30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭… جِھاد فی سَبِیلِ الله کے مُقابَلے میں اَمْرٌ بِالْـمَعْرُوْف وَ نَـھْیٌ عَنِ الْـمُنْکَر ایسے ہیں جیسے سمندر کے مُقابِل جھاگ۔
٭… ممنوع کاموں سے بچتے ہوئے نفسانی خواہشات سے مُجاہَدہ کرنے کے مُقابِل جِھاد فی سَبِیلِ الله ایسے ہی ہے جیسے سمندر کے سامنے جھاگ۔[1]
یہی مَفہوم ایک حدیثِ پاک میں بھی کچھ یوں مَرْوِی ہے کہ تم جِہادِ اَصْغَر سے جِہادِ اَکْبَر یعنی مُجاہَدۂ نفس کی جانِب لوٹے ہو۔[2]
حضرت سَیِّدُنا سَہْل بن عبداللہتُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:صَبْر صِدْق کی تصدیق کا نام ہے اور طاعَت کی سب سے اَفضل منزل پہلے مَعْصِیَّت پر، پھر طاعَت پر صَبْر کرنا ہے۔
ایک اسرائیلی رِوایَت میں ہے کہ ایک شخص نے کسی دوسرے شہر کی ایک عورت سے شادی کی اور اپنے غلام کو بھیجا تاکہ وہ اسے لے آئے۔ راستے میں اس کے نَفْس نے اسے بَہُت پھسلایا اور گناہ کا مُطَالَبہ کیا مگر اس غلام نے نَفْس سے مُجاہَدہ کیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بچنے کے لیے مَدَد طَلَب کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے نبی بنا دیا اور یوں وہ نفس سے مُجاہَدہ کرنے کے سَبَب بنی اسرائیل کا نبی بن گیا۔[3]
حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے واقِعات میں سے ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت سَیِّدُناخضر عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کس وجہ سے آپ کو عِلْمِ غیب کی دولت سے نوازا ؟فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا کی خاطِر گناہ تَرْک کرنے کی وجہ سے (مجھے عِلْمِ غیب کی دولت ملی ہے)۔
انعامِ خداوندی عمل کے اعتبار سے نہیں ہوتا
اللہ عَزَّ وَجَلَّ بَقَدْرِ عَمَل جزا عَطا نہیں فرماتا بلکہ عَطا و بخشش کی اِنتِہا کر دیتا ہے اور جب کوئی بندہ اس کی رِضا کے حُصُول کے لیے کوئی کام کرتا ہے تو وہ اسے بلاحِساب اَجَر سے نوازتا ہے۔
توبہ کرنے والے کو چاہئے کہ وہ کسی گناہ کو اپنی عادت نہ بنائے ورنہ توبہ مشکل ہو جائے گی۔ کیونکہ عادت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے۔ اگر گناہوں کی یہ عادت نہ ہو تی تو تمام لوگ توبہ کرنے والے ہوتے اور اگر آزمائش نہ ہوتی تو تمام توبہ کرنے والے اپنی توبہ پر ثابِت قَدَم رہتے۔چنانچہ،
مُریدِ صادِق کو چاہئے کہ اگر اس کی گناہوں بھری کوئی عادت ہو تو پہلے اسے خَتْم کرے پھر اگر اسے کسی نفسانی خواہش کے مُعامَلے میں آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہو تو مُجاہَدۂ نَفْس پر صَبْر کرے۔
عمدہ خصلتیں
یہ عُمدہ خصلتیں مُریدوں کے اَفضل اور عُمدہ اَعمال سے تعلّق رکھتی ہیں۔ یہی وہ خَصْلتیں ہیں جب کسی مُرید میں پائی جاتی ہیں تو اس کے نَـفْسِ مُطْمَئِـنّہ کو رُشْد و تقویٰ کا اِلہام ہونے لگتا ہے اور انہی خصلتوں کے ذریعہ ایک مُریدِ صادِق نَفْسِ اَمّارہ کے اَوصاف سے آزاد ہو کر نَـفْسِ مُطْمَئِـنّہ اور اِیمان و قرآن کے اَخلاق و اَوصاف کا پیکر بن جاتا ہے۔ یہ مَفہوم دَرْج ذیل حدیثِ پاک سے ماخوذ ہے۔ چنانچہ،
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے:اَفضل اَعمال وہ ہیں جنہیں تمہارے نَفْس ناپسند کرتے ہوں۔[4] کیونکہ نَفْس کو مُخالَفتِ خواہش پسند نہیں، جبکہ خواہشِ نَفْس حَق
کے مُخالِف ہے اور حَق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو پسند ہے، لہٰذا بندہ نَفْس کو مُخالَفتِ خواہش اور مُوافِقِ حَق پر مجبور کرنے والا بن جاتا ہے کیونکہ حَق کی مَحبّت سب سے اَفضل عَمَل ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- (پ ۸، الاعراف:۸) ترجمۂ کنز الایمان:اور اس دن تول ضَرور ہونی ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ ایک دوسرے مَقام پر) نقصان اٹھانے والوں میں سے ان لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جو آپس میں ایک دوسرے کو حَق بات کی وَصیّت اور صَبْر کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ یقین کی اِبْتِدَا ہے۔
کسی نیک شخص کے مُتعلِّق مَرْوِی ہے کہ وہ کیچڑ میں پیدل چل رہے تھے ، چلتے ہوئے بَہُت محتاط تھے اور اپنے لِباس کو پنڈلیوں سے اوپر اٹھایا ہوا تھا، راستے کے ایک جانِب چلتے ہوئے اچانک ان کا پاؤں پِھسْلا تو دونوں پاؤں کیچڑ کے درمیان رکھ کر چلنے لگے۔ پھر اچانک رونے لگے، عرض کی گئی:کیوں رو رہے ہیں؟ فرمانے لگے: یہ اس بندے کی مِثال ہے جو گناہوں سے بچتا اور ان سے دُور رہتا ہے مگر جب ایک یا دو۲گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے بعد گناہوں میں ہی لَت پَت ہو جاتا ہے۔
بندے پر لازِم ہے کہ جس غفلت کا مُرْتکِب ہو اس سے توبہ کرے، جب اس نے اس بات کی حقیقت کو پہچان لیا تو کبھی بھی اس کی توبہ خَتْم نہیں ہو گی۔ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دنیا
[1]………جمع الجوامع للسيوطی ، مسند علی بن ابی طالب ، ۱۳/ ۳۱۳ ، حديث: ۷۳۴۳ ، بتغیر
[2]………الزھد الکبیر للبیھقی ، فصل فی ترك الدنیا ومخالفة النفس والھوی ، ص۱۶۵ ، حدیث: ۳۷۳
[3]………نبوَّت وَہْبِی ہے کَسْبِی نہیں ۔جیسا کہ بہارِشریعت ، جِلْد اَوّل صفحہ38 پر ہے : نبوَّت کَسْبی نہیں کہ آدمی عِبَادَت ورِیاضَت کے ذریعہ حاصِل کر سکے ، بلکہ مَحْض عَطائے اِلٰہی ہےکہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دیتا ہے ، ہاں !دیتااسی کو ہے جسے اس مَنْصَبِِ عظیم کے قابِل بناتا ہے ، جوقبْلِ حُصولِ نبوَّت تمام اَخلاقِ رذیلہ سے پاک اور تمام اَخلاقِ فاضِلہ سے مُزَیَّن ہو کر جُملہ مَدارِجِ وِلایَت طے کر چکتا ہے اور اپنے نَسْب و جِسْم وقول وفعل و حَرکات و سکنات میں ہرایسی بات سے مُنَزَّہ ہوتا ہے جوباعِثِ نَفْرَت ہو ، اسے عَقْلِ کامِل عَطا کی جاتی ہے ، جو اَوروں کی عَقْل سے بَدَرجہا زائد ہے ، کسی حکیم اور کسی فلسفی کی عَقْل اسکے لاکھویں حِصّہ تک نہیں پہنچ سکتی۔(اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗؕ-(پ۸ ، الانعام: ۱۲۴) ترجمۂ کنزالایمان: اللہخوب جانتا ہے جہاں اپنی رِسَالَت رکھے(ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(۲۱)(پ۲۷ ، الحدید: ۲۱)ترجمۂ کنزالایمان: یہاللہکا فضل ہے جسے چاہے دے اوراللہ بڑے فضل والا ہے) اورجواسے(نبوّت)کوکسبی مانے کہ آدمی اپنے کسب و رِیَاضَت سے مَنْصَبِ نبوّت تک پہنچ سکتا ہے ، کافِرہے۔
[4]………ذم الھوی لابن الجوزی ، الباب الثالث فی ذکر مجاھدة النفس … الخ ، ص۵۶ ، حدیث: ۱۴۸ ، فیه قول عمر بن عبد العزیز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع