دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

پاس تھیں اور ان تک ہماری رسائی بھی ممکن تھی لہٰذا ہم نے ان میں اَلفاظ کا بھی خیال رکھا اور جو ہماری پہنچ سے دور تھیں اور ہم انہیں حاصِل بھی نہ کر سکے تو ان کی خاطِر زیادہ کوشِش بھی نہ کی۔ اب ہم اس سلسلے میں اگر حَق پر ثابِت قدم رہے ہیں تو یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی عطا کردہ بہترین توفیق اور تائید کی بدولت ہے اور اگر اس میں کوئی خَطا ہو گئی ہے تو یہ ہماری غَلَطی ہے جو غفلت کا نتیجہ ہے۔ یا ہم سے کہیں نِسیان و عُجلت کا مُظاہَرہ ہوا ہے تو یاد رکھئے کہ نسیان و عُجلت کا مُظاہَرہ ہمیشہ شیطانی عَمَل دخل سے ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم بھی وہی کہیں گے جو حضرت سَیِّدُنا  ابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی رائے سے فیصلہ کرتے ہوئے اِرشَادفرمایا تھا یعنی ہمارا قول ان کی رائے کے تابع ہے۔ چنانچہ،

مروی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:بیان اور ثابِت قَدَمی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا ہے اور عُجلت و نِسیان شیطان کی پیداوار ہے۔[1] یعنی عُجلت و نِسیان کا واسِطہ وسَبَب شیطان ہے،نیز بندے کا توفیق کی کمی کا شِکار ہونا بھی عُجلت کا ایک سَبَب ہے۔

روایت بالمعنی میں شرط

(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)میں نے جہاں کثیر روایات میں اَلفاظ کا اِہتِمام نہیں کیا وہیں تمام روایات میں مَفہوم و معنیٰ سے بھی رُوگردانی نہیں کی۔ کیونکہ میرے نزدیک اَلفاظ کا اِہتِمام لازِم و ضَروری نہیں بشرطیکہ جب آپ رِوایَت بالمعنٰی کریں تو آپ پر لازِم ہے کہ آپ کلام میں ہونے والی تبدیلی اور مختلف مَعانی و مَفاہیم کے فرق کو بخوبی جانتے ہوں اور تحریف یا لفظی ہیر پھیر سے بھی اِجْتِنَاب کریں۔

صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ایک جماعت نے بھی رِوایَت بالمعنٰی میں رُخْصَت دی ہے۔ ان میں سے حضرت سَیِّدُنا  علی، ابن عباس، اَنَس بن مالِک، واثِلہ بن اَسْقَع اور ابو ہُریرہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی شامِل ہیں۔ تابعین کی بھی ایک کثیر تعداد رِوایَت بالمعنٰی کی قائل تھی جن میں اِمامُ الاَئمّہ حضرت سَیِّدُنا  حَسَن بصری، امام شعبی، عَمْرو بن دینار، ابراہیم نخعی، مُجاہِد و عِکْرِمَہ جیسے جلیل القدر بزرگ شامِل ہیں۔ ہم نے ان کی کِتابوں سے یہ اَخبار و آثار اَلفاظ کی تبدیلی کے ساتھ نقل کئے ہیں۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُناامام ابن سیرین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالمَتِین فرماتے ہیں کہ میں ایک ہی حدیث 10 راویوں سے سنتا تو سب کے اَلفاظ مختلف ہوتے مگر مفہوم ایک ہی ہوتا۔

سرکارِ اَبَد قَرار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَحادِیْثِ مُبارَکہ کی رِوایَت میں صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے اِخْتِلاف مروی ہے۔ کیونکہ ان میں سے بعض مکمل روایات بیان کرتے تو بعض مختصر اور بعض صِرف معنیٰ و مَفہوم کو ہی کافی جانتے اور بعض دو۲مُتَرَادِف لفظوں میں تَغیروتبدّل کی وُسْعَت پاتے کہ معنیٰ و مَفہوم میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہو رہی تو ایک لفظ کو دوسرے سے بدل دیتے ۔ مگر ایسا وہ اپنی خواہش کی بنا پر کرتے نہ ان کا جھوٹ باندھنے کا کوئی ارادہ ہوتا بلکہ ان سب کا مقصد تو سچ بیان کرنا اور جو سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا تھا اس کا مفہوم بیان کرنا ہوتا۔ پس اس لیے احادیث کی رِوایَت میں انہوں نے وُسْعَت سے کام لیا اور وہ کہا کرتے کہ جھوٹ کا اِطلاق اس پر ہوتا ہے جو جان بوجھ کر جھوٹ بولے۔

حضرت سَیِّدُنا  عمران بن مسلم رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سَیِّدُنا امام حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے عرض کی:اے ابو الحسن! بے شک آپ حدیث بیان کرتے ہیں (اور ہم بھی ) مگر جب آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو آپ کے بیان کرنے، لکھنے اور بولنے کا انداز بَہُت خوب ہوتا ہے۔اِرشَاد فرمایا:جب تم معنیٰ و مَفہوم کی حقیقت تک پہنچ جاؤ تو ایسے انداز میں کوئی حرج نہیں۔

حضرت سَیِّدُنا  نَضْر بِن شُمَیل نحوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا  ہِشام رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  ماہرِ کلام تھے مگر میں تمہارے سامنے ان کی باتوں کو اِعراب (یعنی زیر،زبر اور پیش وغیرہ)کا لِباس پہنا کر پیش کرتا ہوں۔

صاحبِ قُوت کا اُسْلُوبِِ روایت

(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) ہم جب بھی کوئی رِوایَت  نقل کرتے ہیں تو اس کے مُتَعَلّق کہتے ہیں:او کما قیل، نحوہ ،شبھه، بمعناھا۔ حضرت سَیِّدُنا  ابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی جب کوئی حدیث بیان کرتے تو ایسے ہی کہتے اور حضرت سَیِّدُنا سلیمان تمیمی[2] عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی بھی جو حدیثِ پاک بیان کرتے ایسے ہی کہتے۔

حضرت سَیِّدُنا  سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے کہ جب تم کسی شخص کو اَلفاظِ حدیث کے مُعامَلے میں سختی سے عَمَل کرتے ہوئے پاؤ تو جان لو کہ وہ در حقیقت یہ کہہ رہا ہوتا ہے: مجھے پہچان لو۔

منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت سَیِّدُنا  یحییٰ بن سعید قطان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان سے کسی حدیثِ پاک کے اَصلی اَلفاظ کے مُتَعَلّق پوچھا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَادفرمایا:اے فلاں! ہمارے پاس اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی کِتاب سے بڑھ کر کوئی عظیم شے نہیں مگر اس میں بھی سات۷قرأتوں کی رُخْصَت دی گئی ہے، لہٰذا حدیثِ پاک کے اَلفاظ میں شِدّت مَت اِخْتِیارکر۔

مقطوع ومُرْسَل روایات کو شاملِ کتاب کرنے کی وُجُوہات

(صاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہم نے اپنی اس کِتاب میں بعض مُرْسَل اور مقطوع روایات بھی ذکر کی ہیں اور بعض ایسی روایات بھی ہیں جن کی سند میں کلام کیا گیا ہے،مگر یاد رکھئے کہ ایک مقطوع ومُرْسَل رِوایَت سند کے بعض راویوں کے لحاظ سے صحیح بھی ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ راوی اَئمّۂ حدیث ہوں۔

اس کے لیے ہم نے ایسی روایات کو بعض وُجُوہ کی بنا پر اپنی اس کِتاب میں نَقْل کیا ہے:

٭… ہمیں ان روایات کے باطِل ہونے کا یقین نہیں۔

 



[1]………مسند ابی یعلٰی ،  مسند انس بن مالك ،  ۳/  ۴۴۳ ،  حدیث:  ۴۲۴۰ ، بدون ذکر النسیان

[2]………حضرت سَیِّدُنا سلیمان تمیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کی نِسْبَت میں  اِخْتِلاف مروی ہے بعض کُتُب میں  تمیمی کی جگہ تیمی مروی ہے۔ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 826صفحات پر مشتمل کتاب قوت القلوب اردو جلد اول کے صفحہ نمبر 108 پر جو تَسْبِیْحَاتِ اَبِی الْـمُعْتَمِر مذکور ہیں  وہ انہی کی طرف منسوب ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بصرہ کے مشہور بزرگانِ دین میں  سے ہیں ۔ آپ کی کنیت ابو المعتمر ہے ،  آپ نے حضرت سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے احادیث رِوایَت کیں  جبکہ آپ سےحضرت سیدنا سفیان ثوری و شُعبہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِماوغیرہ نے احادیث روایت کیں ۔ وصال ۱۴۳ہجری میں  ہوا۔ آپ کے شہزادے حضرت معتمر بن سلیمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان قسم اٹھا کر فرماتے کہ میرے والد گرامی نے 40 سال تک عشاء کے وُضو سے فجر کی نماز ادا فرمائی۔ آپ کے وِصال کے بعد حضرت سَیِّدُنا رقبہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  کہ میں  نے خواب میں  رب العزت کا دیدار کیا تو مجھے فرمایا گیا:  میری عزّت کی قسم! میں  ضرور سلیمان تیمی کی اُخروی آرام گاہ کو عزّت و کرامت سے نوازوں  گا۔

(الثقات لابن حبان ،  الرقم :  1418 سلیمان بن طرخان التیمی ،  ۲/  ۱۸۳)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن