30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) منقول ہے کہ یہاں زنگ سے مُراد گناہ پر گناہ کرنا ہے یہاں تک کہ دل سیاہ ہو جائیں اور اِیمان حِجاب تلے ہو جائے کہ کسی نیکی کو نیکی جانے نہ کسی گناہ کو گناہ سمجھے۔ اس وَقْت اس کی رِفْعَت ذِلَّت میں بدل جاتی ہے، جب دل مکمل طور پر سیاہ ہو جائے تو وہ نِفاق پر رہتے ہوئے سرکشی میں حد سے گزر جاتا ہے،اس وَقْت وہ نِفاق اِخْتِیارکرنے میں جلدی کرتا ہے اور اسی حالَت پر مطمئن و قائم رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر اپنی نِگاہِ کرم فرماتا ہے تو اس کے فضل و کرم سے اس کی بگڑی بن جاتی ہے۔
حضرت سَیِّدُناحَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: بے شک بندے اور اس کے رب کے درمیان گناہوں کی ایک حد مُقرّر ہے۔جب بندہ اس حد تک پہنچتا ہے تو اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے، اس کے بعد اسے خیر وبھلائی کی توفیق نہیں ملتی۔
حضرت سَیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ مہر لگانے والے فرشتے عرش کے پائے کے پاس کھڑے ہوتے ہیں جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام ٹھہرائی گئی اشیاکی بے حرمتی کی جاتی ہے اور انہیں حلال سمجھا جاتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ مہر لگانے والےایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔[1]
حضرت سَیِّدُنا مُجاہِد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَاحِد سے مروی ہے کہ دل کھلی ہوئی ہتھیلی کی مانند ہوتا ہے، بندہ جب بھی کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کی ایک انگلی بند ہو جاتی ہے یہاں تک کہ ساری انگلیاں بند ہو جاتی ہیں۔ اس طرح دل سخت ہو جاتا ہے گویا کہ اس پر تالا لگ گیا ہو۔[2]
منقول ہے کہ ہر گناہ کا ایک پودا ہوتا ہے جو دل پر اگتا ہے، جب گناہ کثیر ہوتے جاتے ہیں تو یہ پودے دل کے گرد کسی پھل کے شِگُوفے کی طرح جمع ہو کر اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اسے ہی دل کا غِلاف کہتے ہیں۔نیز منقول ہے کہ یہ ان پردوں میں سے ایک پردہ ہے جس کے مُتَعَلِّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا ہے کہ دل اس پردے کی مَوجُودَگی میں سنتا ہے نہ کچھ سمجھتا ہے۔
گناہ کے خیال سے جسم سیاہ ہو گیا
حضرت سَیِّدُنا اَبُو عَمْرو بِن عُلوان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: میں ایک دن حالَتِ قِیام میں نماز ادا کررہا تھا کہ میرے دِل میں ایک نفسانی خواہش پیدا ہوئی اور اس کے مُتَعَلِّق سوچتے ہوئے مجھے کافی دیر ہو گئی یہاں تک کہ میں شہوت میں مبتلا ہو گیا، جُونہی ایسا ہوا تو میں فوراً زمین پر گر گیا اور میرا سارا جسم سیاہ ہو گیا۔ میں تین۳ دن تک گھر میں چھپا رہا اور باہَر نہ نکلا، میں حمام میں صابُن اور دھونے والے دیگر رنگوں سے اس سیاہی کو دھوتا رہا مگر یہ کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی گئی۔ پھر تین۳دن کے بعد وہ سیاہی مجھ سے دور ہوئی اور میری سفید رنگت دوبارہ لوٹ آئی۔اس کے بعد میں نے حضرت سَیِّدُناابو القاسم جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی کی خِدْمَت میں حاضِری کا اِرادہ کیا اور اس غرض سے رَقّہ (ایک شہر کا نام ہے)سے روانہ ہوا۔ جب ان کی خِدْمَت میں پہنچا تو انہوں نے اِرشَادفرمایا: کیا تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حَیا نہ آئی کہ تو اس کی بارگاہ میں کھڑا ہو کر اپنی نفسانی شہوت میں مشغول ہو گیا یہاں تک کہ وہ تجھ پر غالِب آگئی اور اس نے تجھے رحمتِ خداوندی سے نکال باہَر کیا۔ اگر میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے تیرے لیے دعا نہ کرتا اور تیرے لیے مَغْفِرَت طَلَب نہ کرتا تو تو اسی رنگ کے ساتھ (اس جہانِ فانی سے کوچ کرنے کے بعد) بارگاہِ خدا وندی میں حاضِر ہوتا۔ فرماتے ہیں: میں حیران رہ گیا کہ حضرت سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی کو یہ سب کچھ کیسے معلوم ہوا جبکہ یہ بغداد میں تھے اور میں رَقّہ میں۔ نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی بھی میری اس حالت سے آگاہ نہ تھا۔
دل کا سیاہ نہ ہونا کرمِ خداوندی ہے
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)میں نے یہ حِکایَت ایک عالِم سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا:یہ ابن عُلْوَان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مہربانی و کرم نوازی تھی کہ ان کا دل سیاہ نہ ہوا صِرف سیاہی ان کے جسم پر ظاہِر ہوئی، اگر وہ دل پر چھا جاتی تو یقیناً وہ ہلاک و برباد ہو جاتے۔ مزید فرمایا:کوئی گناہ ایسا نہیں بندہ جس کا بار بار اِرْتِکاب کرے اور اس کے نتیجے میں اس کا دل سیاہ نہ ہو جیسا کہ مذکورہ حِکایَت میں جسم سیاہ ہو گیا تھا۔ اب یہ سیاہی توبہ کے بغیر دور نہیں ہو سکتی کیونکہ ہر شخص سے ابن عُلْوَان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان جیسا سُلوک کیا جاتا ہے نہ ہر کوئی حضرت سَیِّدُناابو القاسم جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی جیسا لطف و کرم فرمانے والا پیر کامِل پاتا ہے۔
ہر گناہ کی ایک سزا ہوتی ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مُعاف فرمانے سے ہی مُعاف ہوتی ہے۔
٭… یہ سزا بقدرِ گناہ ہوتی ہے نہ بندے کے علم کے اعتبار سے ہوتی ہے بلکہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَشیَّت اور عِلْمِ رَبُوبیَّت کے مُطابِق ہوتی ہے۔
٭… بسا اَوقات یہ سزا دل کے مُتَعَلّق ہوتی ہے جس کی وجہ سے دِل مختلف اَمراض کا شِکار ہو جاتا ہے۔
٭… بسا اَوقات یہ سزا جسم کے مُتَعَلّق ہوتی ہے۔
٭… بعض اَوقات اَمْوَال اور اَہل و عَیال کے مُتَعَلّق ہوتی ہے۔
٭… بعض اَوقات عُلَمااور مومنین کی نظروں سے مَقام و مرتبہ خَتْم کر کے بندے کو سزا دی جاتی ہے۔
٭… بعض اَوقات یہ سزا آخِرَت تک مُؤخّر کر دی جاتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع