30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں اس پر تمہیں ملامَت کروں گا نہ اب جو تم مَعْذرَت پیش کر رہے ہو اس پر تمہاری تعریف کروں گا، یہ ایک آزمائش تھی جسے ہونا ہی تھا۔[1]
ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام ایک سفر پر تھے، ہَوا آپ کو آپ کے لشکروں سمیت اٹھائے چل رہی تھی کہ اچانک آپ نے زیبِ تن اپنی نئی قمیص کی طرف دیکھا جو آپ کو اچھی لگی تو ہوا نے آپ کو نیچے زمین پر اتار دیا،آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس سے فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے تو تجھے ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا۔وہ بولی: ہم (یعنی مظاہرِ کائنات) آپ کے مطیع اسی لیے ہیں کہ آپ اپنے رب کے مطیع ہیں۔
ایک عالِم فرماتے ہیں: جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتا ہے ہر شے اس سے ڈرتی ہے اور جو غَیْرُ اللہ سے ڈرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ہر شے سے ڈراتا ہے۔[2] اسی طرح جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اَطاعَت کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر شے کو اس کے لیے مُسَخَّر کر دیتا ہے اور جو اس کی نافرمانی کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ہر شے کے لیے مُسَخَّر کر دیتا ہے یا ہر شے کو اس پر مُسَلَّط کر دیتا ہے۔
اگر گناہوں پر اِصْرار کی صُورت میں اس کے سوا کوئی نُحوسَت طاری نہ ہو کہ بندے کو لاحِق ہونے والے مَصائب ہی اس کی سزا بن جائیں تو یہی اس کے لیے کافی ہے۔اگر وہ خوشحال ہو تو یہ بھی اس کی ایک سزا ہے کیونکہ وہ اِسْتِدراج سے محفوظ نہیں اور اگر وہ تنگدستی کا شِکار ہو تو یہ بھی اس کے لیے سزا ہے۔ چنانچہ،
گُناہ رِزْق سے مَحرومی کا سَبَب ہیں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نشان ہے:بندہ گناہ کے اِرْتِکاب کی وجہ سے رِزْق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔[3] ایك قول میں ہے کہ حرام رِزْق نیک اَعمال کی توفیق کی کمی کا سَبَب ہوتا ہے۔
حضرت سَیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میرے خیال کے مُطابِق بندہ گناہوں میں مبتلا ہو کر علم بھول جاتا ہے۔[4]
توبہ، علم اور عبادت پر استقامت
اگر توبہ، علم اور عِبَادَت پر اِسْتِقَامَت کی کوئی دیگر برکت نہ بھی ہو سوائے اس حالَت کے جو اس وَقْت بندے کو نصیب ہے تو یہی اس کے لیے بہتر ہے۔اگر خوشحال ہے تو یہ کرمِ خُداوندی ہے جس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس پر لُطف و اِحسان فرمایا ہے اور اگر تنگ دست ہو تو یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے آزمائش اور بندے کا اِنْتخاب ہے۔ وہ اس کی حَلاوَت و لذّت پاتا ہے کیونکہ وہ راہِ خدا میں ہے اور اسے یہ مصیبت اپنے رب کی اَطاعَت کرتے ہوئے پہنچی ہے۔
باہمی میل جول بھی گناہوں کا سَبَب ہے
اگر لوگوں کے باہم میل جول میں مَعْصِیَّت کے علاوہ دیگر کوئی نقصان اور نُحُوسَت نہ بھی پائی جائے تو یہی بَہُت ہے۔ یعنی دینی و دنیاوی اُمُور میں پائی جانے والی زِیَادَتِیوں کے تعلّق کی وجہ سے لوگوں سے باہَمی میل جول کی یہ مَعْصِیَّت بَہُت بڑی ہے۔ چنانچہ جس شخص کے جاننے والے جس قدر کم ہوں گے اس کے گناہ بھی اسی قدر کم ہوں گے۔
ایک بزرگ فرماتے ہیں: لعنت چہرے کے کالا ہو جانے اور مال کے کم ہو جانے کا نام نہیں بلکہ لعنت تو یہ ہے کہ بندہ ایک گناہ سے نکل کر اسی جیسے یا اس سے بھی بدتر گناہ میں مبتلا ہو جائے۔ ایسا اس لیے ہے کہ لعنت (بارگاہِ خداوندی سے)دھتکارے جانے اور دور کر دیئے جانے کی عَلامَت ہے۔لہٰذا جب کسی بندے کو عِبَادَت سے محروم کر دیا جائے تو پھر اسے عِبَادَت کا موقع نہیں دیا جاتا اور اسی طرح جب وہ قربتوں سے دور کر دیا
جائےتو بعد میں اسے نیکیوں کی توفیق نہیں ملتی ۔ یہی اس کے ملعون ہونے کی علامَت ہے۔
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) ابھی ہم نے یہ رِوایَت ذکر کی ہے کہ ” بندہ گناہ کے اِرْتِکاب کی وجہ سے رِزْق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔“ [5]
(اس حدیثِ پاک سے کیا مُراد ہے اس کے مُتَعَلِّق درج ذیل چند اَقوال مروی ہیں:)
٭… بندہ حلال رِزْق کمانے سے محروم ہو جاتا ہے اور اسے گناہوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حلال رِزْق کمانے کی توفیق نہیں دی جاتی۔
٭… ایسا شخص عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کی مَحافِل سے محروم ہو جاتا ہے اور نیک لوگوں کی صحبت کے باوُجُود اسے دل کی کشادگی نصیب نہیں ہوتی۔
٭… صالحین اور اہلِ عِلْم ناراض ہو کر اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
٭… بندہ جَہَالَت پر قائم رہنے کی وجہ سے اس علم سے محروم ہو جاتا ہے جس کے بغیر عَمَل کی دُرُستی ممکن نہیں ہوتی۔
٭… شہوات پر عَمَل پیرا ہونے کی وجہ سے اس پر شبہات واضِح نہیں ہوتے بلکہ اس پر اُمُور مُلْتَبِس ہو جاتے ہیں اور وہ انہی میں سرگرداں رہتا ہے۔
[1]………مستدرك ، کتاب التفسیر ، تفسیر سورة ص ، ۳/ ۲۱۸ ، حدیث: ۳۶۷۵ ، مختصراً
[2]………حلیة الاولیاء ، محمد بن علی الباقر ، ۳/ ۲۲۳ ، حدیث: ۳۷۷۹
[3]………ابن ماجه ، کتاب الفتن ، باب العقوبات ، ۴/ ۳۶۹ ، حدیث: ۴۰۲۲
[4]………دارمی ، المقدمة ، باب التوبيخ لمن يطلب العلم لغير الله ، ۱/ ۱۱۷ ، حدیث: ۳۷۶
[5]………ابن ماجه ، کتاب الفتن ، باب العقوبات ، ۴/ ۳۶۹ ، حدیث: ۴۰۲۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع