دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

اللہ عَزَّ وَجَلَّ توبہ کے وَقْت اپنے مُخْلِص بندوں کو جو جواب عطا فرماتا ہے وہ مُنافقین و مُشْرِکِین کو نہیں دیتا۔ کیونکہ توبہ کے بغیر کسی کے لیے نجات کی کوئی راہ نہیں اور نہ توبہ کے بغیر مَحبَّت و رَضائے الٰہی تک رسائی ممکن ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مُنافقین کے مُتعلّق اِرشَادفرمایا:

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْؕ-(پ ۱۱، التوبة: ۱۰۶)

ترجمۂ کنز الایمان:اور کچھ مَوقوف رکھے گئے ہیں اللہ کے حکْم پر یا ان پر عَذاب کرے یا ان کی توبہ قبول کرے۔

مَطْلَب یہ ہے کہ اگر وہ گناہوں پر اِصْرار کریں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پر عَذاب فرمائے یا اِسْتِغفار کریں تو ان کی توبہ قبول فرمائے اور کافِروں کے مُتعلّق اِرشَادفرمایا:

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْؕ- (پ ۱۰، التوبة: ۵)            

ترجمۂ کنز الایمان:پھر اگر وه توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِسْتِغفار کو اُمَّت میں مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَوجُودَگی کے ساتھ اور لوگوں سے عَذاب کے دُور ہونے کو اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وُجُودِ مَسْعُود کے ساتھ ذِکْر فرمایا اور اسے اپنا فضل و اِنعام قرار دیا۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳)(پ ۹، الانفال:۳۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عَذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انہیں عَذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔

دو۲اَمانیں

ایک بُزرگ فرماتے ہیں:ہمارے پاس دو۲اَمانیں تھیں، ایک چلی گئی اور دوسری باقی ہے۔ اگر دوسری بھی چلی گئی تو ہماری ہَلاکَت یقینی ہے۔ مُراد یہ ہے کہ (ایک اَمان )اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (تھے جنہوں) نے اس دنیا سے ظاہِری پردہ فرما لیا اور (دوسری اَمان)اِسْتِغفار (ابھی)باقی ہے۔

حامِلینِ عرش جیسا مَقام

حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے گناہوں کو مِٹانے والے اِسْتِغفار کے مُتعلِّق پوچھا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:اس کی اِبْتِدَا اِسْتِجابَت (یعنی حکمِ خُداوندی پر لَـبَّیْک کہنے)سے ہوتی ہے، پھر اِنابَت (رُجُوع اِلَی الله)اور اس کے بعد توبہ کی باری آتی ہے۔ اِسْتِجابَت سے اَعْضَا و جَوَارِح کے اَعمال، اِنابَت سے دِل کے اَعمال اور توبہ سے بندے کا اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّکی جانِب متوجّہ ہونا اور مخلوق سے کِنارہ کَش ہونا مُراد ہے۔ اس کے بعد بندے کو چاہئے کہ نیک اَعمال کی بجاآوری میں جس کوتاہی کا شِکار ہے اس سے مَغْفِرَت  طَلَب کرے۔ نیز نِعْمَتِ خُداوندی سے جاہِل ہونے اور اس نعمت پر شُکْر بجا نہ لانے پربھی مَغْفِرَت  چاہے تو اسے بخشش کا مُژدہ ملتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ اس کے بعد بندہ اِنْفِرادِیَت، ثابِت قَدَمی، بیان، قُرب، مَعْرِفَت، مُناجات، مُصافات، مُوالات اور مُحادَثَةُ السِّر یعنی خُلَّت کی جانِب منتقل ہو جاتا ہے اور یہ بات اس وَقْت ہی بندے کے دل میں قرار پکڑتی ہے جب عِلْم اس کی غِذا، ذِکْر اس کی جان، رضائے الٰہی اس کا زادِ راہ، تفویض (یعنی خود کو سِپُرْدِ خُدا کرنا)اس کی مُراد اور تَوَکُّل (رحمتِ خداوندی پر کامِل بھروسا)اس کا ساتھی ہو۔(جب بندہ ان اَوصاف کا حامِل بن جاتا ہے تو) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر نگاہِ کَرَم فرما کر اسے عَرْش تک بُلَند مَقام عَطا فرماتا ہے، یوں اس بندے کا مَقام حامِلینِ عَرْش جیسا ہو جاتا ہے۔

حضرت سَیِّدُنا سَہْل بن عبداللہتُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی مزید فرماتے ہیں:بندے پر لازِم ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّکے دامَنِ کَرَم سے وَابَسْتہ رہے اور اس کا بہترین حال یہ ہے کہ ہر مُعامَلے میں وہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّکی جانِب ہی رُجُوع کرے۔ مثلاً

٭ اگر کبھی نافرمانی کا مُرْتکِب ہو تو عَرْض کرے: اے میرے رب! میری پردہ پوشی فرما۔

٭ گناہ (کرنے کی صورت میں جب)اس سے جُدا ہو تو عَرْض کرے: اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما۔

٭ جب توبہ کرے تو عَرْض کرے: اے میرے رب! مجھے گناہوں سے محفوظ فرما۔

٭ جب نیک عَمَل کرے تو عَرْض کرے: اے میرے رب! میرا عَمَل قبول فرما۔

آٹھ ۸نیک اعمال

گناہ سے توبہ کے بعد جو نیک اَعمال کیے جاتے ہیں اور جن سے گناہوں کے کفّارے کی اُمِّید کی جاتی ہے وہ آٹھ۸اَعمال ہیں۔ ان میں سے چار۴کا تعلّق ظاہِری اَعْضَا سے ہے اور چار۴کا تعلّق (باطِنی عُضْو یعنی)دل سے ہے۔

ظاہِری اعضا کے چار۴اعمال

ظاہِری اَعْضَا کے اَعمال یہ ہیں:

(1) ۔۔۔۔بندہ دو۲رَکْعَت نَماز نَفْل پڑھے۔

(2) ۔۔۔۔ 70مرتبہ اِسْتِغفار کرے، پھر 100 مرتبہ یہ پڑھے: سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِیْمِ وَ بِـحَمْدِہٖ۔

(3) ۔۔۔۔اس کے بعد صَدَقَہ کرے۔    (4) ۔۔۔۔ایک دن کا روزہ رکھے۔

 

دل کے چار۴اعمال

دل كے اَعمال یہ ہیں:

(1) ۔۔۔۔ گناہ سے توبہ کا پختہ اِرادہ کر لے اور اس کی جڑوں کو اُکھاڑ پھینکنا پسند کرے۔

(2) ۔۔۔۔اس پر سزا کا خوف نمایاں ہو۔             (3) ۔۔۔۔اسے مَغْفِرَت کی اُمِّید ہو ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن