30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ۲۲۸ ھ میں لوگوں کے سامنے احادیث بیان کرنا چھوڑ دیا تھا جبکہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا وِصال ۲۴۱ ھ میں ہوا۔ اس تمام عرصہ میں سوائے آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے بیٹے حضرت سَیِّدُنا عبداللہ اور حضرت سَیِّدُنا ابن مُنِیع عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْرَفِیْع کے کسی نے بھی آپ سے سماعِ حدیث کا شَرَف حاصِل نہ کیا۔ ابن منیع عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْرَفِیْع کو یہ شَرَف ان کے دادا حضرت سَیِّدُنا احمد بن منیع عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْرَفِیْع کی خُصوصی سِفارش سے ملا تھا۔
٭… حضرت سَیِّدُناامام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان ایک حدیث کا انکار کر دیتے مگر پھر تھوڑی دیر بعد ہمارے پاس تشریف لاتے تو کہتے کہ یہ صحیح ہے میں نے اسے جان لیا ہے۔
٭… مزید فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا وکیع عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْرَفِیْع کبھی بھی کسی حدیث کا انکار نہ کرتے بلکہ جب بھی ان سے کسی حدیث کے مُتَعَلّق پوچھا جاتا تو فرماتے:مجھے یاد نہیں رہا۔
٭… حضرت سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی کے بھانجے فرماتے ہیں کہ میرے ماموں نے ایک مرتبہ بعض احادیث پر لکیر کھینچ دی مگر پھر انہیں صحیح قرار دے دیا اور میں نے انہیں پڑھ کر سنائیں، پھر میں نے عرض کی: آپ نے تو ان پر لکیر کھینچ دی تھی۔ اِرشَاد فرمایا:ان پر لکیر کھینچنے کے بعد میں نے سوچا کہ اگر میں نے انہیں ضعیف قرار دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ان کے نقل کرنے والے کو عادِل نہیں سمجھ رہا۔ اب اگر بارگاہِ خداوندی میں اس نے مجھے پکڑ کر پوچھ لیا کہ تم نے مجھے عادِل کیوں نہیں سمجھا؟ کیا تم نے مجھے کوئی ایسا کام کرتے دیکھا یا میری زبان سے کوئی ایسی گفتگو سنی؟ تو میرے لیے اس وَقْت چھٹکارا و نَجات پانے کی کوئی حُجّت نہ ہو گی۔
متقی وپرہیزگار سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کا یہی مذہب تھا کہ وہ ضعیف روایات کو بھی مردود نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ ان میں سے کسی کا قول ہے کہ ہم نے حضرت سَیِّدُناشُعْبہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس اس لیے چھوڑی کہ وہ ہمیں غیبت میں اپنا شریک بنا لیتے تھے۔[1] اس لیے کہ ان کی باتیں راوِیوں کے ضُعْف کے بارے میں ہوتی تھیں۔ ایک بزرگ راوِیوں کو ضعیف قرار دینے کے مُتَعَلِّق فرمایا کرتے کہ اگر تم اس فعل سے اللہعَزَّ وَجَلَّ کی رضا چاہتے ہو تب بھی تمہیں کوئی فائدہ ہو گا نہ نقصان۔
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)میں نے جو چند باتیں ذکر کی ہیں یہ مَعْرِفَتِ حدیث میں اُصُول کا درجہ رکھتی ہیں اور مَعْرِفَتِ حدیث ایک ایسا عِلْم ہے جو صِرف عارفین ہی جانتے ہیں اور یہی ایک ایسا راستہ ہے جس پر وہ چلتے ہیں۔ مگر سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے بعد اب ایسی قوم پیدا ہو چکی ہے جن کے پاس کوئی خاص عِلْم ہے نہ ان کی علمی حالَت قابلِ ذکر ہے بلکہ ان کا تو عِبادَت سے بھی کوئی کام نہیں۔ انہوں نے سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کا راستہ چھوڑ کر اپنے نُفوس کے بہلاوے کے لیے ایک ایسا عِلْم بنا لیا ہے جس میں نہ صِرف خود مصروفِ عَمَل ہیں بلکہ جو ان کی باتیں سنتا ہے وہ بھی اس عِلْم میں مشغول ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ کِتابیں لکھنے میں مصروف ہیں اور انہوں نے اَخبار و آثار کے نقل کرنے والوں کے معلول ہونے کے مُتَعَلّق کلام کرنا شروع کر دیا ہے اور اب وہ اس تلاش میں ہیں کہ ناقلینِ احادیث کی لغزشوں کو جان سکیں۔ اس طرح انہوں نے بدمذہبوں کے لیے یہ راستہ فراہم کر دیا ہے کہ جب وہ رِوایات میں طعن دیکھیں تو سُنَن کو ردّ کر دیں اور رائے اور قیاس کو ترجیح دیں۔ نیز جب لوگوں کو بِالْخُصُوص اس زمانے میں سنّت سے ہٹا ہوا پائیں تو اپنے نظر و قِیاس پر عَمَل کرنے پر رشک کریں۔
جان لیجئے کہ وہ تمام اَحادِیْثِ مُبارَکہ جو اُمُورِ آخِرَت کی ترغیب دلائیں، دنیا سے کنارہ کشی اِخْتِیارکرنے پر آمادہ کریں،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وعیدوں سے ڈرائیں اور اَعمال و اَصحاب کے فضائل و مَناقِب کے بارے میں مروی ہیں، ہر حال میں قبول کی جائیں گی، خواہ مقطوع و مُرسَل ہی ہوں۔ ان سے منہ پھیرا جا سکتا ہے نہ انہیں ردّ کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح جن اَحَادِیْثِ مُبارَکہ میں قِیامَت کی ہولناکیوں،اس کے زلزلوں اور دوسری بڑی بڑی مصیبتوں کا ذکر ہے، انہیں عقل کے پیمانے پر تولتے ہوئے ماننے سے اِنکار نہ کیا جائے گا بلکہ تصدیق و تسلیم کرتے ہوئے انہیں قبول کیا جائے گا۔ سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کا یہی طریقہ تھا۔ اس لیے کہ عِلْم اسی بات پر دلالت کرتا ہے اور اُصُول بھی اسی بارے میں مروی ہیں۔ چنانچہ،
مروی ہے کہ جسے کتاب و سنّت سے کوئی فضیلت معلوم ہو اور وہ اس پر عَمَل کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اس پر عَمَل کا ثواب عطا فرماتا ہے اگرچہ ویسا نہ ہو جیسے کہا گیا تھا۔ایک رِوایَت میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جو کوئی حق بات بیان کرے تو گویا میں نے ہی وہ حق بات کی ہے اگرچہ میں نے وہ بات نہ بھی کہی ہو۔ لیکن اگر کوئی باطِل رِوایَت کی نِسْبَت میری طرف کرے تو جان لو کہ میں باطِل بات کبھی نہیں کرتا۔
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) اس کِتاب میں ہم نے جو کچھ تحریر کیا ہے اس کے مُتَعَلّق ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی اَعْلَم و اَحکَم ہے، اس کا عِلْم مُقَدّم ہے، وُہی عُلوم کے حقائق جانتا ہے، اسی کی جانِب تمام لوٹیں گے اور جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی حقیقی مددگار ہے۔ ہم میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَدَد کے بغیر نیکیاں کرنے کی قوّت ہے نہ بُرائیوں سے بچنے کی طَاقَت۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
٭…٭…٭…٭
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
[1]………غیبت کے یہ معنیٰ ہیں کہ کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو (جس کو وہ دوسروں کے سامنے ظاہِر ہونا پسند نہ کرتا ہو) اس کی بُرائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا اور اگر اس میں وہ بات ہی نہ ہو تو یہ غیبت نہیں بلکہ بہتان ہے۔ (بہارِ شریعت ، ۳/ ۵۳۲) غیبت چونکہ حَرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے لہٰذا بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِینبالخصوص صُوفِیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَامہر ایسی گفتگو سے بچنے کی کوشش کیا کرتے تھے جو غیبت شُمار ہوتی۔ یہاں صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے بھی اسی جانِب اِشارہ کیا ہے۔ حالانکہ مذکورہ صُورَت یعنی راویوں کا ضعف
وغیرہ بیان کرنا غیبت میں شُمار نہیں ہوتا ، جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے: حدیث کے راویوں اور مُقدَّمہ کے گواہوں اور مصنفین پر جرح کرنا اور ان کے عُیوب بیان کرنا جائز ہے اگر راویوں کی خرابیاں بیان نہ کی جائیں تو حدیث صحیح اور غیر صحیح میں امتیاز نہ ہوسکے گا۔ اسی طرح مصنفین کے حالات نہ بیان کیے جائیں تو کُتُبِ مُعْتَمِدہ وغیر مُعْتَمِدہ میں فرق نہ رہے گا۔ گواہوں پر جرح نہ کی جائے تو حُقُوقِ مسلمین کی نگہداشت نہ ہوسکے گی۔(بہارِ شریعت ، ۳/ ۵۳۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع