30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭… وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حِفَاظَت میں بھی نہیں رہتا۔
٭… اسے دُرُست اور اَفضل باتوں کی توفیق نہیں دی جاتی۔
زمانے کی تبدیلی اور لوگوں کی بے رُخی
حضرت سَیِّدُنا فُضَیل رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: تم زمانے کی تبدیلی اور لوگوں کی بے رُخی کو پسند نہیں کرتے،(یاد رکھو!)یہ تمہارے ہی گناہوں کا نتیجہ ہے۔
منقول ہے کہ قرآنِ کریم کا یاد کرنے کے بعد بھلا دیا جانا سب سے بڑی سزا ہے۔چنانچہ قرآنِ کریم کی تِلاوَت نہ کرنا، اس کی قرأت سے تنگ دِلی کا مُظاہَرہ کرنا اور اسے چھوڑ کر دیگر کاموں میں مشغول رہنا اس سزا پر قائم رہنے کی علامات ہیں۔
تیس سال کے بعد گناہ کی سزا ملی
ایک شامی صوفی بزرگ فرماتے ہیں: میں نے ایک خوبصورت چہرے والے نصرانی لڑکے کو دیکھا تو دیکھتا ہی گیا۔ اتنی دیر میں حضرت سَیِّدُناابنِ جَلا دمشقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی میرے پاس سے گزرے تو میرا ہاتھ تھام لیا، مجھے بہت حَیا آئی بَہَرحال میں نے عرض کی: اے ابو عبداللہ! سُبْحٰنَ اللہ!مجھے اس خوبصورت چہرے اور اتنی بہترین تخلیق پر تعجب ہو رہا ہے کہ اسے آگ کے لیے کیونکر پیدا کیا گیا! انہوں نے میرا ہاتھ دباتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:یقیناً تم کچھ عرصے کے بعد اس گناہ کی سزا پاؤ گے۔ فرماتے ہیں: واقعی (ان کے فرمان کے عین مُطابِق) مجھے 30 سال کے بعد اس گناہ کی سزا دی گئی۔
گناہوں کی پہچان اور ان کے اثرات
ایک بزرگ فرماتے ہیں: میں اپنے گناہ کی سزا کو اپنے گدھے کی بد خلقی سے پہچان لیتا ہوں۔ ایک اور بزرگ فرماتے ہیں: میں بھی گناہوں کی سزا کو پہچان لیتا ہوں یہاں تک کہ اپنے گھر میں نظر آنے والے چوہے تک کو پہچان لیتا ہوں (کہ یہ کس گناہ کی سزا ہے)۔
حضرت سَیِّدُنا منصور فقیہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے خواب میں حضرت سَیِّدُناابو عبد اللہ سُکَّری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کو دیکھا تو عرض کی:مَا فَعَلَ اللهُ بِكَ؟ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ سے کیسا سلوک فرمایا؟ انہوں نے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اپنی بارگاہ میں کھڑا کیا تو میں پسینے میں ڈُوب گیا یہاں تک کہ میرے رُخسار کا گوشت گرنے لگا۔ میں نے وجہ دَرْیَافْت کی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک بار ایک لڑکے کو آتے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔
سزائیں لوگوں کے اعتبار سے ہوتی ہیں
سزا شِدّت و مَشَقَّت کا نام ہے اور ہر شخص کی سزا اس پر ہونے والی شِدّت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ چنانچہ ،
٭… دنیا داروں کو دنیا میں رِزْق سے محروم کر کے سزا دی جاتی ہے یعنی ان پر رِزْق کمانا مشکل ہو جاتا ہے اور ان کے اَموال برباد ہو جاتے ہیں۔
٭… اَہْلِ آخِرَت کو اُخروی رِزْق سے محروم کر کے سزا دی جاتی ہے یعنی انہیں نیک اَعمال کی توفیق میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور عُلومِ صادِقہ کا حُصول ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ(۱۲)(پ ۲۴، حم السجدۃ: ۱۲)یعنی یہ اس عزّت والے علم والے کا ٹھیرایا ہوا ہے۔
٭… حضرت سَیِّدُناابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں:اِحْتِلام بھی ایک سزا ہے۔
٭… مزید فرماتے ہیں: کسی شخص کی با جَماعَت نماز فوت ہو جانے کا سَبَب اس شخص کے کسی گناہ کا مُرْتکِب ہونا ہے۔
٭… سزاؤں کا دقیق ہونا لوگوں کے رَفْعِ دَرَجات کے اعتبار سے ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ تم اپنے زمانے کی جس شے کو ناپسند کرتے ہو اس کا سَبَب تمہارے اَعمال کی تبدیلی ہے۔[1]
٭… ایک رِوایَت میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا:میرا بندہ جب میری عِبادَت کے بجائے اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کو ترجیح دیتا ہے تو میں اس کے ساتھ سب سے کم تر سُلوک یہ کرتا ہوں کہ اسے اپنی مُناجات کی لذّت سے محروم کر دیتا ہوں۔ یہ اَہْلِ مُعامَلات کی سزا ہے۔
٭… اگر گناہ کا اِرْتِکاب کرتے وَقْت گناہ گار کے چہرے پر دِل کی بَدَلتی کیفیات ظاہِر ہو جائیں تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جائے مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے حِلْم کی وجہ سے اسے اس سزا سے محفوظ رکھا اور اس کے گناہوں پر پردہ بھی ڈال دیا۔چنانچہ جب وہ گناہ بندے کے دل میں اپنی تاثیر کے ساتھ بَرَاجْمَان ہو گا تو اس سے بھی بڑی بڑی سزاؤں کا باعِث بنے گا۔ مثلاً گناہ گار شخص کی آنکھوں پر حِجاب ڈال دیا جائے گا، اس کا دل قَساوَتِ قلبی کے باعِث ذِکرِ خُداوندی سے محروم ہو جائے گا، نیکی اور بھلائی کے کام کرے گا نہ بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لے گا۔
منقول ہے کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر تاریکی چھا جاتی ہےجس سے دُھواں اٹھتا ہے اور اِیمان اس کا مُشاہَدہ کرتا ہے، یہ بندے کے دکھ کا وہ مَقام ہے جہاں اس کی بُرائی اسے مزید بُرا بنا دیتی ہے۔ وہ دُھواں بندے کے لیے عِلْم اور بیان کے حُصول سے حِجاب بن جاتا ہے جس طرح کہ بادَل سورج کے سامنے حِجاب بن جاتا ہے اور آپ اسے نہیں دیکھ پاتے۔ نیز یہ حِجاب دل پر ایک ایسے غِلاف کی مانند ہے جوبندے کو مخلوق سے (حُسْنِ سُلوک سے پیش آنے سے)روکتا ہے، لہٰذا جب بندہ توبہ کر لے اور اپنی اِصلاح کر لے تو یہ حِجاب خَتْم ہو جاتا ہے اور اِیمان ظاہِر ہو کر عِلْم کے حُصول کا حکم دیتا ہے جیسا کہ سورج بادَل کے حِجاب سے باہَر نکلتا ہے(تو ہر طرف روشنی ہی روشنی پھیل جاتی ہے)۔چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۱۴) (پ ۳۰، المطففین:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع