30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں غفلت کے مُرْتکِب لوگوں کو آخِرَت میں خَسارہ پانے والوں میں قرار دیا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ(۱۰۸)لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۱۰۹) (پ ۱۴، النحل:۱۰۸، ۱۰۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہی غفلت میں پڑے ہیں، آپ ہی ہوا کہ آخِرَت میں وہی خراب ہیں۔
(اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)بعض غفلتیں اور خَسارے دیگر غفلتوں اور خَساروں سے کم ہوتے ہیں لہٰذا کسی بھی قسم کی غفلت کو حقیر مَت سمجھو کہ یہی گناہوں کی اِبْتِدَا ہےاور اَہْلِ یقین کے نزدیک یہ کبیرہ گناہوں کی جڑ ہے۔
امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم غفلت کو مَقاماتِ کُفْر کا ایک مَقام قرار دیتے اور اس کا ذِکْر بصیرت نہ ہونے اور شک کے ساتھ فرماتے، نیز غافِل شخص کو ہِدایَت سے دُور اور حَسْرَت کے ساتھ مُتَّصِف قرار دیتے۔ چنانچہ،
اہلِ بیت سے مَرْوِی ایک رِوایَت میں ہے کہ حضرت سَیِّدُناعمّار بِن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے (حضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے)عَرْض کی: اے امیر المومنین! ہمیں بتائیے کہ کُفْر کی بُنْیَاد کس پر ہے؟ تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشَاد فرمایا:کفر کی بُنْیَاد چار۴سُتُونوں پر ہے: جَفا، اندھا پن، غفلت اور شک۔
٭۔۔۔۔جس نے جَفا کی اس نے حَق کو حقیر جانا ،باطِل کا پرچار کیا اور عُلَمائے کِرام کو ناراض کیا۔
٭۔۔۔۔جو اندھا(یعنی بصیرت نہ رکھتا) ہووہ ذکرِ خداوندی کو بھول جاتا ہے ۔
٭۔۔۔۔جو غافِل ہو وہ ہِدایَت سے دُور ہو جاتا ہے اور جھوٹی آرزوئیں اسے دھوکے میں مبتلا کر دیتی ہیں، حَسْرَت و نَدامَت اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانِب سے اس کے لیے ایسی باتیں ظاہِر ہوتی ہیں جن کا اسے گمان تک نہیں ہوتا۔
٭۔۔۔۔جو شک میں مبتلا ہو وہ گمراہی میں سرگرداں رہتا ہے۔[1]
کسی عالِم کا قول ہے کہ جو شخص اپنی نفسانی خواہشات تَرْک کرنے میں صادِق ہو اور اس نے رَضائے خُداوندی کے حُصُول کے لیے سات۷مرتبہ مُجاہَدۂ نَفْس کیا ہو تو اسے گناہوں کی آزمائش میں مبتلا نہیں کیا جاتا۔
ایک قول میں ہے کہ جس نے کسی گناہ سے توبہ کی اور سات۷سال تک اس پر ثابِت قَدَم رہا ، پھر کبھی اس گناہ کی جانِب نہ لوٹے گا۔
قوی و کمزور لوگوں کے گناہوں کا کفّارہ
ایک قول کے مُطابِق بندہ جس گناہ کا عادی ہو اس کا کفّارہ یہ ہے کہ جتنی بار اس گناہ کا مُرْتکِب ہو اتنی بار اگر اسے پھر وہی گناہ کرنے کا موقع ملے تو ہر بار اس گناہ سے اِجْتِنَاب کرے، اس طرح ہر بار گناہ کا ترک کرنا اس کے ایک بار اِرْتِکاب کرنے کا کفّارہ بن جائے گا۔ یہ توبہ کرنے والوں میں سے پختہ کار لوگوں کا حال ہے ضعیف و کمزور مُریدِین کا طریقہ نہیں بلکہ ان کا طریقہ تو یہ ہے کہ اس گناہ کا خیال آتے ہی بھاگ کھڑے ہوں اور ممکنہ حد تک اس گناہ سے دوری بنائے رکھیں۔
جس بندے کے دل میں گناہ پر قادِر نہ ہونے کے باوُجُود اس گناہ کا بار بار خَیال آتا رہے وہ قُدْرَت پائے جانے کے وَقْت اپنے نَفْس پر قابو نہیں رکھ سکے گا۔ لہٰذا مرید کو چاہئے کہ وہ نَفْس کو گناہوں کے مُتَعَلِّق سوچنے کا موقع ہی نہ دے ورنہ وہ ان میں مبتلا ہو جائے گا۔ اس لیے کہ خَیالات قَوِی ہو کر وسوسے بنتے ہیں اور وسوسے زیادہ ہوکر شیطان کے لیے دھوکے و فریب میں مبتلا کرنے والے راستے بن جاتے ہیں۔ چنانچہ توبہ کرنے والے کے لیے سب سے زِیادہ نقصان دہ چیز یہ ہے کہ وہ دل میں بُرے خَیالات پیدا ہونے کی صُورَت میں انہیں دل میں پختہ ہونے کی اِجازَت دیدے کہ وہ اس کی ہلاکت کا باعِث بنیں۔
(اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:مذکورہ سب باتوں کا خاتِمہ ضَروری ہے کیونکہ )ہر وہ سَبَب بھی گناہ ہے٭…جو کسی گناہ کی دَعْوَت دے یا٭…کسی گناہ کی یاد دِلائے یا٭… اس سے کسی گناہ کا اِرْتِکاب ممکن ہو۔ اگرچہ وہ سَبَب مُباح ہی ہو مگر ایسے ہر سَبَب کو خَتْم کرنا نیکی ہے اور اس بات کا تعلّق ان مشکلات سے ہے جو نیکیاں کمانے میں پیش آتی ہیں۔
عرصہ دراز تک گناہوں کا مرتکب رہنا
منقول ہے کہ جو شخص 40 سال تک کسی مخصوص گناہ کا مُرْتکِب رہے تو ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ وہ اس گناہ سے اب اس عمر میں توبہ کر لے۔ ہاں! جنہوں نے توبہ کی وہ بَہُت کم لوگ ہیں۔ چنانچہ،
ایک حدیثِ پاک میں ہے کہ مومن آزمائش میں مبتلا ہونے والا اور بَہُت توبہ کرنے والا ہے اور بے شک کبھی کبھار ایک مومن عرصۂ دراز تک کسی گناہ کا عَادِی رہتا ہے۔[2]
ایک رِوایَت میں ہے کہ تمام اِنسان خَطاکار ہیں اور ان میں سے بہتر خَطاکار توبہ کرنے والے ہیں۔[3]
ایک رِوایَت میں ہے کہ مومن (اپنے گناہوں پر) افسوس کرنے والا اور (توبہ و اِسْتِغفار کے ذریعے)اپنے مُعامَلات کو سُدھارنے والا ہوتا ہے اور ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی حالَت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع