30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک حدیثِ قدسی میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے ایک ولی کی جانِب وحی فرمائی:ہِدَایَت کی کمی کی جانِب مت دیکھ بلکہ یہ دیکھ کہ ہِدَایَت دینے والا کتنا بڑا ہے۔اسی طرح گناہ کے چھوٹا ہونے کی جانِب مت دیکھ بلکہ اس ذات کی کِبْرِیائی کی جانِب دیکھ جس کے سامنے تو یہ گناہ کر رہا ہے۔
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) یقیناً گناہ جس ہستی کے سامنے کیے جائیں اس کی تعظیم کی بنا پر بڑے ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ذاتِ کبریا کا مُشاہَدہ کرنے اور اس کے حکم کی مُخالَفَت کرنے کی وجہ سے دل میں جب گناہوں کو بڑا سمجھا جانے لگتا ہے تو اس وَقْت کوئی گناہ چھوٹا نہیں رہتا۔بلکہ خائفین تو صغیرہ گناہوں کو بھی کبیرہ ہی شُمار کرتے ہیں۔
یہ مفہوم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ان فرامین سے ثابِت ہے:
(1) ذٰلِكَۗ-وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ- (پ ۱۷، الحج:۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان:بات یہ ہے اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اسکے لیے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے۔
(2) ذٰلِكَۗ-وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(۳۲) (پ ۱۷، الحج:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان:بات یہ ہے اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔
منقول ہے کہ ان آیاتِ مُبارَکہ کا مطلب یہ ہے کہ بندہ دل میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام ٹھہرائی گئی اشیا کو عظیم جانے اور ان کی بے حرمتی نہ کرے۔
کیا آج کبیرہ گناہ صغیرہ ہو گئے ہیں؟
صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام سے فرماتے:تم بعض ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے بھی باریک ہیں جبکہ ہم عَہْدِ نبوی میں انہیں ہلاکت خیز شُمار کرتے تھے۔
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی مُراد یہ نہ تھی کہ جو گناہ عہد نبوی میں کبیرہ تھے اب وہ صغیرہ ہو گئے ہیں بلکہ وہ نُورِ ایمان کی عَظَمَت کی وجہ سے اپنے دلوں میں جاگزین عَظَمَتِ باری تعالیٰ کے باعِث صغیرہ گناہوں کو بھی کبیرہ سمجھتے تھے۔ مگر افسوس! ان کے بعد لوگوں کے دلوں کی یہ حالَت و کیفیت نہ رہی۔
بعض گناہوں کی وجہ سے قوموں کی ہلاکت
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے کسی ولی کو اِلْہَام فرمایا:میں نے تمہارے کتنے ہی گناہ دیکھے (مگر تمہاری گِرِفْت نہ فرمائی) جبکہ میں نے اس سے کم درجے کے گناہوں کے باعِث کئی قوموں کو ہلاک کر دیا۔
حضرت سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ دو۲جہاں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک اُمَّت کو اس لیے ہلاک فرما دیا کہ وہ اپنی شرم گاہوں سے کھیلا کرتے تھے۔[1]
گناہوں کو بھلا دینے اور انہیں یاد رکھنے میں عارفین کا اختلاف
گناہوں کو بھلا دینے اور انہیں یاد رکھنے کے مُتَعَلّق عارفین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے مختلف اَقوال مروی ہیں۔ چنانچہ بعض عارِفین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین فرماتے ہیں:توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ تم اپنے گناہوں کو اپنی نِگاہوں کےسامنے رکھو۔بعض فرماتے ہیں: توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ تم اپنے گناہوں کو بھول جاؤ۔
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی مذکورہ اِخْتِلاف میں تطبیق دیتے ہوئے اِرشَاد فرماتے ہیں)
یہ دو۲الگ الگ گروہوں کا طریقہ اور دو۲مختلف مَقامات پر فائز لوگوں کے حال ہیں۔ چنانچہ گناہوں کو یاد رکھنا مریدین کا طریقہ اور خائفین کا حال ہے،یہ لوگ گناہوں کو یاد کر کے ہمیشہ غم میں مبتلا رہتے ہیں اور ہر دَم ان پر خَوفِ اِلٰہی کا غَلَبہ رہتا ہے۔ ذِکر، اَذْکار اور آئندہ نیک اَعمال میں مشغولیَّت کی بِنا پر گناہوں کو بھول جانا عارِفین کا طریقہ اور محبین کا حال ہے۔ ان لوگوں کا طریق مُشاہدۂ توحید اور مَقام تَعَرُّف ہے۔جبکہ پہلے گروہ کا طریق مُشاہدۂ توقیف و تحدید اور مَقام تعریف ہے۔
بندہ جس مَقام[2] پر بھی فائز ہو وہ اپنے طریق کا مُشاہَدہ کرتا ہے اور اپنے حال کے حکم پر عَمَل کرتا ہے۔ مُشاہدۂ توحید کا مَقام عارِفین کے نزدیک مُشاہدۂ تعریف کے مَقام سے افضل ہے، اگرچہ مُشاہدۂ تعریف میں زیادہ وُسْعَت اور کَثْرَت ہے مگر یہ اَصحابِ یمین اور عام مُقرّبین کا مَقام ہے جبکہ اس کے مُقابَلے میں مُشاہدۂ توحید حد درجہ مشکل اور بَہُت کم ہے مگر اس کے اہل
[1]………العلل المتناهیة لابن الجوزی ، کتاب النکاح ، حدیث فی الاستمناء ، ۲/ ۶۳۳ ، حدیث: ۱۰۴۷ ، عن ابی سعید الخدری
[2]………حضرت سَیِّدُناامام ابو القاسم عبد الکریم بن ہَوازِن قشیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی (متوفی ۴۶۵ھ)فرماتے ہیں : صوفیوں کے نزدیک مَقام سے مُراد وہ آداب ہیں جن کے ذریعے بندہ کسی منزل کو حاصِل کرتا ہے ، یعنی کسی خاص عَمَل کے ذریعے وہ اس منزل تک رسائی پاتا ہے ، نیز یہ مَقام طَلَب و تکلّف کی زِیادَتی سے متحقق ہوتا ہے۔ پس ہر شخص کا مَقام وہ ہے جہاں بندہ اس وقت اپنے عَمَل کے ذریعے موجود ہے اور اس وقت جس مَشقّت ورِیاضَت میں مشغول ہے۔ اس کی شرط یہ ہے کہ بندہ ایک مَقام سے دوسرے مَقام کی طرف نہ جائے جب تک کہ اس مَقام کے اَحْکام پورے نہیں کر لیتا۔ کیونکہ جو شخص قناعت کا پیکر نہیں ہوتا اس سے تَوَکُّل کی اُمِّید دُرُسْت نہیں اور جس کے پاس تَوَکُّل نہیں اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہر حکم تسلیم کر لے گا۔ مزید اِرشَاد فرماتے ہیں : ایک قوم کے نزدیک حال سے مُراد وہ خاص کیفیت ہے جو دل پر وارِد ہوتی ہے اور اس میں ان کی کسی قسم کی کوئی کوشش کارفرما نہیں ہوتی مثلاً طُرب (خوشی) ، حُزن (غم) ، بَسْط ، قبض ، شوق ، ہیبت اور احتیاج۔ اَحْوَال وہبی اور مَقامات کسبی ہوتے ہیں ۔اَحْوَال بندے کو اللہعَزَّ وَجَلَّکی خاص عنایت سے نصیب ہوتے ہیں جبکہ مَقام بندہ مُجاہَدے و ریاضت سے حاصِل کرتا ہے۔ (الرسالة القشیریة ، ص ۹۱ ، ۹۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع