30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…٭…٭…٭
٭…٭…٭…٭…٭…٭
فصل نمبر 32
مَقاماتِ یقین اور اَحْوَالِ اَہْلِ یقین کی شرح
مَقاماتِ یقین کے 9 سنہری اُصول ہیں جن کے مُطابِق مُتَّقِیْن کے مُـخْتَلِف اَحْوَال وارِد ہوتے ہیں:
| (1) توبہ | (2) صَبْر | (3) شُکْر | (4)رِجا | (5)خوف |
| (6)زُہْد | (7) تَوَکُّل | (8)رَضا | (9)مَحبَّت |
|
توبہ کے فرائض، فضائل اور تائبین کے اوصاف کا بیان
(1) … عام توبہ اور (2) … خاص توبہ۔
(1 ) … عام توبہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآن ِ کریم میں عام توبہ کا حکْم دیتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۳۱)(پ۱۸، النور:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس اُمّید پر کہ تم فَلاح پاؤ۔
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں یہاں)مُراد یہ ہے کہ اے ایمان والو! اپنا رُخ بارگاہِ خُداوندی کی طرف کر لو اور نفسانی خواہشات سے منہ موڑ لو، جن نفسانی لذّتوں میں گم ہو انہیں چھوڑ دو، اس اُمّید پر کہ آخِرَت میں اپنی یہ سب خواہشات و لذّات پانے میں کامیاب ہو جاؤ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایسی اَبَدِی نعمتیں پا لو جنہیں زوال ہو گا نہ کبھی وہ خَتْم ہوں گی۔ اس لیے بھی (اے اِیمان والو! اپنا رخ بارگاہِ خداوندی کی طرف کر لو)کہ بارگاہِ خُداوندی میں سُرخُرو ہو کر جنّت پانے میں کامیاب ہو جاؤ اور تمہیں جہنّم سے نَجات مل جائے کہ یہی حقیقی فلاح (یعنی کامیابی و کامرانی) ہے۔(2)خاص توبہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے خاص بندوں کو توبہ کا حکم دیتے ہوئے اِرشَادفرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًاؕ-عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۙ- (پ۲۸، التحریم:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آ گے کو نصیحت ہوجائے قریب ہے کہ تمہارا رب تمہاری بُرائیاں تم سے اُتار دے اور تمہیں باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں بہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس آیتِ مُبارَکہ میں توبہ کی صِفَت نَصُوح ذِکر فرمائی ہے جس سے مُراد یہ ہے کہ ایسی توبہ کرو جو خالِص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہو۔ ایک قول کے مُطابِق اس سے مُراد ایسی توبہ ہے جو ہر شے سے خالی ہو اور اس کا تعلّق کسی شے سے ہو نہ کسی شے کا تعلّق اس کے ساتھ ہو۔
توبۂ نَصُوح یہ ہے کہ بندہ طاعَت پر اس طرح ثابِت قَدَم رہے کہ پھر مَعْصِیَّت کی جانِب مائِل نہ ہو اور گناہ پر قدرت کے باوُجُود دوبارہ کبھی اس کا مُرْتکِب نہ ہو بلکہ خالِص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے گناہ اس طرح ترک کر دے جیسے اس نے نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے اس گناہ کا اِرْتِکاب کیا تھا۔
جب کوئی بندہ بارگاہِ خُداوندی میں اس طرح حاضِر ہو کہ اس کا دل نفسانی خواہشات سے پاک ہو اور وہ سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّت کا پیکر بھی ہو تو اسے اچھّے خاتِمہ کی نوید ملتی ہے اور خیر آگے بڑھ کر اسے اپنے دامَن میں چھپا لیتی ہے،اس طرح بندہ توبۂ نَصُوح کی بَرَکت سے تَوَّاب ، مُـتَـطَـھِّر اور حَبِیْب کے مَقام پر فائز ہو جاتا ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ(۲۲۲) (پ۲، البقرۃ: ۲۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ پسند رکھتا ہے بَہُت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔
رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ محتشم ہے:اَلتَّائِبُ حَبِيْبُ اللهِ وَالتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَه۔یعنی توبہ کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حبیب ہے اور گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا۔[1]
توبہ کے متعلق سَیِّدُنَا حَسَن بصری کی رائے
حضرت سَیِّدُناحَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے توبۂ نَصوح کے مُتَعَلّق پوچھا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَادفرمایا:توبہ یہ ہے کہ بندے کا دِل نادِم ہو، زبان ہر لمحہ اِسْتِغْفار میں
[1]………ابن ماجه ، كتاب الزهد ، باب ذكر التوبة ، ۴/ ۴۹۱ ، حدیث: ۴۲۵۰$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع