامام احمد بن حنبل ، ص۶۱ ، حدیث: ۱۴۳ ، مختصراً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع