30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَصروف ہو، باقی تمام اَعْضَا مَعاصی ترک کر دیں اور بندہ دل میں یہ پختہ اِرادہ کر لے کہ اب کبھی گناہ نہ کرے گا۔
توبہ کے متعلق سَیِّدُنَا سَہْل تُسْتَرِی کی رائے
حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: انسان پر توبہ سے بڑھ کر کوئی شے لازِم نہیں اور توبہ نہ کرنے سے بڑھ کر کوئی عذاب بھی نہیں مگر حالت یہ ہے کہ لوگ توبہ سے غافِل ہیں۔
ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَاد فرمایا:جو یہ کہتا ہے کہ ’’توبہ فَرْض نہیں‘‘ وہ کافِر ہے اور جو ایسے شخص کے قول سے راضِی ہو وہ بھی کافِر ہے۔بلکہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تو یہاں تک فرمایا کرتے کہ سچّی توبہ کرنے والا وہ ہے جو ہر لمحہ اور ہر سانس نیکیوں میں ہونے والی غفلت سے توبہ کرتا ہے۔
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے توبہ نہ کرنے کو اندھا پن قرار دیا اور اسے اِتّباعِ ظَن اور ذِکْرِ خُداوندی کا بھول جانا شُمار کیا، نیز اِرشَادفرمایا: جو گمراہ ہو جاتا ہے ذِکْرِ خُداوندی بھول کر اِتّباعِ ظَن میں مشغول ہو جاتا ہے اور مَغْفِرَت چاہتا ہے مگر توبہ کرتا ہے نہ عجز و انکساری کا اِظْہَار کرتا ہے۔
توبہ کے بعض اَرکان(فرائض) ہیں جوپورے کرنا توبہ کرنے والے پر لازِم اور ضَروری ہیں۔ وہ اپنی توبہ میں ان کے بغیر سچا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ وہ اَرکان یہ ہیں:
(1)…اِقْرارِ گُناہ (2)…نَفْس پر ظُلْم کا اِعْتِرَاف
(3)… خَواہِش کی تکمیل پر نفس پر اِظْہارِ ناراضی (4)…بد عَمَلی پر ترکِ اِصْرار
(5)…جہاں تک مُمکِن ہو رِزْقِ حَلال کا اِسْتِعمال کہ رِزْقِ حَلال اَعْمالِ صَالحین کی اَساس ہے۔
(6)…گزَشْتَہ گُناہوں پر اِظْہَارِ نَدامَت۔
ہر شے کی ایک حقیقت ہوتی ہے، اگر بندہ واقعی (اپنے گناہوں پر)نادِم ہو تو سچی نَدامَت یہ ہے کہ وہ جس فعل پر نادِم ہے دوبارہ کبھی (اس جیسا کوئی)کام نہ کرے۔
اِسْتِقَامَت یہ ہے کہ بندہ ہر وہ کام کرے جس کے کرنے کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حکم دیا ہے اور کوئی ایسا کام نہ کرے جس کے نہ کرنے کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حکم دیا ہے۔
اِسْتِقَامَت کی حقیقت یہ ہے:
٭… بندہ آئندہ زِنْدَگی میں کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے راہِ اِسْتِقَامَت سے بھٹک سکتا ہو۔
٭… ہمیشہ بارگاہِ خُداوندی تک پہنچانے والے راستے پر چلتا رہے اور جاہِلوں کی صحبت سے بچے کہ وہ اسے راہِ حَق سے بھٹکا دیں گے۔
٭… اَیّامِ غفلت میں جس بے راہ روی کا شِکار ہو گیا تھا اس کی اِصْلاح میں مشغول ہو جائے تا کہ اس کا شُمار بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ان نیک بندوں میں ہونے لگے جنہوں نے توبہ کی۔
٭… اپنی گزَشْتَہ زِنْدَگی میں ہونے والے اَعمال کی کوتاہیوں کو سُدَھارنے میں مَصروف ہو جائے۔ کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مفسدین کے عَمَل کی اِصْلاح نہیں فرماتا جس طرح محسنین کا اَجر ضائع نہیں فرماتا۔
(بندہ جب سچی توبہ کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ بُرائی کو بھلائی سے بدل دیتا ہے) لہٰذا بندے کو چاہئے کہ ایسے نیک اَعمال کرے کہ اس کی برائیاں نیکیوں میں اور پھر یہی نیک اَعمال ایسے پسندیدہ اَعمال میں بدل جائیں جو ربِ ذو الجلال کی بارگاہ میں مقبول ہوں۔ اس طرح اس کا شُمار بھی ان نیک بختوں میں ہونے لگے جنہوں نے سچی توبہ کی اور ان کی بُرائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا گیا۔ نیز یاد رکھئے کہ یہ تبدیلی صِرف دنیا ہی میں ممکن ہے اور بُرے اَعمال کو نیک اَعمال سے بدلنے کی دلیل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ- (پ۱۳، الرعد:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں۔
یعنی جب لوگ اپنی حالت بدل دیں اور گناہ چھوڑ کر نیکیاں کرنے لگیں تو ان کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا جاتا ہے۔
گناہوں کی تلافی کے لیے کیا کرے؟
جب بندہ توبہ کے مرتبہ پر فائز ہو تو اسے چاہئے کہ ہمیشہ (اپنے سابقہ گناہوں پر) نَدَامَت اور حُزن و مَلال محسوس کرتا رہے اور جب کبھی (ان گناہوں کی)تلافی کا موقع ملے تو حد سے تجاوُز کرے نہ کوتاہی سے کام لے، گناہ کی طرف دوبارہ لوٹے نہ بُرائی کو نیکی سے بدلنے کے اس موقع کو ہاتھ سے جانے دے،ورنہ اس دوسرے موقع کو بھی ضائع کر دے گا، کیونکہ اس وَقْت میں وہ کام کر سکتا ہے جو پہلے نہ کر سکا تھا،لہٰذا ان نیک اَعمال کو ضائع نہ ہونے دے جن کے کرنے کا اسے خوابِ غفلت سے جاگنے کے بعد موقع ملا ہے۔ ورنہ اس کا حال بیداری کے اس زمانہ میں بھی غفلت میں گزرے حال جیسا ہو جائے گا۔ کیونکہ حالَتِ بیداری میں اس کا فوت شدہ نیک اَعمال کی تَلافی کرتے رہنا (اور جس نیکی کا اب وَقْت ہے اسے نہ کرنا) ایسے ہی ہے جیسے وہ اب بھی غفلت کا شِکار ہے۔ اس لیے کہ ایک فوت شُدہ شے سے دوسری فوت ہو جانے والی شے کی تَلافی ہو سکتی ہے نہ ایک نعمت کے بدلے دوسری نعمت مل سکتی ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًاؕ-(پ۱۱، التوبة:۱۰۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع