30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
كسی کا قول ہے کہ گناه مَت كر، اگر گناه كرنا ہی ہو تو دوسروں کو اس پر آمادہ نہ کر،ورنہ دو۲گناہوں کا مُرْتکِب ہو گا کہ ایسا کرنا مُنافقین کی صِفَت ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ(پ ۱۰، التوبة: ۶۷)
ترجمۂ کنز الایمان:مُنافِق مرد اور مُنافِق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے (ایک جیسے) ہیں، بُرائی کا حکم دیں اور بھلائی سے منع کریں۔
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں ) جس نے اپنے بھائی کو اپنے ساتھ کسی گناہ میں شریک ہونے پر آمادہ کیا گویا اس نے بُرائی کا حکم دیا اور بھلائی سے منع کیا۔
ایک بزرگ کا فرمان ہے کہ کسی شخص نے اپنے بھائی کی اس سے بڑھ کر بے حرمتی نہیں کی کہ وہ اس کی (کسی مُعامَلے میں)ایسی مَدَد کرے جس سے اس کےلیے گناہ پر عَمَل کرنا آسان ہو جائے۔
بعض اَوقات ایک شخص 40 سال زندہ رہ کر مر جاتا ہے مگر اس کا گناہ اس کے مرنے کے بعد بھی 100 سال تک زندہ رہتا ہے اور اسے اس کی قبر میں اس گناہ کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے یعنی جب وہ کوئی ایسا بُرا کام ایجاد کرے جس پر اس کے بعد بھی عَمَل ہوتا رہے یہاں تک کہ وہ عَمَل خَتْم ہو جائے یا اس پر عَمَل کرنے والے مر جائیں۔تبھی جا کر اسے اس گناہ کی سزا سے نجات ملتی ہے اور وہ راحت پاتا ہے۔
٭… ایک قول کے مُطابِق سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص ان مُتَقَدِّمِین پر ظُلْم کا باعِث بنے جنہیں جانتا پہچانتا ہو نہ اس نے انہیں دیکھا ہو۔ یعنی یہ سَلَف صالحین و اَئمّۂ متقین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین پر کلام (یعنی اِعْتِرَاضات) کرے۔
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)مذکورہ تمام باتیں ایک گناہ کے ضِمن میں پائی جاتی ہیں جبکہ یہ باتیں اس گناہ سے (جُرم کے اعتبار سے زیادہ)بڑی ہیں۔ چنانچہ،
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْۣؕ-(پ ۲۲، یٰس:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے۔
منقول ہے کہ یہاں آثار سے مُراد لوگوں کے وہ کام ہیں جن پر ان کے بعد بھی عَمَل کیا جاتا رہا۔ چنانچہ مَروی ہے کہ جس نے کوئی ایسا بُرا طریقہ ایجاد کیا جس پر اس کے مرنے کے بعد بھی عَمَل ہوتا رہا تو اس اِیجاد کرنے والے پر اپنا اور ان عَمَل کرنے والوں کا گناہ بھی ہو گا اور ان عَمَل کرنے والوں کے گُناہ میں کوئی کمی نہ ہو گی۔[1]
بدعت پھیلانا،پھر رُجوع کرنا کیسا؟
حضرت سَیِّدُناابن عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: عالِم کے لیے اس کے ماننے والوں کی جانِب سے ہلاکت ہے، وہ غَلَطی کرتا ہے، پھر رُجُوع کر لیتا ہے مگر لوگ اس کی غَلَطی کو قُبول کر کے پوری دنیا میں پھیلا دیتے ہیں۔ اسی طرح کسی اَدِیب کا قول ہے کہ عالِم کی لَغْزِش ایسے ہی ہے جیسے کوئی کشتی ٹوٹ کر غَرْق ہو جائے اور اس کے ساتھ اس میں سُوار لوگ بھی ڈوب جائیں۔
ایک اسرائیلی رِوایَت میں ہے کہ ایک عالِم لوگوں کو بِدْعَتوں سے گمراہ کیا کرتا تھا، بعد میں اس نے توبہ کر لی اور بارگاہِ خُداوندی میں اپنی بِدْعَتوں سے رُجُوع کر کے ایک زمانے تک اپنے اَعمال کی اِصلاح کرتا رہا مگر اس کے باوُجُود اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس وَقْت کے نبی کو وحی فرمائی کہ اس سے فرما دیں:اگر تیرا گناہ میرے اور تیرے درمیان ہوتا تو میں تیرے وہ تمام گناہ مُعاف فرما دیتاجو تو نے آج تک کئے ہیں مگر میرے ان بندوں کا کیا ہو گاجنہیں تو نے (اپنی ایجاد کردہ بِدْعَتوں سے) گمراہ کیا اور وه جہنّم کے حق دار بن گئے؟
گناہ کو اپنے لیے جائز و حلال سمجھنا یا دوسروں کے لیے اسے جائز و حَلال قرار دینا دونوں ایسی باتیں ہیں جن کا تعلّق مذکورہ باتوں سے نہیں (یعنی ایک گناہ کے ضِمن میں اس سے عظیم گناہ نہیں) بلکہ ایسا کرنا تو بندے کے اِسلام سے خُروج کا سَبَب اور شَریعَت میں تبدیلی کے مُتَرَادِف ہے اور ایسا کرنا کُفر ہے۔ چنانچہ،
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مروی ہے کہ وہ شخص قرآنِ پاک پر اِیمان نہ لایا جس نے اس کی حَرام کردہ اشیا کو حلال جانا۔[2]
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بُرے اَعمال کو جَہالَت کا نام دیا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
(1) اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ(پ ۷، الانعام: ۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:تم میں جو کوئی نادانی سے کچھ بُرائی کر بیٹھے۔
(2) بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ(۵۵)(پ ۱۹، النمل:۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:بلکہ تم جاہِل لوگ ہو۔
(3) بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(۸۱)(پ ۸، الاعراف: ۸۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔
عرش کا تین۳اعمال کی وجہ سے کانپنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع