30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مذہب حضرت سَیِّدُناجنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی کا ہے اور (صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) میرا بھی یہی مذہب ہے، یہ اَلفاظ میرے ہیں مگر مَفہوم حضرت سَیِّدُناجنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی کے کلام کا ہے۔
ترکِ گناہ کے بعد دل میں حلاوَت پاناکیسا؟
حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے ایک ایسے شخص کے مُتَعَلّق سُوال کیا گیا جو ایک شے سے توبہ کرتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے مگر جب اس کے دل میں اس شے کا خیال پیدا ہوتا ہے یا وہ اسے دیکھتا ہے یا اس کے مُتَعَلّق باتیں سنتا ہے تو اس کے دل میں حلاوَت پیدا ہو جاتی ہے(ایسے شخص کے مُتَعَلِّق کیا حکم ہے؟) تو آپ نے اِرشَاد فرمایا:حلاوَت و لذّت کا پایا جانا بَشری طبیعت کا تقاضا ہے اور طبعی تقاضوں کا پایا جانا لازِم ہے جن سے چھٹکارے کی کوئی صُورَت نہیں۔البتہ! (اس صورتِ حال سے چھٹکارے کی صُورَت یہ ہو سکتی ہے کہ) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے دل کی (حالت کے مُتَعَلّق)فریاد کرے اور دل کی اس کیفیت و حالَت کو بُرا جانے، اپنے نفس کو اس گناہ سے بچاتا رہے اور غفلت نہ برتے، نیز بارگاہِ خداوندی میں یہ دعا کرتا رہے کہ وہ اس گناہ کی یاد سے اسے چھٹکارا دلائے اور اسے اپنے ذکر اور دیگر عِبادات میں مشغولیت کی توفیق عطا فرمائے۔
مزید فرماتے ہیں:اگر وہ گناہ کی جانِب مائل ہونے سے لمحہ بھر بھی غافِل ہوا تو مجھے خدشہ ہے کہ یہ اس گناہ سے محفوظ نہ رہ سکے گا اور اس کے دل میں گناہ کی حلاوَت اپنا کام کر جائے گی۔ ہاں اگر اس حَلاوَت کے ساتھ دل میں گناہوں سے نفرت اور حُزن و ملال بھی پایا جائے تو پھر اسے کوئی شے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) میرے نزدیک بھی اس شخص کا حکم یہی ہے کیونکہ شہوت (یعنی نفسانی خواہش)کی مَوجُودَگی میں توبہ دُرُسْت نہیں بلکہ بندے سے مُجاہَدہ طَلَب کیا جاتا ہے۔ یہ عام مریدین کا حال ہے جبکہ دل کا ہمیشہ مرتبۂ وِلایَت پر فائز رہتے ہوئے نفسانی خواہشات کو مِٹا دینا عارِفین کا وَصْف ہے۔
ایک گناہ کے ضمن میں بہت سے گناہ
بسا اوقات ایک گناہ کے ضمن میں بہت سے گناہ پائے جاتے ہیں جو اس سے بھی بڑے ہوتے ہیں مثلاً
٭… اس گناہ پر اِصرار کرنا۔ ٭… گناہ پر خوش ہونا۔
٭… گناہ کے بعد توبہ میں ٹال مٹول سے کام لینا۔
٭… اس جیسا کوئی گناہ کرنے پر کامیاب ہونے کی حَلاوَت پانا۔
٭… گناہ نہ کر پانے پر غم اور ناپسندیدگی کا پایا جانا۔
٭… گناہ پر عَمَل سے خوشی محسوس کرنا۔
٭… اگر وہ گناہ دو۲اَفراد سے سر انجام پاتا ہو تو دوسرے کو اس گناہ پر اُبھارنا۔
٭… اس گناہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عطا کردہ مال کو خرچ کرنا کہ ایسا کرنا کُفْرَانِ نعمت ہے۔چنانچہ منقول ہے کہ جس نے حرام کام میں ایک درہم خرچ کیا اس نے اِسْراف کیا۔
٭… گناہ کو چھوٹا اور حقیر سمجھنا بھی گناہ کا اِرْتِکاب کرنے سے بڑا جُرم ہے۔
٭… اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جو اس کے گناہوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے اس کی پروا نہ کرنا
٭… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حِلْم کو معمولی جاننا بھی گناہ کے اِرْتِکاب سے بڑا جُرم ہے کہ ایسا کرنا دھوکا و فریب میں مبتلا ہونا اور (اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے)بے خوف ہونا ہے۔
٭… اس بات کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت نہ سمجھنا (بھی بَہُت بڑا جُرْم ہے)کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے عیبوں پر پردہ ڈال کر اس کی نیکیاں ظاہِر فرما دیں۔ جیسا کہ ایک دُعائے ماثورہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد اس طرح بیان کی گئی ہے: يَا مَنْ اَظْهَرَ الْـجَمِيْلَ وَسَتَـرَ عَلَىَّ الْـقَبِيْحَ وَلَمْ يُؤَاخِذْ بِالْـجَرِيْرَةِ وَلَمْ يَهْتِكِ السِّتْـرَ۔یعنی اے وہ ذات جس نے (میری) نیکیوں کو ظاہِر فرمایا اور میرے عیبوں پرپردہ ڈالے رکھا، میرے گناہوں پر فوری مُوَاخَذہ فرمایا نہ ان گناہوں کا پردہ چاک فرمایا۔[1] منقول ہے:ہر گناہ گار رحمٰن عَزَّ وَجَلَّکی حِفاظَت میں ہے، جب وہ اپنا دَسْتِ رحمت اس سے ہٹاتا ہے تو اس کے عُیوب کا پردہ چاک ہو جاتا ہے۔
٭… اِعلانیہ گناہ کرنا، گناہ کا موقع ملتے ہی (بلاجھجھک) اسے کر گزرنا اور اجتماعی شکل میں گناہ کرنا بھی بَہُت بڑے جُرم ہیں کہ یہ سرکشی کے کام ہیں۔ ایک حدیثِ پاک میں ہے:اِعلانیہ گناہ کرنے والوں کے سوا باقی تمام (گناہ گار) لوگ قابلِ مُعافی ہیں،ایک شخص رات کے وَقْت اس حال میں گناہ کرتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا ہوتا ہے مگر صبح ہوتی ہے تو وہ شخص خود ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے
پردے کو فاش کر دیتا ہے اور اپنا گناہ بیان کر دیتا ہے۔[2]
٭… بسا اوقات ایک گناہ گار شخص کوئی ایسا گناہوں بھرا کام ایجاد کرتا ہے جس پر دوسرے لوگ بھی عَمَل کرنے لگتے ہیں، اس طرح جب تک اس گناہ پر عَمَل ہوتا رہے گا اس اِیجاد کرنے والے کے نامۂ اَعمال میں بھی بُرائیوں کا اِضافہ ہوتا رہے گا۔ چنانچہ،
منقول ہے کہ خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جو اس جہانِ فانی سے گیا تو اس کے ساتھ ہی اس کے گناہ بھی خَتْم ہو گئے اور اس کے بعد اس سے کبھی مُواخَذہ نہ ہو گا۔ نیز اس شخص کے لیے بھی خوش خبری ہے جس کے نامۂ اَعمال میں دوسروں کے گناہ شُمار نہ کیے جائیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع