30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معلوم ہوا بندے کی عمر اس کے پاس اَمانَت ہے، اگر اُس نے اِس کی حِفاظَت کی تو اُس نے اَمانَت کا حَق ادا کیا اور ضائع کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے خِیانَت کا مُرْتکِب ہوا اور جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے خِیانَت کا مُرْتکِب ہوتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے کبھی پسند نہیں فرماتا۔چنانچہ حضرت سَیِّدُناابن عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَروی ہے کہ جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرائض کو ضائع کیا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اَمانَت سے نکل گیا۔
بندہ جب سچی توبہ کر لے تو اس کے گناہوں کو نہ صِرف مِٹا دیا جاتا ہے بلکہ وہ دُخُولِ جنّت کا بھی حق دار ٹھہرتا ہے۔چنانچہ ایک بزرگ فرماتے ہیں:میں نے جان لیا تھا کہ میرے پروردگار عَزَّ وَجَلَّنے کب میری مَغْفِرَت فرمائی؟عرض کی گئی:کب؟فرمایا:جب میری توبہ قبول ہوئی۔
ایک اور بزرگ فرماتے ہیں: میں مَغْفِرَت سے محروم کر دیا جاؤں اس سے زیادہ خوف مجھے اس بات کا ہے کہ میں توبہ سے محروم کر دیا جاؤں۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے زیادہ کس کی بات سچی؟
فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْۚ-(پ ۲، البقرة:۱۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اورتمہیں مُعاف فرمایا۔
ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْاعَنِ السَّیِّاٰتِ (پ ۲۵، الشورٰی:۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول
فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے۔
٭… کسی اہلِ عِلْم کا فرمان ہے کہ بندے کی توبہ اس وَقْت ہی صحیح ہوتی ہے جب وہ اپنی نفسانی خواہشات کو یکسر بھول جائے، ہر لمحہ حُزن و مَلال کی تصویر بنا رہے،دِل سے کبھی غافِل نہ ہو بلکہ گُناہ سے اس طرح دور ہو جائے کہ کبھی اس کا خیال بھی دِل میں نہ آنے دے۔
٭… ایک شامی عالِم فرماتے ہیں:بندہ اس وَقْت ہی توبہ کرنے والا شُمار ہوتا ہے جب 20 سال تک اس کے بائیں کندھے والا فرشتہ اس کے نامۂ اَعمال میں کوئی گناہ نہ لکھے۔
٭… ایک بزرگ فرماتے ہیں: توبہ کرنے والے کے اپنی توبہ میں سچا ہونے کی عَلامَت یہ ہے کہ وہ نفسانی خواہش کی حَلاوَت کو طَاعَت کی حَلاوَت سے اور گُناہوں کے اِرْتِکاب کی لذّت کو ان پر ہر دم غم زدہ رہنے سے بدل دے،نیز حُسْنِ تَوبہ پر فَرْحَت و سُرور محسوس کرے۔
٭… اسی طرح کا ایک فرمان ایک اور بزرگ سے کچھ یوں منقول ہے کہ بندہ توبہ کرنے والا اس وَقْت شُمار ہوتا ہے جب وہ نفس کی مُخالَفَت کی کڑواہٹ کو اس کی مُوافقت کی حَلاوَت سے بدل دے۔
حَلاوَتِ گناہ کی موجودگی میں بخشش نہیں ہوتی
ایک اسرائیلی رِوایَت میں ہے کہ کسی نبی نے ایک ایسے شخص کے مُتَعَلّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے (مَغْفِرَت کا) سوال کیا جس نے سالہا سال تک عِبادَت کی مگر اس کے بَاوُجُود اس پر توبہ کی قُبُولِیَّت کے آثار نظر نہ آئے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا:میری عزّت و جَلال کی قَسم!اگر تمام زمین و آسمان والے مِل کر اس کی سِفَارِش کریں تو بھی میں اس کی توبہ قُبول نہ کروں گا جب تک کہ اس کے دل میں اُس گُناہ کی حَلاوَت موجود ہے جس سے اس نے (سالوں پہلے)توبہ کی تھی۔
گناہوں میں مبتلا ہونے کا خدشہ اور اس سے بچنے کا طریقہ
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) جس کے دِل میں مَعْصِیَّت کی
حَلاوَت مَوجُود رہے یا اس گُناہ کے مُتَعَلّق سوچتے ہوئے اس کی توجّہ اس گناہ کی لذّت کی جانِب چلی جائے تو خَدشہ ہے کہ ایسا شخص اس گناہ میں دوبارہ مبتلا ہو جائے۔ البتہ! سخت مُجاہَدے، اس گناہ سے نفرت اور جب بھی اس کا خیال آئے تو خوفِ الٰہی کے سَبَب فوراً جھٹک دینے سے اس گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونے کا خدشہ باقی نہیں رہتا۔
حضرت سَیِّدُناابو محمد سَہل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:ہرشخص کو مرید ہوتے وَقْت سب سے پہلے توبہ کا حکم دیا جاتا ہے۔
توبہ یہ ہے کہ بندہ اپنے بُرے کاموں کو اچھّے کاموں سے بدل دے اور ہر لمحہ خَلْوَت و خاموشی کو لازِم پکڑے رہے۔
توبہ کے صحیح ہونے کے لیے درج ذیل چند باتیں شَرْط کی حَیْثِیَّت رکھتی ہیں:
٭۔۔۔۔۔ اَکْلِ حَلال اَوّلین شَرط ہے اور بندہ حَلال رِزْق پر اس وَقْت ہی قادِر ہو سکتا ہے جب وہ حُقُوقُ اللہ و حُقُوقُ الْعِبَاد کی بجاآوری میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔
٭۔۔۔۔۔ اپنی ہر قسم کی حرکت اور سُکون کو رِضائے خُداوندی کے تابع بنا لے۔
٭۔۔۔۔۔ نیک اَعمال کے ذریعے اِسْتِدْراج سے محفوظ ہو جائے۔
توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ ہر بُرا کام چھوڑ دے یہاں تک کہ جس حالَت پر ہو اس میں دوبارہ کبھی مشغول ہو نہ کبھی ٹال مَٹول سے کام لے بلکہ فوراً اپنے نفس پر موجودہ حال پر قائم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع