دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

سُدھارتے ہوئے موت کو گلے لگائے۔[1]

گناہ کے فوراً بعد نیکی کرنا

اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مومنین کی یہ صِفَت قرآنِ کریم میں ذِکْر فرمائی ہے کہ وہ گناہوں کی پَیروی نہیں کرتے اگر بدقسمتی سے کسی گناہ کا اِرْتِکاب کر لیں تو فوراً اس کے بعد کوئی نیکی کا کام بھی کر لیتے ہیں۔ چنانچہ،

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ (پ ۱۳، الرعد:۲۲)                   ترجمۂ کنز الایمان:اور بُرائی کے بدلے بھلائی کر کے ٹالتے ہیں۔

ایک جگہ صَبْر کرنے والے عامِلین کی صِفَت کچھ یوں بیان فرمائی:

اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ(پ ۲۰، القصص:۵۴)

ترجمۂ کنز الایمان:ان کو ان کا اَجَر دوبالا دیا جائے گا بدلہ ان کے صَبْر کا اور وہ بھلائی سے بُرائی کو ٹالتے ہیں۔

مَعْلُوم ہوا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مومنین کو صَبْر کرنے کے دو۲مواقع فراہم کیے ۔ پہلا گناہوں سے اِجْتِنَاب کرنے کا اور دوسرا توبہ کرنے کا ۔ اس طرح صَبْر کی وجہ سے انہیں اَجَر بھی دو۲عطا فرمائے۔

توبہ کی شرائط

اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے توبہ کرنے والے مومنین پر تین۳باتوں کو شَرْط قرار دیا ہےجبکہ توبہ کرنے والے مُنافقین پر چار۴باتوں کو شَرْط ٹھہرایا کیونکہ انہوں نے اَعمال کے مُعامَلے میں مخلوق کو (اپنے گناہوں کی) وجہ اور سَبَب بنایا اور اس طرح اِخلاص میں مخلوق کو خالِق کے ساتھ شریک کر دیا۔ لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر شدید غَضَب کی وجہ سے ایک شَرْط کا اِضافہ فرما دیا۔ جبکہ مومنین نے خالِص توبہ کی تو ان سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دو۲ شرطیں کم کر دیں۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا (پ ۲، البقرة: ۱۶۰)                                     

ترجمۂ کنز الایمان:مگر وه جو توبہ کریں اور سنواریں (اصلاح کریں)اور ظاہِر کر دیں۔

آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں :اس آیتِ مُبارَکہ میں)

٭(تَابُوْا) سے مُراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات سے منہ موڑ کر بارگاہِ خداوندی کی جانِب رُجُوع کر لیا۔

٭( وَ اَصْلَحُوْا) سے مُراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے نُفُوس کی خرابیوں کی اِصلاح کی۔

٭( وَ بَیَّنُوْا) کی تفسیر کے مُتَعَلِّق دو۲قول مروی ہیں:

(1) انہوں نے حَق کی جو باتیں چھپائی تھیں اور عِلْم کی جس حقیقت کو مَـخْفِی رکھا تھا سب ظاہِر کر دیا۔ یہ شَرْط صِرف اس شخص کے لیے ہے جس نے عِلْم کو چھپانے اور حَق کو باطِل سے مِلانے کا گناہ کیا ہو۔

(2) انہوں نے اپنی توبہ ظاہِر کر دی تا کہ ان کے مُتعلّق ہر ایک کو حقیقت معلوم ہو جائے اور ان پر توبہ کے اَحْکام نمایاں ہو جائیں۔

منافقین کے لیے ان دو۲شرائط کے علاوہ مزید دو۲شرطوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اِرشَادفرمایا:

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵)اِلَّا الَّذِیْنَ

تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ(پ ۵، النسآء:۱۴۵، ۱۴۶)                               

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک مُنافِق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہر گز ان کا کوئی مدد گار نہ پائے گا۔مگروہ جنہوں نے توبہ کی اور سنورے (اپنی اِصلاح کی) اور اللہ کی رسی مضبوط تھامی اور اپنا دین خالِص اللہ کے لیے کر لیا ۔

(اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)مُنافقین چونکہ لوگوں اور ان کے اَموال کو مَضْبُوطِی سے تھامے ہوئے تھے اور نیک اَعمال کی بجا آوری میں بھی ریاکاری کے مُرْتکِب ہوتے تھے، اس لیے ان پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رسی کو مَضْبُوطِی سے تھامنے اور رِضائے الٰہی کے حُصُول کے لیے اپنے دین کو خالِص کرنا شَرْط ٹھہرایا گیا۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ہر شخص کی توبہ اس کے گناہوں کی ضِد کے مُطابِق ہو یعنی گناہ کم ہوں تو توبہ بھی کم یا گناہ زیادہ ہوں تو توبہ بھی زیادہ ہو اور یوں توبہ کرنے والا اپنے گناہوں کی ضِد پر قائم ہو جائے تاکہ وہ اس فرمانِ باری تعالیٰ کا مِصْداق بن سکے:

اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ(۱۷۰)(پ ۹، الاعراف:۱۷۰)

ترجمۂ کنز الایمان:ہم نیکوں کا نیگ(ثواب)نہیں گنواتے (ضائع نہیں کرتے)۔

محبوب بندہ بننے کا طریقہ

بندہ اس وَقْت تک توبہ کرنے والا شُمار نہ ہو گا جب تک کہ وہ اپنی اِصلاح کرنے والا نہ بن جائے اور وہ اپنی اِصلاح کرنے والا اس وَقْت ہی شُمار ہوتا ہے جب وہ نیک اَعمال کرنے لگے تا کہ نیک اَعمال کی اَنْجَام دَہی کے بعد اس کا شُمار صالحین میں ہواور صالحین کے مُتعلّق فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ(۱۹۶) (پ ۹، الاعراف:۱۹۶)                   ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔

 



[1]………معجم اوسط ،  ۱/ ۵۰۶ ، حدیث:  ۱۸۶۷ ،  بتغیر قلیل

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن