30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحابی ایک ایسی حدیث رِوایَت کرتے ہیں جو خود آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے سرکارِ دو۲ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نہیں سنی۔
یہ بھی بِدْعَت ہے کہ بندہ کسی ایسے خاص مسئلہ میں اپنے مسلمان بھائی کی حالت کے بارے میں خوب چھان بین کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔ چنانچہ،
کسی کی نجی زندگی میں مداخلت ناجائز ہے
حضرت سَیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے شادی کی اور جب زوجہ کے پاس رات گزارنے کے بعد دن کو باہَر نکلے تو ایک شخص نے آپ سے عَرْض کی:اے ابو عبد اللہ! آپ کیسے ہیں؟ تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشَاد فرمایا:اچھا ہوں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتا ہوں۔تو وہ بولا:آپ کیسے ہیں اور رات کیسی گزری؟[1] ایک رِوایَت میں یہ اَلفاظ ہیں:آپ نے اپنی زوجہ کو کیسا پایا؟یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے غصے سے فرمایا:تم ایسا سوال کیوں پوچھتے ہو جس کا جواب چھپانا پڑے، تمہیں گھر سے باہَر کی باتیں پوچھنی چاہئیں اور صرف ظاہِری اُمُور کے مُتَعَلّق پوچھنا ہی کافی ہے۔
حضرت سلیمان بن مِہران اَعمش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے ایک شخص نے ان کے گھر میں پوچھا:اے ابو محمد! آپ کیسے ہیں؟آپ نے جواب دیا کہ خیریت سے ہوں۔ پھر کہنے لگا کہ آپ کا حال کیسا ہے؟ فرمایا: عافیت میں ہوں۔ جب اس نے یہ پوچھا کہ آپ نے رات کیسے گزاری؟ تو آپ (کو یہ سوال بڑا ناگوار گزرا مگر آپ نے اسے کچھ نہ کہا بلکہ اسے سمجھانے کے لیے کہ ایسے سُوال نہیں کیے جاتے آپ)نے بُلند آواز سے اپنی کنیز کو پکارا کہ بستر اور تکیہ لے کر آؤ۔ جب وہ یہ چیزیں لے آئی تو فرمایا:اسے بچھا کر لیٹ جاؤ یہاں تک کہ میں بھی تیرے پہلو میں لیٹ جاؤں تا کہ ہم اپنے بھائی کو دِکھا سکیں کہ میں نے رات کیسے گزاری ہے۔
آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے کہ (آج کل)ایک شخص اپنے دوست سے ملتا ہے تو اس سے ہر شے کے مُتَعَلّق پوچھ ڈالتا ہے یہاں تک کہ گھر میں مَوجُود مرغی تک کی خیریت معلوم کر لیتا ہے لیکن اگر اس کا دوست اس سے ایک درہم مانگ لے تو وہ نہیں دیتا۔ جبکہ سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین جب اپنے مسلمان بھائی سے ملتے تو صِرف یہ کہتے کہ آپ کیسے ہیں؟یا فرماتے کہ ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو سلامت رکھے“اور اگر ان کا بھائی ان سے کچھ مال کا سوال کرتا تو فوراً عطا فرما دیتے۔
بندے کا اپنے بھائی سے راستے میں جاتے ہوئے یہ پوچھنا کہ کہاں جا رہے ہو؟ یا کہاں سے آ رہے ہو؟ بھی بِدْعَت ہے۔ سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین اس طریقہ کو ناپسند کرتے اور یہ طریقہ نہ صِرف خِلافِ سنّت اور خِلافِ اَدَب ہے بلکہ تَـجَسُّسْاور تَـحَسُّسْمیں شُمار ہوتا ہے، کیونکہ تَـحَسُّسْسے مُراد ہے جگہ کا سراغ لگانا اور تَـجَسُّسْکا مطلب ہے خبریں معلوم کرنا۔ یہ سوال چونکہ دونوں چیزوں کے مُتَعَلّق ہوتا ہے اور بعض اوقات بندہ پسند نہیں کرتا کہ اس کا بھائی یہ جانے کہ وہ کہاں جا رہا ہے یا کہاں سے آ رہا ہے۔
دوسروں کو جھوٹ بولنے پر مجبور مت کرو
حضرت سَیِّدُنامجاہد و عطا رَحْمَۃُ اللہ تعالٰی علیہما اس بات کو اچھا نہ سمجھتے بلکہ فرماتے کہ جب اپنے بھائی سے راستے میں ملو تو یہ پوچھو کہ کہاں سے آیا ہے؟ نہ یہ پوچھو کہ کہاں جا رہا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ سچ بولے تو تمہیں اچھا نہ لگے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ بول دے۔ تو اس کے جھوٹ بولنے کا سَبَب تم بنو گے۔[2]
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین قرآنِ کریم کی خرید و فروخت کو بھی ناپسند جانتے اور بعض بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین بیچنے کو خریدنے سے زیادہ ناپسند کرتے۔
آج کل لوگ ایسے بَہُت سے عُلوم حاصِل کرنے لگے ہیں جو سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے زمانہ میں نہ تھے۔ مثلاً عِلْمِ کلام؛ عِلْمِ جَدَل؛ قِیاس؛ نَظر و فِکر، رائے اور عَقْلی دلائل کے ساتھ سُنَنِ رسول پر اِسْتِدْلال؛
قرآن و سنّت کے ظاہِر پر قیاس، رائے اور عَقْلی عُلُوم کو ترجیح دینا(یہ سب عُلوم بِدْعَت ہیں)۔
نیز حالَتِ وَجْد کے ذریعے حاصِل ہونے والے اِشاروں کا اِظْہَار کرنا کہ ان کے عُلُوم جانتا ہو نہ ان کی تفاصیل سے آگاہ ہواور ایسا کرنے سے مقصود سامعین کو حیرت میں مبتلا کرنا اور عامِلین کو گمراہ کرنا ہو(تو یہ بھی بِدْعَت ہے)۔ کیونکہ وِجدانی کیفیات سے آگاہ عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام وِجدانی کیفیت کا اِظْہَار تو کرتے مگر وَجْد سے حاصِل ہونے والے اِشاروں کو چھپاتے۔ نیز لوگوں کو انکے نفع کی باتیں تو بتاتے مگر نقصان دہ باتیں چھپا لیتے۔ اس لیے کہ وِجدانی کیفیات لوگوں کے دلوں کے اَحْوَال ہیں جن کا چھپانا افضل ہے۔ یہ عُلوم انہی سالِکین و عامِلین کا حصّہ ہیں جو ان عُلوم کا اِظْہَار مقصود ہوتا تو مقصود ظاہِر کرتے مگر وِجدان کو پوشیدہ رکھتے کیونکہ یہی ان کا سِرّ (یعنی راز) ہے جس کی وجہ سے وہ تصنّع، بناوٹ اور دعویٰ سے محفوظ رہے۔ انہوں نے سامِعِین کو ان کا حصّہ عطا کیا اور جس شے کا ان سے تعلّق نہ تھا اس سے اُنہیں دُور رکھا۔ انہوں نے دونوں مُعامَلوں میں عَدْل سے کام لیا اور دونوں حالتوں میں اَفضل رہے۔ مگر اس (جاہِل صُوفی) نے اس بات کو نہ جانا اور (مقصود کے بجائے) وِجدان کو ظاہِر کر دیا جو نقصان کے زیادہ قریب اور سلامتی سے دُور ہے۔
(صاحبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) جو تفصیل جانتا ہو نہ تفسیر، اس کے لیے خاموش رہنا زیادہ بہتر ہے۔ اگر کوئی سنّت کے مُطابِق کلام نہ کر سکتا ہو تو اس کی خاموشی اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بَہُت قریب کر دے گی۔ چنانچہ،
ایسے ہی ایک شخص کے مُتَعَلّقاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع