30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُؕ-لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَاؕ-(پ ۲۸، الطلاق: ۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا وہ اس میں سے نفقہ دے جو اسے اللہ نے دیا اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتا مگر اسی قابل جتنا اسے دیا ہے۔
فُقَرَا سے خود کو ممتاز جاننے والے متکبر لوگ عُلومِ مَعْرِفَت کا اِظْہَار کر کے اپنا مَقام و مَرتبہ نہیں بناتے کہ ان کے اُنس اور اَحْوَال کے اعتبار سے اَسباب ان کی طرف رُخ کر لیں۔ بلکہ ان کا یہ طَرْزِ عَمَل دنیا (و مالِ دینا چاہنے) کا سب سے بڑا دروازہ ہے جو آخِرَت چاہنے والوں کے لیے سَخْت نقصان دِہ اور دِین میں مَلْمَع سازی کرنے کے اعتبار سے بَہُت آسان ہے۔
عِلْمِ شریعت کی مُخالَفَت کرتے ہوئے عِلْم توحید (یعنی طریقت) کے مُتَعَلّق کلام کرنا بھی بِدعَت ہے اور یہ کہنا بھی بِدعَت ہے کہ حقیقت،عِلْم کے مُخالِف ہے۔ کیونکہ حقیقت عِلْم کا ہی دوسرا نام ہے، نیز یہ شریعت کا ایک راستہ بھی ہے، جب شَریعَت کا تعلُّق حقیقت سے ہے تو حقیقت،شَریعَت کے مُنافی کیسے ہو سکتی ہے؟ جبکہ حقیقت ہی عِلْمِ شَریعَت کو لازِم کرتی ہے۔ بِلاشُبہ حقیقت عَزِیمت اور ایک مشکل اَمر ہے جبکہ عِلْمِ ظاہِر رُخْصَت اور وُسْعَت کا حامِل ہے۔ (صاحبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) جو شخص عِلْمِ ظاہِر کے قَواعِد اور اُصُول جانے بغیر عِلْمِ باطِن کے مُتَعَلّق کلام کرے تو اس کا کلام شَریعَت میں اِلْحاد (یعنی کُفر، اُصُولِ اِسْلام سے اِنکار یا اِنْحِراف؛ لَامذہبیت ودَہْرِیَّت) اور کتاب وسنّت میں مُداخَلت شُمار ہو گا۔
ایک عارِف کا قول ہے کہ میں نے (اپنے زمانے کے)شطحیات [1] میں مبتلا جس شخص کے مُتَعَلّق غورو فِکر یا تو پایا کہ ایسا شخص جاہِل اور مَغْرُور ہے یا وہ ایک ناکام مذہبی رہنُما ہے یا ایسی باتیں ظاہِر کرنے والا ہے جن کی کچھ حقیقت نہیں۔کِتاب و سنّت سے وسوسوں کا حل تلاش کئے بغیر دینی مُعامَلات میں کلام کرنا بھی ایک بِدْعَت ہے حالانکہ ان وسوسوں کی تفصیل جاننا اور جو بات کِتاب و سنّت سے ثابِت نہ ہو اس کی نفی کرنا لازِم ہے۔ کیونکہ جب ایسے لوگوں کا دعویٰ تو مَحبَّت کا ہو مگر اس صِفَت کا اِنکار کرنے والے ہوں جو سنّت نے بیان کی ہے اور نہ ہی انہیں مَوصُوف کا مُشاہَدَہ حاصِل ہو تو ایسے بندوں کی وِجْدانی کیفیات گمراہی پر اور مُشاہَدات باطِل اور جھوٹ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے مُتَعَلّق ہر کوئی جان لیتا ہے کہ یہ لوگ حقیقت جانے بغیر مَعْرِفَت کا دعویٰ کرنے والے ہیں۔
دُعا میں ایسے جُملوں سے دُعا مانگنا بھی بِدعَت ہے جن کے آخِر میں ہم قافیہ اَلفاظ ہوں۔ ایسی دُعا قرآنِ کریم سے ثابِت ہے نہ سرکارِ دو۲عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے۔ بلکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تودُعا میں حد سے بڑھنے سے مَنْع فرمایا کرتے تھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندوں کی جو مختصر اور جامِع دعائیں بیان فرمائی ہیں صِرف انہی کی پابندی کا حکم دیتے۔ چنانچہ،
دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: اِيَّاكُمْ وَالسَّجْعَ فِی الدُّعَآءِ۔ یعنی دُعا میں سَجْع [2]سے بچو۔[3] اور یہی دعا مانگنا کافی ہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُكَ الْـجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ اِلَیْھَا مِنْ قَوْلٍ وَّعَمَلٍ ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ اِلَیْھَا مِنْ قَوْلٍ وَّعَمَلٍ۔ ترجمہ: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ میں تجھ سے جنّت اور جنّت کے قریب کر دینے والے قول و عَمَل کا سوال کرتا ہوں اور دوزخ اور اس کے قریب کر دینے والے قول و عَمَل سے پناہ مانگتا ہوں۔[4] ایک فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں ہے کہ عنقریب ایک قوم دُعا اور طہارت میں حد سے تجاوُز کر جائے گی۔[5]
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مُغَفَّل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے کو دُعا مانگتے ہوئے سنا جو دُعا میں خوب منہمک تھا تو فرمایا:اے میرے بیٹے!(اِسلام میں)نئے نئے کام کرنے اور دُعا میں
[1]………حضرت سَیِّدُنا عبدا لمصطفیٰ اعظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیشَطْحِیَّات کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : صَحْو (ہشیاری) وسُکْر (مدہوشی)صُوفِیہ کرام کی یہ دو۲مشہور کیفیات ہیں ۔ اکثر صوفیہ تو ایسے گزرے ہیں کہ مَعْرِفَتِ اِلٰہی ووِصالِ حقیقی کی دولت سے مالا مال ہونے کے بعد ان کو مِنْجَانِبِ اللّٰه ایسے وسیع ظَرف سے نوازا گیا کہ کیفیات واَحْوَال سے مَغْلُوب ہو کر دَامَنِ ہوش وخِرَد ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹا اور ان کی بیداری وہوشیاری میں ایک لمحہ کے لیے بھی فُتور نہیں پیدا ہوا۔ یہ لوگ اَرْبابِ صَحْو کہلاتے ہیں ۔ اور بعض وہ مشائخ ہیں جو بادۂ عِرفانِ الٰہی سے اس درجہ مَخْمُور وسرشار ہو جاتے ہیں کہ غلبۂ اَحْوَال وکیفیات میں دَامَنِ عَقْل وہوش تار تار کر دیتے ہیں اور دُنیائے بیداری وہشیاری سے بیزار ہو کر مستی ومدہوشی کے عالَم میں رہتے ہیں ۔ ان بُزرگوں کو اَرْبَابِ سُکْرکے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہی مُؤَخّرُ الذِّکْر بُزرگوں سے کبھی کبھی عالَمِ سُکْرومستی میں بلا اختیار بعض ایسے کلمات سَرزَد ہو جاتے ہیں جو بظاہَر خلافِ شریعت ہوتے ہیں ، ایسے ہی کلمات و مَقالات کو اِصْطِلاحِ صُوفیہ میں شطحیات کہتے ہیں ۔ وہ بُزرگ جن سے شطحیات سرزد ہوئیں بہت قلیل تعداد میں ہوئے ہیں اوریہ بھی روایت ہے کہ شطحیات سرزد ہونے کے بعد جب ان کے ہوش وحَواس بجا ہوئے ہیں تو انہوں نے نہ صِرف ان اقوال سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے بلکہ اظہارِ بیزاری واِسْتِغْفاربھی کیا۔ چنانچہ حضرت مخدوم سید جہانگیر اشرف سمنانیقُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی سے منقول ہے کہ اصحابِ عِرفان وصاحبانِ وِجْدان میں سے اکثر وبیشتر اہلِ صَحْو (ہشیاری) ہیں اوراس جماعتِ عالیہ میں سے کچھ لو گ صاحبانِ سُکْر (مدہوشی) بھی ہوئے ہیں کہ کبھی کبھی غلبۂ حال وجرأتِ وِصَال میں ان سے کلام شطحیات نکل گئے ہیں لیکن اس حال وکیفیت کے دَفْع ہوتے ہییہ لوگ اسی وَقْت اِسْتِغْفار کرتے تھے اور اپنے اَصحاب کو حکم دیتے تھے کہ جب بھی اگر دوبارہ کوئی شطح آمیز کلام ہم سے سرز د ہوتو اس کے تدارُک میں تم لوگ کوشِش کرو۔‘‘ (لطائف اشرفی)شطحیات کے بارے میں بزرگوں نے فرمایا ہے کہ حَزم واحتیاط لازِم ہے ، ردّوانکاراوران بزرگوں پر فتویٰ لگانے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے بلکہ حتی الامکان تاویل ضَروری ہے کیونکہ یہ سب بزرگانِ دین واھل الله اورصاحبانِ مَعْرِفَت تھے ، بِلا شُبہ ان میں کا ہر ہر فرد نمونۂ سنّت وجَلْوَۂآفتابِ شریعَت تھا۔ ان اکابرِ ملّت بزرگوں پر زبانِ طَعْن دراز کرنا یقیناً بہت بڑی گستاخی اور زبردست محرومی ہے۔ اسکے مُتَعَلّق حضرت مخدوم جہانگیر اشرف قُدِّسَ سِرُّہکا ارشاد سنئے: جماعتِ صُوفِیّہ کا قانونِ مُسَلّم اور قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ مشائخ کے شطحیات کو نہ تورَدّ کرنا چاہئے نہ قبول کرنا چاہئے کیونکہ اس مَشْرَب کا تعلّق مَقامِ وُصُول کیساتھ ہے۔ یہ ان مَقاصِد میں سے نہیں ہیں جہاں عَقْل کچھ کام آسکے۔ ہاں البتہ! کچھ صُوفیوں نے الفاظِشطحیات کی شَرْح میں اچھی اچھی تاویلیں کی ہیں اورایسے مُناسِب مَطلَب ومحمل بیان کئے ہیں کہ ایک حد تک ان کو عَقْل کے اِدراک وعِلْم کے قابِل کہا جا سکتا ہے۔ (لطائف اشرفی) ظاہِر ہے کہ جو شخص اس درجہ مغلوبُ الحال ہوچکا ہوکہ اس کو دُنیائے عَقْل و ہَوش سے کوئی سَروکار ہی نہ ہو اور عَین مدہوشی کے عالَم میں بلااختیارواِرادہ اس سے کچھ کلمات صادِر ہو گئے ہوں اور وہ بھی اس طرح کہ ہوش وحَواس بجا ہونے کے بعد وہ ان کلمات سے نہ صرف لاعِلمی بلکہ بیزاری کا اِظْہَار واِسْتِغْفار کرتا ہو۔ بلاشُبہ ایسا شخص مَرْفُوعُ الْقَلم اور حُدودِ شَریعَت سے آزاد ہے ایسے شخص سے کوئی شَرْعی مُواخِذہ کرنا در حقیقت شریعَت سے لاعلمی ہے:
سجدۂ روضہ ہو کہ در کا طَواف ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے(معمولاتُ الابرار ، ص۸۳)
[2]………دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 326 صَفحات پر مشتمل کتاب فضائلِ دُعا صَفْحَہ 84پر ہے: دعا میں سَجْع اورتکلّف سے بچے کہ باعثِ شُغْلِ قَلب وزوالِ رِقّت ہے۔(یعنی دعا میں جان بوجھ کر ہم قافیہ وہم وَزْن جُملے استعمال نہ کئے جائیں کہ اس سے یکسوئی ختم ہوتی ہے اور رِقَّت جاتی رہتی ہے)قَالَ الرّضَا: اور حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دُعاؤں میں سجع کا آنا ، سجع کا آنا ہے نہ کہ سجع کا لانا اور محذور مُسَجَّع کرنا ہے نہ کہ مُسَجّع ہونا کہ مشوِّشِ خاطر وہی ہے نہ کہ یہ ، ولہٰذا حضرت مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہ نے لفظِ تکلّف زیادہ فرمایا۔ (یعنی دعا میں جس سجع سے بچنے کا حکم ہے اس سے مرادقصداً اپنے کلام کو ہم وزن وہم قافیہ کرنا ہے کیونکہ ممانعت کی وجہ دھیان بٹنا اوریکسوئی ختم ہونا ہے اور اگر کسی کا کلام بلا تکلّف مُسَجَّع(یعنی ہم وزن وہم قافیہ )ہوتاہو تو یہ ہرگز منع نہیں ؛ لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے جو مُسَجَّع دعائیں منقول ہیں وہ ہرگز ہرگز اس ممانعت کے تحت داخِل نہیں کہ وہ بلا تکلّف ہیں اسی وجہ سے مُصنّف مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان نے لفظ ِ تکلّفکی قید کا اضافہ فرمایا ہے۔)
[3]………بخاری ، کتاب الدعوات ، باب ما یکرہ من السجع فی الدعاء ، ۴/ ۲۰۰ ، حدیث: ۶۳۳۷ ، بتغیرقلیل
[4]………ابن ماجه ، كتاب الدعاء ، باب الجوامع من الدعاء ، ۴/ ۲۷۱ ، حدیث: ۳۸۴۶
[5]………ابو داود ، کتاب الطھارة ، باب الاسراف فی الماء ، ۱/ ۶۸ ، حدیث: ۹۶
مسند احمد ، مسند المدنیین ، حدیث عبد اللہ بن مغفل المزنی ، ۵/ ۶۲۹ ، حدیث: ۱۶۸۰۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع