30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰)نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ(۳۱)(پ ۲۴، حٰم السجدة:۳۰ ،۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنّت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زِنْدَگی میں اور آخِرَت میں اور تمہارے لیے ہے اس میں جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی اس آیت مُبارَکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں) (اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا) سے مُراد یہ ہے کہ بیشک جن لوگوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وَحْدَانِیَت کا اِقرار کیا پھر توحید پر ثابِت قَدَم رہے اور شِرک نہ کیا۔ ایک قول کے مُطابِق یہاں یہ مُراد ہے کہ وہ سنّت پر قائم رہے اور انہوں نے کوئی بِدْعَت نہ اپنائی۔
ایک قول کے مُطابِق وہ توبہ پر قائم رہے اور اس سے رُوگردانی نہ کی (ان پر فرشتے نازِل ہوکر انہیں کہتے:)
٭…گناہوں کی سزا سے مَت ڈرو کہ توحید کی وجہ سے انہیں مُعاف کر دیا گیا ہے۔
٭…جو نیک اَعمال نہ کر سکے ان پر غم نہ کرو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہاری توبہ کے سَبَب ان کی تَلافی کر دی ہے۔
٭…تمہاری اِسْتِقامَت کی وجہ سے تمہیں مُـحْسِنِیْن کے مَقام و مرتبہ پر فائز فرما دیا ہے۔
٭…خوش ہو جاؤ اس جنّت کی خوشخبری پاکر جس کا دنیا میں تم سے وَعدہ کیا جاتا تھا۔
٭…ہم تمہارے دوست ہیں یعنی تمہارے ساتھ ہیں اور تمہارے اِیمان پر ثابِت قَدَم رہنے کی بنا پر دنیا و آخِرَت میں ہم تمہارے قریب ہیں۔
٭…جنّت میں ہر وہ شے تمہارے لیے ہے جو تمہارا جی چاہے یعنی تم جس دائمی نعمت کو طَلَب کرو گے وہ تمہیں مل جائے گی۔
٭… (صِرف یہی نہیں بلکہ) تمہارے لیے اس میں ہر وہ شے ہے جو بھی مانگو گےیعنی تمہارے دل دیدارِ باری تعالیٰ کی تَمنّا کریں گے تو تم اس نِعْمَتِ عظمیٰ سے بھی ضَرور سرفراز ہو گے۔
گناہ پر قائم رہ کر توبہ کرنا کیسا؟
دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مَغْفِرَت نِشان ہے:گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا اور گناہ پر قائم رہتے ہوئے اس سے بخشش چاہنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی آیات سے مَذاق کرنے والے شخص کی طرح ہے۔[1]
ایک بُزرگ فرماتے ہیں:میں اپنے اس قول سے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مَغْفِرَت طَلَب کرتا ہوں کہ میں زبان سے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اِسْتِغفار کروں مگر حقیقی توبہ کروں نہ میرا دل اپنے کئے پر شَرَمْسار ہو۔
ایک رِوایَت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بھی فرمان ہے کہ توبہ اور دِل کی نَدامت کے بغیر مَحْض زبان سے اِسْتِغفار کرتے رہنا کذّابوں (یعنی جھوٹوں)کی توبہ ہوتی ہے۔[2]
حضرت سَیِّدَتُنا رابِعہ عَدَوِیہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہَا فرماتی ہیں کہ ہمارا اِسْتِغفار کرنا بھی اِسْتِغفار کا مُحتاج ہے۔
کتنی ہی توبہ ہیں جو صحیح ہونے میں مزید توبہ کی مُحتاج ہیں ، نیز انہیں خُلوص اور سُکون کی بھی ضَرورت ہے۔ پس جس نے بُرائی کے فوراً بعد نیکی کر لی اور یوں نیک کاموں کو بُرے کاموں سے خَلْط مَلْط کر دیا اس کے لیے نَجات کی طَمَع اور مَرْنے سے قَبل توبہ پر اِسْتِقامَت کی اُمِّید کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ،
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًاؕ-عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْؕ-(پ ۱۱، التوبة:۱۰۲)
ترجمۂ کنز الایمان:ملایا ایك كام اچھا اور دوسرا برا ، قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے۔
یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پر اپنی نِگاہِ کَرَم فرمائے۔ ایک قول کے مُطابِق ان کے مِلائے جانے والے اَچھّے کام سے مُراد گُناہ کا اِعْتِراف کرنا اور نئی توبہ کرنا ہے جبکہ بُرے کام سے مُراد غفلت و جَہالَت کا مُرْتکِب ہونا ہے۔
اللہ کا غفور و رحیم ہونا
حضرت سَیِّدُنا ابن عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَنْقُول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس شخص کے لیے غَفُور ہے جو اس کی بارگاہ میں توبہ کرے اور رحیم ہے اس اِعْتِبَار سے کہ اس نے توبہ میں انہیں مہلت دے رکھی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع