30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ظہور ِآثارِ آخرت کے بعد توبہ قبول نہ ہو گی
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ وہ آثارِ آخِرَت کے ظُہُور کے بعد کسی کی توبہ قبول نہ فرمائے گا۔ جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:
یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ(پ۸، الانعام:۱۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے گی کسی جان کو اِیمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی۔
اس کے بعد اِرشَاد فرمایا:
اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًاؕ-(پ۸، الانعام:۱۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان:یا اپنے اِیمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی تھی۔
٭… آثارِ آخِرَت دیکھنے سے پہلے جو ایمان نہ لایا اسے اب ایمان لانا نفع نہ دے گا۔
٭… وہ جان (ایمان تو لے آئی مگر) ایمان کے مُعامَلے میں خیر و بھلائی کی کمائی نہ کی۔
٭… توبہ ہی ایمان کی کمائی اور خیر وبھلائی کی اصل ہے۔
ایمان کی زِیادَتی اور یقین کی علامَت
ایک قول میں ہے کہ اَعمالِ صالحہ ایمان کی زِیادَتی اور یقین کی علامَت ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان (ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ)[1] کی تفسیر میں ہے کہ وہ گناہ کا اِرَادہ کرتے ہیں تو حَد سے تجاوُز نہیں کرتے اور توبہ سے بھی زیادہ دیر تک دور نہیں رہتے۔ ان کی توبہ یہ ہے کہ گناہ کے فوراً بعد نیک عَمَل کرتے ہیں،پھر کوئی دوسرا گناہ نہیں کرتے، بُراکام چھوڑ کر اچھّا کام کرتے ہیں،پھر کوئی دوسرا بُرا کام نہیں کرتے۔ منقول ہے کہ بروزِ قِیامَت اس اُمّت سے وہ شخص سب سے پہلے دنیا میں واپس لوٹنے کا سُوال کرے گا جس نے اپنے مال کی زکاۃ ادا نہ کی ہو گی یا پھر وہ شخص جس نے بیت اللہ زَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً شریف کا حج نہ کیا ہو گا۔ یہ مَفہوم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کی تاویل ہے:
فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۰)(پ۲۸، المنافقون:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا۔
حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: اہلِ توحید پر اس آیتِ مُبارَکہ سے بڑھ کر سخت کوئی شے نہیں،اس لیے کہ اس آیتِ مُبارَکہ سے پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ-(پ۲۸، المنافقون:۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافِل نہ کرے۔
ایک قول کے مُطابِق بندے کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں ذرّہ برابر خیر ہو تو کوئی بندہ مرتے وَقْت دنیا میں مزید رہنے کا سوال نہ کرے۔ایک رِوایَت میں ہے کہ جس کو آخِرَت میں ذرّہ برابر خیر و بھلائی کی اُمّید ہو اگر اسے دنیا میں ابتدا سے لے کر انتہا تک تمام خزانے دیدیئے جائیں تب بھی وہ دنیا میں لوٹنا پسند نہ کرے گا۔
کسی عارِف کا قول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے ہر بندے کو دو۲سِرّ (یعنی راز کی باتیں) بتاتا ہے، یہ دونوں باتیں بندے کو بطریقۂ اِلْہام معلوم ہوتی ہیں۔
٭… پہلی راز کی بات اس وَقْت اِرشَاد فرماتا ہے جب بندہ پیدا ہوتا ہے اور اپنی ماں کے پیٹ سے باہَر آتا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے اِرشَاد فرماتا ہے: اے میرے بندے!میں نے دنیا میں تجھے پاک و صاف بنا کر بھیجا ہے اور تجھے عمر کی دولت عطا کی ہے، میں نے تجھے اس پر امین بنایا ہےتا کہ یہ دیکھوں کہ تو کیسے اس اَمانَت کی حِفاظَت کرتا ہے؟ نیز یہ بھی دیکھوں کہ کیا تو اسی حالَت میں مجھ سے ملے گا جس پر میں نے تجھے دنیا میں پیدا فرمایا ہے؟
٭… دوسری راز کی بات بندے کی روح نکلنے کے وَقْت کچھ یوں اِرشَاد فرماتا ہے:اے میرے بندے! تیرے پاس جو میری اَمانَت تھی تو نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ کیا تو مجھ سے ملنے تک اپنے وعدے پر قائم رہا اور میری اَمانَت کی حِفاظَت کرتا رہا کہ میں تجھے اس وَعدے و اَمانَت کی پاسداری کی جزا عطا کروں؟ یا تو نے اس اَمانَت کو ضائع کر دیا کہ تجھ سے حِساب طَلَب کروں اور تجھے سزا دوں؟
یہ دونوں باتیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ان فرامینِ مُبارَکہ سے ماخوذ ہیں:
(1) وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَﭪ(۳۲) (پ ۱۸، المومنون:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رِعَایَت کرتے ہیں۔
(2) وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْۚ-(پ ۱، البقرة:۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع