30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنز الایمان:اور کچھ اور ہیں جو اپنے گناہوں کے مُقِر (اِقراری)ہوئے اور ملا یا ایک کام اچھّا اور دوسرا بُرا۔
منقول ہے کہ یہاں گُناہوں کا اِعْتِرَاف اور ان پر نَدَامَت مُراد ہے۔
عَقْل مند کا زِنْدَگی بھر رونا
حضرت سَیِّدُناابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں: اگر عَقْل مند انسان باقی ساری زِنْدَگی اس لیے روتے ہوئے گزار دے کہ وہ گزَشْتَہ زِنْدَگی میں نیک اَعمال نہ کر سکا تو وہ اس بات کا سزاوار ہے کہ موت تک اس غم میں مبتلا رہے۔ لہٰذااس شخص کی حالَت کیسی ہو گی جس کی باقی زِنْدَگی بھی گزَشْتَہ زِنْدَگی کی طرح (غفلت میں) گزر جائے۔
کوئی شے تائب کا مرتبہ کم نہیں کر سکتی
حضرت سَیِّدُناسَہْل بن عبداللہ رَحِمَہُ اللہ فرماتے ہیں: کوئی شے تائِب کا مرتبہ کم نہیں کر سکتی، کیونکہ اس کا دِل عرشِ باری تعالیٰ کے ساتھ مُعَلَّق ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی رُوح قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کر جاتی ہے۔ اسے زندہ رہنے کے لیے صِرف بقدرِ ضَرورت غِذا چاہئے، وہ گزَشْتہ زِنْدَگی کی کوتاہیوں پر غَم زَدہ رہتا ہے اور مُسْتَقْبِل میں اَوَامِر کے بجا لانے اور نَوَاہی سے بچنے کی کوشِش کرتا ہے۔ یہ سب کچھ اسی صُورَت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ ہر مُعامَلے میں عِلْمِ یقین پر عَمَل کرے۔ پھر نیک اَعمال کی اس طرح پیروی کرے کہ اس کا شُمار ان لوگوں میں ہونے لگے جن کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں فرمایا ہے:
| وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ(۲۲)(پ۱۳، الرعد: ۲۲) | ترجمۂ کنز الایمان:اور بُرائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں انہیں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے۔ |
یعنی وہ لوگ نیک عَمَل کر کے ماضی کی کوتاہیوں کو دُور کرتے ہیں۔
بُرائی کے بعد فوراً نیکی کر لو
سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا ابو ذر غِفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ
سے اِرشَاد فرمایا:جب تم کوئی بُرا عَمَل کر بیٹھو تو اس کے فوراً بعد نیک عَمَل کر لو، اگر بُرا عَمَل پوشیدہ ہو تو نیک بھی پوشیدہ اور اگر بُرا عَمَل عَلانیہ ہو تو نیک بھی عَلانیہ کرو۔[1] اور حضرت سَیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے اِرشَاد فرمایا:بُرائی کے بعد نیکی کرو کہ یہ اسے مِٹا دیتی ہے۔[2]
نیکی کا موقع ملے تو ضائع مت کرو
ہر لمحہ نیک اَعمال میں مَصروف رہنا چاہئے تا کہ بندہ نیک لوگوں میں شامِل ہو جائے۔ چنانچہ،
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ(۹)(پ۲۰، العنکبوت:۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو ایمان لائے اور اَچھّے کام کئے ضَرور ہم انہیں نیکوں میں شامِل کریں گے۔
نیکی و بھلائی کے کاموں پر جب بھی قدرت ملے ان پر عَمَل کرنے میں جلدی کرنا چاہئے تا کہ ان اَعمال کی بھی تَلافی ہو جائے جن پر عَمَل نہ کر سکا اور اس کا شُمار صالحین میں ہونے لگے۔ بندہ جب اس مَقام و مرتبہ پر فائز ہوکر خالِص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے اپنی اِصلاح کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ(۱۹۶)(پ۹، الاعراف:۱۹۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔
بندے پر توبہ کے مُعامَلے میں دس باتوں کا خَیال رکھنا لازِم ہے:
(1) ۔۔۔۔بندے پر یہ فَرْض ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی نہ کرے۔
(2) ۔۔۔۔اگر مَعْصِیَّت میں مبتلا ہو جائے تو اس پر اِصْرَار نہ کرے۔
(3) ۔۔۔۔اس مَعْصِیَّت کی بارگاہِ خُداوندی میں حاضِر ہو کر توبہ کرے۔
(4) ۔۔۔۔جو کوتاہی ہوئی اس پر نَدامَت محسوس کرے۔
(5) ۔۔۔۔موت تک نیک کام کرنے پر ثابِت قَدَم رہنے کا پختہ اِرادہ کرے۔
(6) ۔۔۔۔گناہوں پر ہونے والے عَذاب سے ڈرے۔
(7) ۔۔۔۔مَغْفِرَت کی اُمّید رکھے۔ (8) ۔۔۔۔اپنے گناہ کا اِعْتِرَاف کرے۔
(9) ۔۔۔۔یہ اِعتقاد رکھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ سب کچھ اس کے مُقَدّر میں لکھا ہے اور یہ اس کا عَدل ہے۔
(10) ۔۔۔۔نیک اَعمال کرے تا کہ یہ اس کے گناہوں کا کفّارہ بن جائیں۔ کیونکہ رسولِ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: بُرائی کے بعد نیکی کرو کہ یہ اسے مِٹا دیتی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع