دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

نے ہر صَانِع اور اس کی صَنْعَت کو پیدا کیا ہے۔[1]

ہر ایک نے اپنا کام خود پسند کیا

مَنْقُول ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جب عَدَم میں مخلوق کو ظاہِر فرمایا تو ان کے لیے ہر قِسْم کے صَانِع کو ظاہِر فرما کر انہیں اِخْتِیار دیا، لہٰذا ہر ایک نے اپنی صَنْعَت پسند کر لی۔ چنانچہ جب وہ انہیں وُجُود کی دولت عَطا فرماتا ہے تو ہر ایک پر اس کی پسند کردہ صَنْعَت کے مُطابِق حکْم جارِی فرماتا ہے۔ مگر (عَدَم میں) ایک گِروہ نے کوئی چیز پسند نہ کی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس گِروہ کے لوگوں سے اِرشَادفرمایا:تم بھی کچھ پسند کر لو۔انہوں نے عَرْض کی: ہم نے جو چیزیں دیکھی ہیں ان میں سے کوئی بھی شے ہمارے دِل کو اَچھّی نہیں لگی کہ ہم اسے پسند کرلیتے۔ لہٰذا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان لوگوں پر عِبَادَت کے مَقامات ظاہِر فرمائے تو انہوں نے عَرْض کی: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ! ہم تیری عِبَادَت و خِدْمَت کو پسند کرتے ہیں۔تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اِرشَادفرمایا:مجھے میری عزّت و جَلال کی قَسَم! میں ان دوسرے لوگوں کو تمہاری خِدْمَت پر لگا دوں گا اور انہیں تمہارے لیے مُسَخَّر کر دوں گا۔

دنیا کس کی خادم ہے؟

ایک رِوایَت میں ہے کہ دو۲ جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے دنیا کی طرف وَحِی فرمائی: جو میری خِدْمَت کرے تواس کی خِدْمَت  کر،مگر جو تیری خِدْمَت کرے تو اسے تھکا دے۔ [2]

عِبَادَت و خدمت کا باہمی تعلق

عِبَادَت ہی خِدْمَت ہے اور اسی سے بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کا یہ قول ہے: اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَـكَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ، وَاِلَيْكَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ۔یعنی ہم تیری ہی عِبَادَت کرتے ہیں، تیرے لیے ہی نَماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں، تیری طرف ہی سَعی کرتے اور جَلْدی کرتے ہیں۔ مَطْلَب یہ ہے کہ ہم تیری خاطِر عَمَل کرتے ہیں اور ہم تیری ہی خِدْمَت بجا لاتے ہیں۔

یہ قول ایک تفسیر کے مُطابِق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کی طرح ہے:

جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً            (پ ۱۴، النحل:۷۲)

ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہارے لئے تمہاری عورتوں سے بیٹے اورپوتے نواسے پیدا کیے۔

یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے تمہارے بیٹوں اور پوتوں، نواسوں کو تمہاری خِدْمَت گاری کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ کیونکہ عِبَادَت کا مَطْلَب بھی عاجِزی و اِنکساری کے ساتھ خِدْمَت کرناہے ۔ چنانچہ جس راستے كو لوگ کَثْرَت سے اپنے پاؤں تلے رَوندیں اور وہ ہموار ہو گیا ہو تو عَرَب اس راستے كو طَرِيْقٌ مُّعَـبَّدٌ کہتے ہیں۔اسی طرح جو اُونْٹ بَہُت زیادہ سَفَر کرنے اور بَوجھ اُٹھانے کی وجہ سے کمزور ہوجائے اسے بَعِيْرٌ مُّعَـبَّدٌ کہتے ہیں۔قرآنِ کریم میں یہ لَـفْظ کچھ یوں مَذْکُور ہے:

اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ(۴۷) (پ ۱۸، المؤمنون:۴۷)      

ترجمۂ کنز الایمان:کیا ہم اِیمان لے آئیں اپنے جیسے دو۲ آدمیوں پر اور ان کی قوم ہماری بَنْدَگی کررہی ہے۔

قِبْطِیُوں کے اس قول سے ان کی مُراد بنی اِسرائیل تھے، یعنی انہوں نے یہ کہا کہ بنی اِسرائیل ہمارے خادِم ہیں، ہم انہیں ذلیل کرتے ہیں اور ان سے مزدوری و مَشَقَّت کے کام لیتے ہیں۔

جوجس کے لائق تھا اس کے سپرد وہی کام ہوا

کسی عارِف کا قول ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے  اپنے بندوں میں سے ایک گِروہ کے دِلوں کو دیکھا تو انہیں اپنی مَعْرِفَت کے لائق پایا نہ اپنے مُشاہَدے کے قَابِل انہیں جانا تو ان پر رَحْم فرمایا اور انہیں عِبادات اور نیک اَعمال کی توفیق عَطا فرما دی۔ پھر ایک دوسرے گِروہ کے دِلوں کو دیکھا تو ان کے ظاہِری اَعْضَا کو اپنی خِدْمَت کے لائق پایا نہ اپنے مُعامَلہ کا اَہْل جانا تو انہیں دنیا کے کاموں میں لگا دیا اور انہیں دنیا والوں کا خادِم بنا دیا۔ (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانِ عالیشان بھی اسی سے تعلق رکھتا ہے کہ دِرْہَم و دِینار کا غُلام (یعنی خادِم) ہلاک ہوا، بیوی کا غُلام بھی ہلاک ہوا، دھاری دار جُبے کا غُلام (یعنی آرائشی لِباس پہننے والا)بھی ہلاک ہوا۔[3]

مُراد یہ ہے کہ یہ لوگ ان اَشیا کے حُصُول کے لیے ذِلَّت اٹھاتے اور خوب سعی و کوشِش کرتے ہیں۔ حضرت سَیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام سے مَرْوِی رِوایات میں ہے (کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں وَحِی فرمائی):میں نے اپنے مَحْبُوب محمد کو اپنی خاطِر پیدا کیا اور آدَم کو اپنے حبیب محمد کی خاطِر پیدا کیا اور باقی ساری مخلوق اولادِ آدَم کی خاطِر پیدا کی۔ لہٰذا جو شخص اس شے میں مَصروف ہو گا جو میں نے اس کی خاطِر پیدا کی ہے تو وہ شے اسے مجھ سے دُور کر دے گی مگر جو شخص (سب سے منہ موڑ کر) میری یاد میں مَشْغُول ہو گا میں ہر اس شے کا رخ اس کی طرف کر دوں گا جو میں نے اس کی خاطِر پیدا کی ہے۔

تمت المجلد الثانی بحمد اللہ تعالٰی

٭٭٭٭٭٭

٭٭٭

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

٭٭٭

 



[1]………السنة لابن ابی عاصم ،  باب رقم:  ۸۰ ،  ص۸۱ ،  حدیث:  ۳۶۶

[2]………موسوعة ابن ابی الدنیا ،  کتاب ذم الدنيا ، ۵/ ۱۸۳ ، حدیث:  ۴۳۹

[3]………بخاری ،  کتاب الجھاد والسیر ، باب الحراسة فی الغزو فی سبیل اللہ  ، ۲/ ۲۷۷ ، حدیث:  ۲۸۸۷ ، بدون:  عبدالزوجة

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن